مستشرقین اور اسلامی جہاد

مستشرقین اور اسلامی جہاد

محمد رضا عبدا لرشید، نوری مشن مالیگائوں

Orientalisمستشرقین کا مقصد اولین اسلام کی اشاعت کو روکنا اور مسلمانوں کے دلوں میں ان کے دین کے متعلق شکوک وشبہات پیدا کرنا ہے۔اپنے اس مقصد کے حصول کے لئے وہ اسلام کو ہر قسم کی خوبیوں سے عاری ثابت کرنے کی کوشش میں مصروف رہتے ہیں ۔ان کے مقاصد درج ذیل ہیں ۔

(۱) سیرت رسول اپر اعتراضات ۔

(۲) قرآن اور وحی الٰہی کے نزول پر اعتراضات۔

(۳) احادیث کو غلط روایات کے ذریعہ پیش کرنا ۔

(۴) اسلامی جہاد پر الزام عائد کرنا کہ جہاد لوٹ مار کے لئے کیا جاتا

تھا وغیرہ۔

’’مستشرقین اور اسلامی جہاد‘‘ہم اسی عنوان پر کچھ عرض کرنے کی کوشش کریں گے ۔

اگر ہم مشرکین مکہ کی ان تمام زیادتیوں کا جائزہ لیں جو ابتدائے اسلام میں کی گئیں تو یقینا جہاد کا اصلی چہرہ ہمیں نظر آجائیگا ،اور اگر ہم ان زیادتیوں پر خاموش رہتے اور دین کے دشمنوں کو کھلی آزادی دے دیتے تو مستشرقین کو اسلام اور مسلمانوں پر کوئی اعتراض نہ ہوتا ۔ کیونکہ اس صورت میں اسلام کا وہی انجام ہوتا جو وہ دیکھنا چاہتے ہیں لیکن ایسا نہیں ہوا بلکہ جب کفار مکہ کی سر مستیاں تما م حدوں سے تجاوز کرگئیں تو مکافات عمل کا قانون حرکت میں آیا اور پروردگار عالم نے مسلمانوں کو کافروں کے ساتھ دودوہاتھ کرنے اور ان کے غرور کو خاک میں ملانے کی اجازت دے دی ۔ارشاد خداوندی ہوا ۔

’’ پروانگی عطا ہوئی انہیں جن سے کافر لڑتے ہیںاس بنا پر کہ ان پر ظلم ہوا اور بے شک اللہ ان کی مدد کرنے پر ضرور قادر ہے،وہ جو اپنے گھروں سے ناحق نکالے گئے ۔صرف اتنی بات پر کہ انہوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے اور اللہ اگر آدمیوں میں ایک دوسرے سے دفع نہ فرماتا تو ضرور ڈھا دی جاتیں خانقاہیں اور گرجا اور کلیسا اور مسجدیں جن میں اللہ کا بکثرت نام لیا جا تا ہے اور بے شک اللہ مدد فرمائے گا اس کی جو اس کے دین کی مدد کرے گا بیشک اللہ قدرت والا غالب ہے‘‘ ۔

( سورۃ الحج ،۳۹،۴۰ترجمہ کنزالایمان شریف)

مستشرقین ( Orientalis) نے اپنے تخیل کے زور پر اسلامی جہاد کے دواسباب تراشے ہیں ۔

(۱) لوگوں کو زبر دستی مسلمان بنانا ۔(۲) جہاد کے نا م پر ڈاکے ڈال کر دولت اکٹھی کرنا ۔

ایک مشہور مستشرق جارج سیل ،حضورﷺ اور جہاد اسلامی پر اپنی کتاب ’’ The Koran‘‘ میں لکھتا ہے ’’ یو ں محسوس ہوتا ہے کہ اپنی دعوت کے پہلے بارہ سالوں میں آپ کا یہ غیر مزاحمانہ اور معتدل رویہ محض اس وجہ سے تھا کہ محض ( معاذاللہ ) آپ کمزور تھے اور آپ کے مخالفوں کی طاقت آپ کے مقابلے میں زیادہ تھی کیونکہ جو نہی آپ اہل مدینہ کے تعاون سے اس قابل ہوئے کہ آپ دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر با ت کر سکیں تو آپ نے فوراً اعلان کردیا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اور آپ کے پیرو کا روں کو کا فروں کے خلاف اپنے دفاع کی اجازت دے دی ہے‘‘ ۔

