اسلام میں انفرادی حقوق 

 
تاج محمد سعیدی 
 
مذہبِ اسلام نے جس قدر انسانوں کی تحفظ وبقا کے لیے ان کی آزادی سماجی، سیاسی اور انفرادی زندگی کا حق دیا اور ہر قدم پر ان کی رہنمائی کی ، انھیں عزت وشرف، احترامِ انسانیت کاد رس دیا، اس قدر کسی اور مذہب نے نہیں دیا۔ اسلام ہی وہ پاکیزہ مذہب ہے جس نے انسانوں کو غلامی کی زنجیروں سے نکال کر ’’لَقَدْ کَرَّمْنَا بَنِیْ اٰدَمَ‘‘ کا تاجِ کرامت بخشا، جاہ وحشمت، شان وشوکت والا مقام عطا کیا اور طرح طرح کی عظیم سہولتوں اور نمایاں حقوق سے نوازا۔ اسلام کی جانب سے دیے جانے والے چند حقوق یہ ہیں:
(۱)زندگی کے تحفظ کا حق
(۲) عزتِ نفس کا حق
(۳) آزادی کا حق۔

زندگی کے تحفظ کا حق: 

زندگی اللہ رب العزت کی طرف سے عطا کردہ عظیم نعمت ہے، جس پر تمام نعمتوں کی بنیاد ہے اور کسی بھی ملک یا سماج کی طرف سے دیے جانے والے حقوق اسی زندگی پر منحصر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے زندگی کے تحفظ پر زیادہ زور دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مقدس میں فرمایا ہے:
مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَکَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًا۔ (المائدۃ:۳۲)
جس نے کسی جان کو ناحق یا زمین میں فساد پھیلانے کی غرض سے قتل کیاتو گویا اس نے تمام لوگوں کا قتل کیا۔
عزتِ نفس کا حق: 
اسلام میں رنگ ونسل، امیری وغریبی اورمذہب و ملت سے صرفِ نظر کرتے ہوئے ہر شخص کو اس کے مرتبے کے مطابق عزت ومقام حاصل ہے جس سے کسی بھی حکومت یا فرد کو مجالِ ا نکار نہیں۔ حکومت وسماج کی پوری ذمہ داری ہے کہ اس کی عزتِ نفس کی حفاظت کریں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
یٰاَ یُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ عَسیٰ اَنْ یَّکُوْنَ خَیْرًا مِّنْھُمَّْ۔ ( الحجرات: ۱۱)
اے ایمان والو! کوئی قوم کسی قوم کا مذاق نہ اڑائے ہوسکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں۔
سرکارِ دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے معاشرے میں زندگی گزارنے والوں کے درمیان ایک ایسا ماحول قائم کیا جس میں ایک دوسرے کی عزتِ نفس کی پامالی نہ ہو اور انھیں عزت وشرف کا پورا حق ملے۔ چناں چہ فرماتے ہیں:
اَنْزِلُوا النَّاسَ مَنَازِلَھُمْ۔ (سننِ ابی داؤد،باب تنزیل الناس منازلھم)
لوگوں سے ان کے مرتبے کے مطابق سلوک کیا کرو۔ حضرتِ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتےہیں: میں نے حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
مَنْ لَطَمَ مَمْلُوْکَہٗ أَوْ ضَرَبَہٗ فَکَفَّارَتُہٗ أَن یَّعْتِقَہٗ۔ (مسلم، باب کفارۃ من لطم عبدہٗ)
جس نے غلام کو تھپڑ مارا یا اسے کسی ناکردہ جرم کی سزا دی تو اس کاکفارہ یہ ہے کہ اسے آزاد کردے۔
 آزادی کا حق: 
اسلام کی آمد ہی انسانی آزادی کا سبب ہے۔ اس سے قبل عالمِ انسانیت غلامی کی زنجیر وں میں مقید تھی۔ اسلام نے ہی مساوات اور تکریمِ انسانیت کی تعلیم کے ذریعے آزادی کا تصور دیا اور آج پوری دنیا اسی آزادی کو اختیار کررہی ہے کہ ایک ملک میں ہر مذہب کے ماننے والے اپنی مذہبی اصول کے مطابق زندگی بسر کررہے ہیں۔اللہ رب العز کا ارشاد ہے:
لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ۔(البقرۃ:۲۵۶)
دین میں کوئی زبردستی نہیں۔
نیز اللہ کریم نے فرمایا :
لَكُمْ دِينُكُمْ وَلِيَ دِينِ۔ (الکٰفرون:۶)
تمھارے لیے تمھارا دین ہے اور میرے لیے میرا دین۔
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ اسلام نے انسانی جان ومال، عزت وآبرو کی حفاظت وصیانت پر بھرپور زور دیا ہے جس کی آج کے دور میں سخت ضرورت ہے۔