أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَا يَاۡمُرَكُمۡ اَنۡ تَتَّخِذُوا الۡمَلٰٓٮِٕكَةَ وَالنَّبِيّٖنَ اَرۡبَابًا‌ ؕ اَيَاۡمُرُكُمۡ بِالۡكُفۡرِ بَعۡدَ اِذۡ اَنۡـتُمۡ مُّسۡلِمُوۡنَ

ترجمہ:

اور نہ تمہیں یہ حکم دے گا کہ تم فرشتوں اور نبیوں کو رب بنا لو ‘ کیا وہ تمہارے مسلمان ہونے کے بعد تمہیں کفر کا حکم دے گا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور نہ وہ تمہیں یہ حکم دے گا کہ تم فرشتوں اور نبیوں کو رب بنا لو کیا وہ تمہارے مسلمان ہونے کے بعد تمہیں کفر کا حکم دے گا ؟

کفر ملت واحدہ ہے :

بعض مفسرین نے کہا اس کا فاعل سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں ‘ یعنی نہ محمد تم کو یہ حکم دیں گے کہ تم فرشتوں اور نبیوں کا خصوصیت کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے ‘ کیونکہ صابئین فرشتوں کی عبادت کرتے تھے اور بعض اہل کتاب حضرت عزیر کی اور بعض حضرت عیسیٰ کی عبادت کرتے تھے۔

نیز اس میں فرمایا ہے کیا وہ تمہارے مسلمان ہونے کے بعد تمہیں کفر کا حکم دے گا ؟ اس سے معلوم ہوا کہ مسلمان ہونے کے بعد کافر ہونا زیادہ قبیح ہے ‘ کیونکہ کفر کا حکم دینا ہرحال میں مذموم ہے ‘ اس آیت میں یہ دلیل بھی ہے کہ اس آیت کے مخاطب مسلمان تھے ‘ اور اس میں یہ دلیل بھی ہے کہ کفر ملت واحدہ ہے ‘ کیونکہ جنہوں نے فرشتوں کو رب بنایا وہ صابئین اور بت پرست تھے ‘ اور جنہوں نے نبیوں کو رب بنایا وہ یہود ‘ نصاری اور مجوس تھے اس اختلاف کے باوجود اللہ تعالیٰ نے ان سب کو کافر فرمایا ہے۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 80