أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِنَّ مِنۡهُمۡ لَـفَرِيۡقًا يَّلۡوٗنَ اَلۡسِنَتَهُمۡ بِالۡكِتٰبِ لِتَحۡسَبُوۡهُ مِنَ الۡكِتٰبِ‌ وَمَا هُوَ مِنَ الۡكِتٰبِۚ وَيَقُوۡلُوۡنَ هُوَ مِنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ وَمَا هُوَ مِنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ‌ۚ وَيَقُوۡلُوۡنَ عَلَى اللّٰهِ الۡكَذِبَ وَ هُمۡ يَعۡلَمُوۡنَ

ترجمہ:

اور بیشک ان میں سے ایک گروہ کتاب (تورات) پڑھتے وقت اپنی زبانوں کو مروڑ لیتا ہے تاکہ تم یہ گمان کرو کہ یہ کتاب کا حصہ ہے حالانکہ وہ کتاب کا حصہ نہیں ہے اور وہ کہتے ہیں کہ وہ اللہ کی طرف سے (منزل) ہے حالانکہ وہ اللہ کی طرف سے (منزل) نہیں ہے اور وہ دانستہ اللہ پر جھوٹ بولتے ہیں

تفسیر:

ربط آیات اور شان نزول :

اس سے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا تھا کہ یہود عہود اور مواثیق کو توڑتے ہیں یہ بھی ان کی بڑی گمراہی اور معصیت تھی اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان کی زیادہ بڑی گمراہی اور بڑی معصیت کو بیان فرمایا ہے کہ وہ اللہ کی کتاب میں تحریف کرتے ہیں۔ بعض آیات کو چھپالیتے ہیں اور بعض آیات اپنی طرف سے گھڑ لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔

امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

قتادہ بیان کرتے ہیں کہ یہ اللہ کے دشمن یہود ہیں جو اللہ کی کتاب میں تحریف کرتے تھے اور اپنی طرف سے کلام گھڑ کر یہ کہتے تھے کہ یہ کلام ہے۔

حضرت ابن عباس (رض) بیان فرماتے ہیں کہ یہ یہود ہیں جو اللہ کی کتاب میں زیادتی کرتے تھے جس کو اللہ تعالیٰ نے نازل نہیں فرمایا تھا۔ (جامع البیان ج ٣ ص ٢٣١‘ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)

” لی “ کا معنی اور تورات میں لفظی یا معنوی تحریف کی تحقیق : 

امام ابن جریر طبری لکھتے ہیں :

ابن جریج نے بیان کیا ہے ” لی ‘ کا معنی ہے کسی چیز کو مروڑنا اور پلٹ دینا جب کوئی کسی شخص کا ہاتھ مروڑ دے تو کہتے ہیں لوی یداہ اور جب کوئی پہلوان دوسرے پہلوان کی پشت زمین سے نہ لگا سکے تو کہتے ہیں ” مالوی ظہرہ “ البیان ج ٣ ص ٢٣١‘ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)

امام حسین بن محمد راغب اصفہانی متوفی ٥٠٢ ھ لکھتے ہیں :

” لوی لسانہ “ (زبان مروڑنا) کذب اور من گھڑت باتیں کرنے سے کنایہ ہے۔ (المفردات ص ٤٥٧‘ مطبوعہ المکتبۃ المرتضویہ ‘ ایران ‘ ١٣٤٢ ھ)

امام رازی لکھتے ہیں :

فقال نے بیان کیا ہے کہ زبان مروڑنے کا معنی یہ ہے کہ وہ کسی لفظ کو پڑھتے وقت اس کی حرکات اور اعراب میں تبدیلی کردیتے تھے جس سے اس کا معنی بدل جاتا تھا عربی میں بھی اس کی بہت مثالیں ہیں اسی طرح عبرانی میں بھی اس کی مثالیں ہیں ‘ خاص طور پر تورات کی جو آیات سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت پر دلالت کرتی ہیں وہ اس میں اس قسم کی تحریف کرتے تھے،

