Image may contain: 1 person, text

یہ فیچرزموبائل فون کے ہیں یا مہوش حیات کے؟؟؟

بظاہر تو یہ فنکشن مہوش حیات کے معلوم ہوتے ہیں کیونکہ پوری تصویر میں مرکزی حیثیت فون کی بجاے اسی کی ہے!

ایڈرٹائزمنٹ فی زمانہ سرمایہ دار کا پیدا کردہ دنیا کا سب سے بڑا فتنہ ہے جو گھر بیٹھے بیٹھے آپ کی سوچ تو سوچ، آپ کے مزاج ،خواہشات اور طرزحیات تک میں سرایت کر جاتا ہے. لیکن ایڈورٹائزمنٹ ہے کیا؟

میں اپنے الفاظ میں کہوں تو یہ سرمایہ دارانہ نظام Capitalism کی کنجی ہے۔ سرمایہ دار (شیطان کا انسانی روپ) نے پانچ سو سال پہلے مغرب کی خاتون سے کہا تھا کہ اے کمبخت تو یہاں گھر میں بیٹھی گھرداری کر رہی ہے۔۔۔!!!! باہر نکل اور معاشرتی و مذہبی حدود و قیود کو پھلانگ کر میری انڈسٹری میں آ۔۔۔ یہی سب کام جو تو گھر میں کرتی ہے اور بدلے میں تجھے کچھ بھی نہیں ملتا، انہی کاموں کو میری انڈسٹری میں آ کر کر، میں تجھے زمین سے اٹھا کر آسمان تک اونچا لے جاوں گا۔۔۔ تجھے مالا مال کر دوں گا۔۔۔ اے نادان! یہ گھرداری یہ پردہ اور یہ روایات یہ سب قید ہیں ،اس قید کو توڑ، مردوں کے شانہ بشانہ نکل۔۔۔فلاں فلاں فلاں

مغربی عورت کا آج جو حال ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ مگر مغرب کو دفع کریں، یہاں ہمارے اردگرد جو کچھ ہو رہا ہے یہ کیا کم ہے؟؟؟ آج وہی سرمایہ دار وہی درس و تدریس ہمارے اسلامی ممالک میں کر رہا ہے ،آزادی کے نام پر، حقوق کے نام پر ،تحریک نسواں کے نام پر ،شوبز کے نام پر، ٹیلنٹ کے نام پر۔۔۔اور نہ جانے کون کون سے فلسفے گھڑ رکھے ہیں۔

کاش کہ ہم وہ غلطی نہ کریں جو مغرب سے ہوئی اور کاش کہ ہم سرمایہ دار کے جھانسے میں نہ آئیں۔۔۔ جانے ہمیں کب احساس ہو گا کہ عورت کا پردہ اتروانے کے پیچھے عورت کی خیر خواہی نہیں بلکہ سرمایہ دار کا سرمایہ کارفرما ہے۔۔۔پردہ اترتا ہے تو ستر بلین کی کوسمیٹکس انڈسٹری وجود میں آتی ہے۔۔۔۔۔۔۔ بھئی پردہ نہیں اترے گا تو سرمایہ دار کو سرمایہ کہاں سے آے گا۔ پس یہ ہے وہ اصل محرک جو تمام مغربی فلسفوں کی بنیاد ہے۔۔۔

اگر آپ نے مغرب کو سمجھنا ہے تو سرمایہ دارانہ نظام کو سمجھیں۔۔۔ جس دن آپ کو اپنے اردگرد سرمایہ دارانہ نظام چلتا پھرتا نظر آنے لگ گیا ،اس دن سمجھیں آپ نے سب مغربی فلسفے جان لئے، اب انہیں شکست دینا بائیں ہاتھ کا کھیل ہو گا۔۔۔!!!

فیصل ریاض شاہد