حدیث نمبر :220

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جس سے علمی بات پوچھی گئی جسے وہ جانتا ہے پھر اسے چھپائے تو قیامت کے دن اسے آگ کی لگام دی جائے گی ۱؎ (احمد،ابوداؤد،ترمذی ابن ماجہ عن انس)

شرح

۱؎ یعنی اگرکسی عالم سے دینی ضروری مسئلہ پوچھا جائے اور وہ بلاوجہ نہ بتائے تو قیامت میں وہ جانوروں سے بدترہوگا کہ جانور کے منہ میں چمڑے کی لگام ہوتی ہے اور اس کے منہ میں آگ کی لگام ہوگی۔خیال رہے کہ یہاں علم سے مراد حرام،حلال،فرائض واجبات وغیرہ تبلیغی مسائل ہیں جن کا چھپانا جرم ہے۔عالم پر شرعی مسئلہ بتانا ضروری ہے نہ کہ لکھنا لہذا مفتی فتوے لکھنے کی اجرت لےسکتا ہے۔خصوصًا وہ فتویٰ جن پرمقدمے چلتے ہیں اورمفتی کو کچہریوں میں حاضری دینی پڑتی ہے۔رب فرماتا ہے:”وَلَا یُضَآرَّکَاتِبٌ وَّلَا شَہِیۡدٌ”۔