امام رازی کی تحقیق یہ ہے کہ یہود تورات میں لفظی تحریف کا پتا چل جاتا ‘ اور اس سے ان کی سبکی ہوتی اس لیے اس سے مراد یہ ہے کہ تورات کی جو آیات سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت پر دلالت کرتی ہیں وہ ان پر اعتراضات کرتے تھے اور ان کی باطل تاویل اور تشریح کرتے تھے اور ان آیات کے صحیح معنی پر شبہات واقع کرتے تھے۔

امام رازی کی علمی عظمت اور جلالت قدر کے ہم معترف ہیں اس کے باوجود ہمیں ان کی اس تحقیق سے اختلاف ہے۔ صحیح بات یہ ہے کہ یہود تورات میں لفظی تحریف کرتے تھے ‘ بعض اوقات وہ الفاظ بدل دیتے ‘ بعض اوقات وہ اپنی طرف سے عبارت بنا کر یہ کہتے کہ یہ اللہ نے فرمایا ہے اور بعض اوقات وہ بعض الفاظ بدل دیتے ‘ بعض اوقات وہ اپنی طرف سے عبارت بنا کر یہ کہتے کہ یہ اللہ نے فرمایا ہے اور بعض اوقات وہ بعض آیات کو چھپالیتے یا تورات سے حذف کردیتے اس کی واضح دلیل یہ ہے کہ تورات میں انبیاء (علیہم السلام) کی طرف شراب پینے اور زنا کرنے کی نسبت بیان کی گئی ہے حتی کہ اپنی بیٹیوں کے ساتھ بھی اور اس میں کوئی عاقل شک نہیں کرسکتا کہ یہ اللہ کا کلام نہیں ہے ‘ بلکہ ان کا خود ساختہ کلام ہے ‘ ہم نے آل عمران کی آیت : ٣ کی تشریح میں ان محرف آیات کو باحوالہ بیان کیا ہے۔ نیز تورات میں سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے اصحاب کا صراحۃ بیان ہے جس کو انہوں نے تورات میں حذف کردیا ‘ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

(آیت) ” الذین یتبعون الرسول النبی الامی الذی یجدونہ مکتوبا عندھم فی التوراۃ والانجیل یامرھم بالمعروف وینھھم عن المنکر ویحل لھم الطیبت ویحرم علیہم الخبئث ویضع عنھم اصرھم والاغلال التی کا نت علیہم (الاعراف : ١٥٧)

ترجمہ : جو اس رسول نبی امی کی پیروی کرتے ہیں جس کو وہ اپنے پاس اور ان کی برائی سے روکتے ہیں ‘ اور پاک چیزیں ان کے لئے حلال کرتے ہیں ناپاک چیزیں ان پر حرام کرتے ہیں اور ان پر (مشکل احکام کے) جو بوجھ اور طوق تھے ان کو اتارتے ہیں۔

(آیت) ” محمد رسول اللہ والذین معہ اشدآء علی الکفار رحمآء بینھم ترھم رکعا سجدا یبتغون فضلا من اللہ ورضوانا سیماھم فی وجوھھم من اثر السجود ذالک مثلھم فی التورۃ “۔ (الفتح : ٢٩)

ترجمہ : محمد اللہ کے رسول ہیں اور ان کے اصحاب کفار پر بہت سخت ہیں آپس میں بڑے نرم دل ہیں (اے مخاطب ! ) تو انہیں رکوع کرتے ہوئے سجدہ کرتے ہوئے دیکھتا ہے ‘ وہ اللہ کا فضل اور اس کی رضا چاہتے ہیں ‘ سجدوں کے اثر سے ان کی نشانی ان کے چہروں میں ہے ‘ ان کی یہ صفات تورات میں ہیں۔

