حسن ظن :تعمیر انسانیت اور صالح معاشرے کی بنیاد

 ڈاکٹر جہاں گیر حسن مصباحی 


حسن ظن ایک ایسی خوبی ہے جس کی معنویت وافادیت سے ہم چاہ کر بھی انکارنہیں کرسکتے ،اگر ہم حسن ظن کو دل سے اپنالیں تو اِس میں دورائے نہیں کہ ہم دینی اوردنیوی ہر طرح کے اختلافات و اِتہامات سے پاک وصاف ہوجائیں،کیوں کہ حسن ظن نہ صرف مسلمانوں کا ایمانی زیورہے،بلکہ یہ آپسی ہم آہنگی،صلح ومصالحت، اتفاق و اتحاد اور معاشرت انسانی کی صلاح وفلاح کے لیے ناگزیربھی ہے۔اللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے کہ’’اے ایمان والو!بہت گمانوں سے بچو،بلاشبہ بعض گمان گناہ ہیں ۔‘‘(حجرات:12)
بدگمانی سے بچنے کا واضح مطلب ہے کہ ہم خودکو حسن ظن سے آراستہ کریں ورنہ اس کا اثر یہ ہوگا کہ نہ ہم اپنے اندرپیدا ہونے والے انتشارواختلاف کو روک پائیں گے اور نہ ہی انسانی معاشرے کی صالح تعمیرکرپائیں گے ،جب کہ نفس کا تزکیہ اور معاشرے کی صالح تعمیروتشکیل ہماری دینی اور دنیوی دونوں ذمہ داری ہے،اوراِسی ذمے داری کی صحیح انجام دہی کی وجہ سے ہماری عبادتوں میں حسن اور نکھارپیداہوتاہے۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ’’حسن ظن بہترین عبادت ہے۔(ابوداود،باب فی حسن الظن،ح:4995)
 یہاں ایک سوال پیداہوتاہے کہ اللہ رب العزت جو بادشاہوں کا بادشاہ اور حاکموں کا حاکم ہے ،بندوں کے تمام عیوب ونقائص جانتے ہوئے بھی اُن کی عیب پوشی کرتارہتا ہے پھر کیا وجہ ہے کہ ہم عبدالستارہوکربھی اپنے کسی بھائی کی عیب پوشی نہیں کرپاتے ہیں اورحسن ظن کی تاکیدوتلقین ہونے کے باوجوداپنے بھائی کے ساتھ حسن ظن نہیں رکھ پاتے ہیں۔
اسی طرح اگرکوئی ناگواربات ہمارے بڑوںکے بارے میں کہی جاتی ہے تو وہ ہمیں بُری لگ جاتی ہے اورہم اُسے کسی بھی طرح ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے ،لیکن وہی بات اگر کسی اورکے بڑوں کے بارے میں کہی جاتی ہے تو وہ ہمیں اچھی لگ جاتی ہے اورہم بڑی آسانی سے اُسے مان لیتے ہیں،جب کہ حسن ظن کا تقاضا یہ ہے کہ جس بات کوہم اپنے اکابرکے لیے معیوب سمجھتے ہیں اس کو ہرکسی کے اکابرکے لیے بھی معیوب سمجھیں اور جسے ہم اپنے اکابرکے لیے اچھا سمجھتے ہیں اُسے دوسروں کے اکابر کے لیے بھی اچھا سمجھیں۔
 اس کے علاوہ کبھی ایسا بھی ہوتاہے کہ فردمخالف صحیح العقیدہ مومن ہے اورپابندشریعت بھی،اس کے باوجوداگر وہ کوئی مدلل بات بھی کہتا ہے تو ہم بلاسوچے سمجھے اُس کو رَدکردیتے ہیں،جب کہ فردموافق صحیح العقیدہ مومن توہے مگرپابندشریعت نہیں،اگروہ کوئی بات کہتا ہے غیرمدلل ہی سہی ،پھربھی ہم اُسے نہ صرف خودقبول کرتے ہیں بلکہ دوسروں سے بھی قبول کروانے کے لیے پورا زور لگادیتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوتاہے کہ دینی اور دنیوی دونوں سطحوں پراختلاف وانتشار اور فتنہ وفساد کا بازارگرم ہوجاتا ہے، ایسے حالات میں حسن ظن کی معنویت واہمیت بڑھ جاتی ہے ،کیوں کہ ایسے وقت میں اگرہم حسن ظن سے کام لیتے ہیں تو نہ صرف امن وآشتی، آپسی ہم آہنگی، صلح ومصالحت اوراتحادواتفاق کو فروغ دیتے ہیں،بلکہ معاشرتی انتشارواختلاف ختم کرنے کے ساتھ ساتھ قرب الٰہی کے بھی حق دار ہوتے ہیں۔
چنانچہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایاہے کہ’’اے لوگو!اللہ تعالیٰ کے ساتھ حسن ظن رکھو،کیوں کہ اللہ اپنے بندوں کے حسن ظن سے زیادہ قریب ہے۔‘‘(شعب الایمان ،باب الرضامن اللہ) یہی وجہ ہے کہ علمائے ربانی اورمشائخ کرام نے ہمیشہ حسن ظن سے کام لیا ہے اور اگرکبھی کسی سے بدگمانی ہوئی بھی تواُس کو اپنے ہی تک محدود رکھا ، کسی پر ظاہر ہونے نہیں دیا،کیوں کہ کسی سے بدگمان ہونااورپھر اس کا اظہارکرناگناہ ہے۔
 اس پر روشنی ڈالتے ہوئے حضرت سفیان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ’’بدگمانی دوطرح کی ہوتی ہیں،ایک بدگمانی گناہ ہے اور ایک بدگمانی گناہ نہیں ۔جوبدگمانی گناہ ہے وہ یہ ہے کہ کسی سے بدگمان بھی رہے اور اُس کاپروپیگنڈ ہ بھی کرے اور جوبدگمانی گناہ نہیں ہے وہ یہ ہے کہ کسی سے بدگمان تورہے لیکن اُس کاپروپیگنڈہ نہ کرے۔‘‘(ترمذی،باب ماجاء فی ظن السوء ،حدیث:1988)
اس لحاظ سے ہمیں عملی طورپر اپنااپنا محاسبہ کرناہوگا کہ ہم کہاںتک حسن ظن کے زیور سے مزین ہیں اور جس کوہم حسن ظن سمجھ رہے ہیں وہ حسن ظن ہے بھی یا نہیں۔کہیں ایسا تونہیں کہ ہم احباب واقارب کے عیوب ونقائص کو بھی اپنے حسن ظن کی وجہ سے محاسن وخوبیاں شمارکررہے ہیں اوراُن کی بڑی سے بڑی خرابیوں پر بھی پردہ ڈال رہے ہیں،اس کے برخلاف دشمنوں کے محاسن و خوبیوں کو بھی عیوب ونقائص گمان کررہے ہیں،اُن کی چھوٹی چھوٹی برائیوں کو بھی بڑا کرکے بیان کررہے ہیں اورمزہ لیلیکر اُس کا پروپیگنڈہ بھی کررہے ہیں،اگرایسا ہے توجان لیں کہ ہم حسن ظن سے کوسوں دور ہیں۔
 (ایڈیٹر ماہنامہ خضرراہ،الہ آباد)