منٹگمری واٹ اپنی مختلف تحریروں میں زور و شور سے یہ ثابت کرتا ہے کہ ہجرت کے بعد مسلمانوں کا کوئی معقول ذریعۂ معاش نہ تھا اس لئے انہوں نے عربوں کے دستور کے مطابق تجارتی کاروانو ں کو لوٹنے اور مختلف قبائل پر ڈاکے ڈا لنے کا پیشہ اختیا رکیا وہ اپنی کتاب ’’ محمد ایٹ مدینہ ‘‘ میں لکھتا ہے ۔’’ بدر کی مہم سمیت یہ مہمیں ڈاکے تھے اور ان کا مقصد یہ تھا کہ غیر ضروری خطرات مول لئے بغیر مال غنیمت اکٹھا کیا جائے ۔

مستشر ق مذکور ایک مقام پر لکھتا ہے ۔

’’ڈاکے اور جہاد میں فرق صرف نام کی تبدیلی کا ہے۔ اس طرح وہ کام در اصل ڈاکہ ہی تھا اس کو مذہبی رنگ دینے کی کوشش کی گئی‘‘۔

منٹگمری واٹ اسلامی جہاد کے اسباب بیان کرتے ہوئے لکھتا ہے ۔

’’ بلاشک و شبہ محمدﷺ کے ذہن میں ایک نقطہ بھی تھا ۔ انہوں نے مسلمانوں کو باہم لڑائی کرنے اور ایک دوسرے پر حملہ کرنے سے منع فرمایا اور مسلمانوں کی تعداد دیکھتے ہوئے سرحدی علاقوں کے قافلوں کو لوٹنے کاحکم دیا ‘‘۔ وغیرہ

’’ پیغمبرﷺ نے اپنی اور اپنے تمام صحابہ کی ضروریا ت زندگی پوری کرنے کے لئے جو طریقہ اپنا یا وہ ان تجارتی کا روانوں کو لوٹنے کا تھا جو شام جاتے ہوئے یا شام سے واپس آتے ہوئے مدینہ کے پاس سے گزرتے تھے‘‘۔

مندرجہ بالا مستشرقین کے اقتباسات سے یہ نتیجہ نکا لاجاسکتا ہے کہ ان کو اسلام اور پیغمبر اسلام ا پردو بڑے اعتراض ہیں ۔

(۱) حضورﷺ ایک مذہبی راہنما ہو کر تلوار کی طرف متوجہ ہوئے اور آپ نے اپنے دین کی اشاعت کے لئے تلوار کو ا ستعمال کیا جب کہ آپ کو چاہئے تھا کہ آپ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کی طرح امن کی دعوت دیتے۔

(۲) مسلمانوں نے تلوار کو صرف اپنی تبلیغ دین کے لئے ہی استعمال نہیں کیا بلکہ انہوں نے تلوار کو ذریعۂ معاش بھی بنایا اور انہوں نے ڈاکہ زنی کو بطورِ پیشہ اختیار کیا ۔

مستشرقین کی یہ متعصبانہ تحقیق ان کے قلوب و اذہان کے مریض ہونے کا پتہ دیتی ہے ۔اس لئے کہ کسی انسان کو بزور شمشیر مسلمان بناناممکن نہیں ۔کیونکہ اسلام کی بنیاد ایمان پر ہے اور ایمان کا تعلق دل سے ہے۔ تلوار کا وار جسم پر تواثر انداز ہوتا ہے لیکن دل پر نہیں۔ اسلام نے اپنے پیروکاروں کو واضح ہدایات دیں کہ وہ کسی کو اسلام قبول کرنے پر مجبور نہ کریں ۔ قرآن حکیم نے انتہائی واضح الفاظ میں مسلمانوں کو حکم دیا۔ ارشاد ہوتا ہے ’ ’ دین میں کچھ زبردستی نہیں ‘‘ ۔

(سورۃ البقرہ ۲۵۶ترجمہ کنزالایمان )

اگر حضورﷺ تلوار کے ذریعہ اسلام پھیلانا چاہتے تو مختلف جنگوں اور غزوات میں جو لوگ شکست کھا کر مسلمانوں کے قبضے میں آتے ان کی جان بخشی کی ایک ہی صورت ہوتی کہ وہ اسلام قبول کریں۔لیکن ایسا نہیں ہوا جو لوگ آپ اکے قبضے میں آئے ،آپ نے ان میں سے محدود ے چند کو ان کے سیاہ اعمال کی وجہ سے قتل کرنے کا حکم دیا اور باقی اسیروں کو یا تو اپنی رحمۃ للعالمینی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آزاد کردیا ان سے فدیہ لے کر چھوڑ دیا ۔ جو آدمی آپ کو قتل کرنے کی نیت سے آیا آپ نے اس کے ارادے سے مطلع ہوکر بھی اپنی رحمت سے اس کو معاف کردیا ۔ مکہ میں بیس اکیس سال تک آپ پر مظالم ڈھائے گئے لیکن فتح مکہ کے بعد آپ نے سب کو معاف کردیا ۔