یہود نے تورات میں سے سدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ذکر اور آپ کی ان صفات کا ذکر حذف کردیا اور اسی طرح آپ کے اصحاب کا ذکر اور ان کی صفات کا ذکر حذف کردیا اور اسی طرح اور بہت سے احکام کو چھپالیا ‘ اس کی تصدیق قرآن مجید کی اس آیت میں ہے۔

(آیت) ” یاھل الکتاب قد جآء کم رسولنا یبین لکم کثیرا مما کنتم تخفون من الکتاب ویعفوا عن کثیر “۔ (المائدہ : ١٥)

ترجمہ : اے اہل کتاب ! بیشک تمہارے پاس ہمارا رسول آگیا جو تم سے بہت سی ایسی چیزوں کو بیان کرتا ت ہے جن کو تم چھپاتے تھے اور بہت سی باتوں سے درگذر فرماتا ہے۔

قرآن مجید کی جن آیتوں میں یہ تصریح کی گئی ہے کہ یہود تورات میں لفظی تحریف کرتے تھے وہ حسب ذیل ہیں : 

(آیت) ” من الذین ھادوا یحرفون الکلم عن مواضعہ ویقولون سمعنا وعصینا واسمع غیر مسمع وراعنا لیا بالسنتھم وطعنا فی الدین ولوانھم قالوا سمعنا واطعنا واسمع وانظرنا لکان خیرالھم واقوم لکن العنھم اللہ بکفرھم فلایؤمنون الا قلیلا “۔ (النسآء : ٤٦)

ترجمہ : بعض یہودی اللہ کے کلموں میں اس کی جگہوں سے تحریف کردیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم نے سنا اور نافرمانی کی ‘ (اور آپ سے کہتے ہیں کہ) سنیے درآں حالیکہ آپ نے سنائے گئے ہوں اور اپنی زبانیں مروڑ کر دین میں طعنہ زنی کرتے ہوئے راعنا کہتے ہیں ‘ اور اگر وہ کہتے کہ ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی اور آپ ہماری باتیں سنیں اور ہم پر نظر فرمائیں تو یہ ان کے حق میں بہتر اور نہایت درست ہوتا ‘ لیکن اللہ نے ان کے کفر کی وجہ سے ان پر لعنت فرمائی تو ان میں سے کم لوگ ہی ایمان لاتے ہیں۔

(آیت) ” یحرفون الکلم عن مواضعہ ونسوا حظا مما ذکروا بہ ولا تزال تطلع علی خآئنۃ منھم الا قلیلا منھم ‘(المائدہ : ١٣)

ترجمہ : وہ اللہ کے کلموں کو ان کی جگہوں سے محرف کردیتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ اگر تم کو (ہمارا تحریف کیا ہوا) یہ حکم دیا جائے تو اسے مان لو ‘ اور اگر تم کو یہ حکم نہ دیا جائے تو اس سے احتراز کرو۔

(آیت) ” وقد کان فریق منھم یسمعون کلام اللہ ثم یحرفونہ من بعد ماعقلوہ وھم یعلمون “۔ (البقرہ : ٧٥) 

ترجمہ : بیشک ان میں سے ایک فریق اللہ کا کلام سننے اور اس کو سمجھنے کے بعد اس میں دیدہ دانستہ تحریف کردیتا تھا۔

(آیت) ” فبدل الذین ظلموا قولا غیرالذی قیل لھم “۔ (البقرہ : ٥۹) 

ترجمہ : تو ظالموں سے جو قول کہا گیا تھا اس کو انہوں نے دوسرے قول سے تبدیل کردیا۔

(آیت) ” فویل للذین یکتبون الکتاب بایدیھم ثم یقولون ھذا من عند اللہ “۔ (البقرہ : ٧٩) 

ترجمہ : سو ان لوگوں کے لیے عذاب ہے جو اپنے ہاتھوں سے ایک کتاب تصنیف کریں پھر کہیں کہ یہ اللہ کی جانب سے ہے۔

