آج صبح اپنے چچا جی کے ساتھ حضرت شاہ دولہ رحمہ اللہ کے مزار شریف پر حاضر ہوا ۔

جب ہم دروزاے سے داخل ہونے لگے تو چچا جان نے قریبی دُکان سے کچھ چڑھاوا خریدنا چاہا ، جس پر میں نے انھیں منع کیا اور عرض کی:

یہ جو چاندی کے مجسمے ، ہاتھ ، گھٹنے کان وغیرہ پڑھے ہیں ان کا دربار شریف پر چڑھاوا چڑھانا سخت گناہ ہے ۔

کیا ہم کسی ولی اللہ کے مزار پر ہندووں کی طرح رسومات ادا کر کے اللہ کا قرب حاصل کریں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔توبہ توبہ ، ہر گز نہیں !!

چچا جی میری بات سمجھ گئے اور اپنے ارادے سے باز آگئے ، اللہ انھیں جزاے خیر دے ۔

پھر میں نے انھیں مسئلہ بتایا کہ ہماری فقہ حنفی کی مشہور کتاب درمختار میں لکھاہے:

جونذر اولیاے کرام کا قرب حاصل کرنے کے لیے ان کی قبروں پر لےجاتے ہیں ” فَھُوَ بِالِْاجْمَاعِ بَاطِلٌ وَّحَرَامٌ ، وہ بالاجماع باطل اور حرام ہے ۔ “

ہونا یہ چاہیے کہ جب مزارات اولیا پر لنگر وغیرہ لے کر جائیں تو اسے صاحب مزار کا قرب حاصل کرنے کے لیے نہیں ، بلکہ اللہ کا قرب حاصل کرنے کے لیے ، فقرا و مساکین پر صدقہ کرنے کی نیت سے لے کرجائیں !

مزارات اولیا پر ضرور جانا چاہیے لیکن شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے ۔

مزارات کا طواف کرنا ، انھیں سجدے کرنا ، وہاں گھڑولیاں بھرنا ، عورتوں مردوں کا جمع ہونا ، غلط قسم کے چڑھاوے چڑھانا سب ناجائز کام ہیں ۔

بلکہ سیدی اعلی حضرت رحمہ اللہ کے نزدیک تو مزار کو بوسہ دینا اور چھونا بھی مناسب نہیں ۔

جائزیہ ہے کہ:

مزار شریف کے پاس تلاوت قرآن پاک کی جائے ، درود و سلام پڑھا جائے اور اللہ کے حضور دعا کی جائے ۔

لقمان شاہد

4/12/2018 ء