ہم مستشرقین کو علم و عقل کا واسطہ دیکر ان سے پوچھتے ہیں کہ اگر تلوار کے زور سے لوگوں کو مسلمان بنانا مقصود ہوتا تو کیا حضورﷺ فتح مکہ جیسے تاریخی موقعہ کو اس مقصد کے لئے استعمال نہ کرتے ؟

مستشرقین جو الزام اسلام پر لگانا چاہتے ہیں ،اس کا صحیح مصداق تو ان کا اپنا پیارا دین عیسائیت ہے ۔عیسائی پوپ اور پادری اپنے دین کو بزور شمشیر پھیلانا چاہتے تھے ۔یہی وجہ ہے کہ جن جن ممالک میں عیسائیوں کی حکومتیں قائم ہوئیں وہاں سے ان تمام مذاہب کا صفایا ہوگیا، جو عیسائیت کی حکومت قائم ہونے سے پہلے ان علاقوں میں موجود تھے مسلمانوں نے آٹھ سو سال اسپین پر حکومت کی لیکن اتنے طویل اسلامی غلبے کے باوجود ان علاقوں سے عیسائیت اور یہودیت کے مذاہب ختم نہیں ہوئے ۔بلکہ ان مذاہب کے پیروکار بڑی آزادی کے ساتھ اپنے اپنے مذاہب کی تعلیمات کے مطابق زندگیاں بسر کرتے رہے اور اسلامی حکومت میں اونچے اونچے عہدوں پر فائز رہے لیکن جب مسلمانوں کے اقتدار کا سورج غروب ہوا اور عیسائیت کے ہاتھوں میں اقتدار آیا تو اسپین میں موجود مسلمانوں کے سامنے دوہی راستے رہ گئے کہ یا تو اپنا دین چھوڑ کر عیسائیت قبول کرلیں، یا اپنے دین کی خاطر آگ کے لپکتے ہوئے شعلوں میں کود جائیں۔

اسلام اگر تلوار کے زور سے پھیلایا جاتا تو جن ممالک میں پہلی صدی ہجری سے لیکر آج تک مسلمانوں کو اقتدار حاصل ہے ۔ان ممالک سے دیگر مذاہب کا خاتمہ ہوگیا ہوتا مگر آج بھی ہم دنیا کے نقش قدم پر،مسلمانوں کے نقطۂ نظر سے نگاہ ڈالیں تو یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ اسلام اپنی تعلیمات کی کشش کے ذریعہ پھیلاہے ۔تلوار کے زور سے نہیں پھیلا ۔کیونکہ آج بھی مسلمانوں کی اکثر آبادی ان علاقوں میں ہے جہاں تک قرون اولیٰ کے مسلمانوں کی تلوار نہیں پہنچی ۔انڈونیشیا،ہندوستان،چین ،براعظم افریقہ کے ساحلی علاقوں میں مسلمان آج کروروں کی تعداد میں موجود ہیں۔

اسلام کے اپنی تعلیمات کی کشش سے پھیلنے اور اشاعت اسلام میں تلوار کے عمل دخل نہ ہونے کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ آج امریکہ ساری دنیا کا چودھری بناہوا ہے ۔دنیا کا شاید ہی کوئی ایسا ملک ہو جس کی داخلی پالیسیوں میں مداخلت کرنا امریکہ اپنا حق نہ سمجھتا ہو۔

آج دنیا میں کوئی مسلمان حکومت ایسی نہیں جو امریکہ کے شہریوں کو بزور شمشیر مسلمان بنانے کی طاقت رکھتی ہو ۔لیکن اس کے باوجود امریکہ میں اسلام بڑے زور سے پھیل رہا ہے ۔یورپ کا کوئی بھی ایسا ملک نہیں جہاں اذان نہ گونجتی ہو اور دنیا کی کوئی قوم ایسی نہیں جس کے کثیر افراد نے کلمۂ طیبہ پڑھ کر اسلام کے دامن میں پناہ نہ لی ہو ۔

(ضیاء النبی ﷺ صفحہ ۵۸۲؍علامہ پیر کرم شا ہ علیہ الرحمہ)