قرآن مجید کی ان آیات کے علاوہ ہم نے امام ابن جریر طبری کے حوالے سے جو احادیث ذکر کی ہیں ان میں بھی اس پر دلیل ہے کہ یہود تورات میں لفظی تحریف کرتے تھے۔

علامہ ابوالحسن ابراہیم بن عمر البقاعی متوفی ٨٨٥ اس بحث لکھتے ہیں :

بعض اوقات وہ اس طرح تحریف کرتے تھے کہ مثلا ” لا تقتلوا النفس الا بالحق “ ، کو الا بالحد پڑھتے ‘ اصل آیت کا معنی تھا کسی شخص کو ناحق قتل نہ کرو اور ان کی تحریف سے یہ معنی ہوگیا کہ کسی شخص کو حد کو سوا قتل نہ کرو ‘ اسی طرح ” من زنی فارجعوہ “ کو محمموہ پڑھتے تھے۔ اصل آیت کا معنی ہے جس نے زنا کیا اس کو رجم کرو اور ان کو تحریف سے یہ معنی ہوگیا جس نے زنا کیا اس کا منہ کالا کرو۔ (نظم الدررج ٤ ص ٤٦٤‘ مطبوعہ دارالکتاب الاسلامی قاہرہ ‘ ١٤١٣ ھ)

خلاصہ یہ ہے کہ یہود کی تحریف کئی قسم کی تھی بعض اوقات وہ زبان مروڑ کر لفظ کو کچھ کا کچھ پڑھ دیتے تھے ‘ جس سے معنی بدل جاتا تھا ‘ جیسے راعنا کو راعنیا پڑھ دیتے تھے ‘ بعض اوقات آیات کو حذف کردیتے اور احکام چھپالیتے تھے اور بعض اوقات آیات کو تبدیل کردیتے تھے ‘ بعض اوقات خود ایک مضمون تصنیف کر کے کہتے تھے کہ یہ اللہ کا کلام ہے۔ جیسے انبیاء (علیہم السلام) کے متعلق انہوں نے توہین آمیز واقعات لکھے ہیں اور بعض اوقات تورات کی آیت میں باطل تاویل کرتے تھے جس کا ذکر اس آیت میں ہے ؛

(آیت) ” ولا تلبسوا الحق بالباطل وتکتموا الحق وانتم تعلمون “۔ (البقرہ : ٤٢) 

ترجمہ : اور حق کو باطل کے ساتھ نہ ملاؤ اور دیدہ دانستہ حق کو نہ چھپاؤ۔

اس تفصیل اور تحقیق سے یہ ظاہر ہوگیا کہ یہ کہنا درست نہیں ہے کہ یہود تورات کی آیات میں لفظی تحریف نہیں کرتے تھے ‘ بلکہ تورات کی آیات کے صحیح معنی اور درست محمل پر اشکالات اور خدشات وارد کرتے تھے۔

اللہ تعالیٰ کا کلام اپنی فصاحت اور بلاغت اور حلاوت اور جلالت کے اعتبار سے انسان کے کلام سے کسی صاحب فہم پر ملتبس اور مشتبہ نہیں ہوسکتا ‘ البتہ عام لوگوں کو مغالطہ ہوسکتا ہے ‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تاکہ تم یہ گمان کرو کہ یہ کتاب کا حصہ ہے ‘ حالانکہ وہ کتاب کا حصہ نہیں ہے ‘ اور وہ کہتے ہیں کہ وہ اللہ کی طرف سے (نازل کردہ) حالانکہ وہ اللہ کی طرف سے (نازل کردہ) نہیں ہے ‘ پھر اللہ تعالیٰ نے اس پر تنبیہہ فرمائی کہ یہ تحریف کوئی نئی بات نہیں ہے ‘ بلکہ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنا ان کا ہمیشہ سے وطیرہ رہا ہے۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 78