اسلام تلوار کے زورسے نہیں پھیلا ،یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے اور کئی مستشرقین خود اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں ۔تھامس کارلائل اسلام پر لگائے جانے والے اس الزام کی ،کہ یہ دین شمشیر کے سہارے پھیلا،تردید کرتے ہوئے۔اپنی کتاب’’آن ہیروز اینڈ ہیرورشپ‘‘میں لکھتا ہے

’’اس بات کو بہت ہوا دی گئی ہے کہ محمدﷺ نے اپنے دین کو تلوار کے زور سے پھیلایا ۔۔۔۔۔اگر دین تلوار کے زور سے پھیلاتھاتو یہ دیکھنا ہے کہ وہ تلوار آئی کہاںسے ۔ہر نئی رائے آغاز میں صرف اکیلے شخص کے ذہن میں جنم لیتی ہے ۔ابتدامیں صرف ایک شخص اس رائے پر یقین رکھتا ہے ۔ایک آدمی ایک طرف ہوتا ہے اور ساری انسانیت دوسری طرف۔ ان حالات میں وہاںاکیلا آدمی تلوار لے کر کھڑا ہوجائے اپنی رائے کی تبلیغ تلوار کے زور سے شروع کردے تو وہ کچھ بھی نہیں بگاڑ سکے گا ۔اسلام نے تلوار کا استعمال نہیں کیا بلکہ شارلیمان نے سیکسن قبائل کو تلوار کے ذریعہ عیسائی بنایا نہ کہ تبلیغ سے‘‘۔

مائیکل اکبر جو بارہویں صدی کے نصف آخر میں زندہ تھا اور جس نے عیسائیوں پر رومی مظالم کو دیکھا ،اس کا یہ قول، تھامس آرنلڈ نے نقل کیا ہے۔

’’مجھے عربوں کی فتوحات میں اللہ کا ہاتھ نظر آتا ہے ۔اللہ تعالیٰ نے جب رومیوں کے مظالم کو دیکھا تو حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کی نسل کے عربوں کو بھیجا کہ وہ رومیوں کے مظالم سے عیسائیوں کو نجات دلائیں ‘‘۔

عیسائیوں نے کثرت سے اسلام کے دامن میں پناہ لی تھی۔یہ کام انہوں نے کسی مجبوری سے نہیں کیا تھا بلکہ انہوں نے اسلام کو اس لئے سینے سے لگایا تھا کہ اس زندگی بخش نظام حیات میں انہیں دنیا وآخرت کی کامیابی نظر آتی تھی۔

مستشرقین نے اسلامی غزوات وسرایا کو ڈاکہ کا نام دیا ہے اور اسلام کے خلاف اس الزام کو ثابت کرنے کے لئے دلیل یہ دی ہے کہ ڈاکے ڈالنا اور دوسرے کے اموال چھیننا عربوں کا عام معمول تھا ۔ مدینہ طیبہ میں مسلمانوں کے سامنے چونکہ کوئی ذریعہ ٔمعاش نہ تھا اس لئے عربوں کے عام دستور کے مطابق انہوں نے بھی ڈاکہ زنی کو ہی اپنا پیشہ بنالیا۔مستشرقین کا یہ شوشہ متعدد وجوہات کی بنیاد پر بے بنیاد ہے۔

اولا یہ کہ اسلام نے مسلمانوں کو جہاد کی اجازت ڈاکے ڈالنے کے لئے نہیں دی تھی بلکہ یہ اجازت انہیں زمین سے فتنہ وفساد کو ختم کرانے اور دعوت دین کے راستے سے ہر قسم کی رکاوٹوں کو ختم کرنے کے لئے دی تھی۔اسلام نے مسلمانوں کو فتنہ وفساد ختم ہونے تک قتال کوجاری رکھنے کا حکم دیا تھا اس نے مسلمانوں کو یہ حکم نہیں دیا تھا کہ وہ خود زمین پر فتنہ وفساد برپا کریں کہ یہ ایک بہت بڑا جرم ہے ۔اسلام نے اس جرم کی جو سزا مقرر کی ہے وہ اتنی عبرتناک ہے کہ اسلام کے نقاد اس سزا کو انتہائی ظالمانہ سزا قرار دیتے ہیں۔

مستشرقین کا یہ کہنا کہ مسلمانوں کا ذریعۂ معاش کچھ نہ تھا لہٰذا وہ ڈاکے ڈالنے پر مجبور تھے ۔اس بنا پر غلط ہے کہ اس میں سے متعدد مہمیں مختلف قبائل کے ساتھ معاہدوں پر منتج ہوئیں اور جو لوگ ڈاکے ڈالنے کے لئے جاتے ہیں ۔وہ اپنے شکار سے معاہدہ کرکے اپنے گھر واپس نہیں لوٹ آتے ۔اس کے علاوہ جن غزوات وسرایا میں مسلمان کے ہاتھ کافروں کا مال لگا تھا ۔یہ واقعہ ہجرت کے سترہ ماہ بعد پیش آیا تھا اگر مستشرقین کی منطق کو تسلیم کرلیا جائے تو سوچنا پڑے گا کہ اگر ڈاکوں پر ہی مسلمانوں کی نان شبینہ کا انحصار تھاتو وہ سترہ ماہ تک کیسے زندہ رہے تھے۔

حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کو اپنی زندگی بسر کرنے کے لئے مالوں کی ضرورت نہیں تھی اورنہ ہی تجارتی قافلوں کے مال کی طرف ان کی نظریںتھیںبلکہ انہوں نے حالات کے مطابق تجارت اور محنت ومزدوری کرکے رزق حلال کمانے کی کوششیں شروع کردیں تھیں ۔ انصار نے اپنے مجاہد بھائیوں کی آباد کاری کے لئے بے نظیر ایثار کے مظاہرے کئے تھے۔مہاجرین کی زندگی عسرت میں لبریز ہورہی تھی لیکن وہ خوش تھے کہ ان کا پیارا دین روز افزوں ترقی کررہا ہے۔

غزوات وسرایا کے نام سے مستشرقین نے حضوررحمۃ للعالمین ﷺ پر جتنے الزامات لگائے ہیںوہ سب بے بنیاد ہیں ۔یہ غزوات وسرایات نہ تو دشمن کو مشتعل کرنے کے لئے تھے ،نہ یہ ڈاکے تھے ،اور نہ ان کا مقصد لوگوں کو بزور شمشیر مسلمان بنانا تھا بلکہ یہ غزوات وسرایا ایک ایسی قوم کی دفاعی حکمت عملی کا حصہ تھے،جسے چاروں طرف دشمنوں نے گھیر رکھا تھا ۔ لیکن وہ قوم دشمنوں کے اس ہجوم کے درمیان عزت اور وقارکے ساتھ زندہ رہنا چاہتی تھی ۔صرف اپنے لئے نہیں بلکہ ساری انسانیت کی خاطر زندہ رہنا چاہتی تھی ۔رب کائنات نے جس الہامی ہدایت سے اس قوم کو سرفراز فرمایا تھا ،یہ قوم ہدایت کی اس روشنی کو دنیا کے چپے چپے میں پہنچا نا چاہتی تھی اوراس عظیم مقصد کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کرنے کے لئے تیار تھی۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ جو لوگ نہ مغربی استعماری کا وشوں کو ڈاکہ ڈالنے کا نام دیتے ہیں ،نہ مشرق وسطیٰ کے تیل پر قبضہ کرنے کے لئے لاکھوں انسانوں کا خون بہانے والوں کو ڈاکو کہتے ہیں اور نہ ہی مہذب درندوں کو ڈاکو کہتے ہیں اور نہ ہی موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے ہٹلر زماں ’’جارج بش اور حامیٔ بش‘‘ کو ڈاکو کہتے ہیں جنہوں نے اپنے سیاسی اور اقتصادی مفادات کی خاطر کروروں انسانوں کی انسانی آزادیاں سلب کر رکھی ہیں۔وہ لوگ خدا کے رحمۃ للعالمین نبی ﷺ اور ان کے جانثاروں پر ڈاکہ زنی کا الزام لگاتے ہیں ۔انصاف کا اس سے بڑا قتل ممکن نہیں ہے۔مستشرقین اسلام جو اسلام کے نظریات وجہاد پر طرح طرح کے اعتراض کرتے ہیں وہی انصاف سے بتائیں کہ دنیا میں کوئی قوم ایسی گزری ہے یا آج کی مہذب اور متمدن دنیا میں کوئی ایسی قوم موجود ہے جس کے جنگی قانون میں عدل وانصاف کا یوں لحاظ رکھا گیاہو جیسا کہ اسلامی قوانین میں مذکور ہیں ۔

مستشرقین نے رسول اکرم ﷺ پر جو الزام تراشیاں کی ہیں مندرجہ بالا حقائق سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ رسول طاہرﷺ کا دامن رحمت ان تمام الزامات سے پاک ،عاری ومنزہ ہے۔

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.