_*جمہوری نظام کے دُشمن آزاد ہیں*_

آج ہی کے دن 1992ء میں جمہوریت کا گلا گھونٹ کر….. بابری مسجد دن کے اُجالے میں شہید کر دی گئی…… پھر عصبیت کا عریاں رقص ہوا….. مسلم کش فسادات کے ذریعے ہزاروں افراد کو زندگیوں سے محروم کر دیا گیا…… عصمتیں تاراج ہوئیں…… ظلم و ستم کا بازار گرم ہوا…… بھگوا توا دہشت گردوں نے ہندوستان کی شوکت کا پرچم سرنگوں کیا…… اور آج تک جتنی حکومتیں بنیں؛ سبھی مسلم ووٹوں کا استحصال کر کے جھوٹے وعدوں کی خیرات تقسیم کرتی رہیں….. کسی نے بابری مسجد کی بازیابی کیلئے عملی اقدامات نہیں کئے…….کسی نے تشدد کے متوالوں کو پسِ زنداں نہیں بھیجا……کسی نے مسجد کے مدعے کو سلجھایا نہیں…… مسلمانوں کو بہلاتے رہے….. ہندوؤں کے ووٹ بینک بڑھاتے رہے……

ملک کے جمہوری آئین کے لیے 6 دسمبر ایک سیاہ باب ہے….. اس وقت تک جمہوری قدروں کا تحفظ ممکن نہیں؛ جب تک کہ بابری مسجد کی تعمیرِ نو اُسی مقام پر نہیں ہو جاتی…… یہ بھی تاریخِ ہند کا المیہ ہے کہ……. بابری مسجد کی شہادت کے ذمہ دار کارسیوک/آتنک واد آزاد ہیں…… ان کی قیادت بحال ہے…. اور مظلوم مسلمان اپنے دستوری حق سے محروم……بلکہ طُرفہ یہ کہ اب شریعت کے فیصلوں کے مقابل قانون بنائے جا رہے ہیں….. مذہبی آزادی چھینی جا رہی ہے…..

یاد رکھیں! قیامِ امن کے لیے حقوق کی پاسداری ضروری ہے…… بابری مسجد کی بازیابی مسلمانوں کا حق ہے…… جب تک یہ حق نہیں ملے گا؛ آئین کے دائرے میں ہمارا احتجاج جاری رہے گا…… اور اس سے ہم ہرگز دستبردار نہیں ہو سکتے……. ہماری شریعت کا بھی یہی فیصلہ ہے…….. اور ملکی آئین بھی شواہدات کی روشنی میں اسی کا موئید…… اِس لیے جن افراد نے بھگوا توا قیادت سے مختلف وقتوں میں سودے بازی کی کوششیں کیں؛ ان کی کوئی حیثیت و وقت نہیں…….ایسے بکاو بورڈوں کو قوم نے ٹھکرا دیا ہے……… بحیثیت بندہ مومن ہماری یہ ذمہ داری ہے کہ…….. مساجد کو سجدوں سے آباد رکھیں……. تا کہ پھر کسی مسجد کی شہادت کا دلدوز سانحہ وقوع پذیر نہ ہو سکے……… اور تشدد کے مکروہ چہرے نامُراد رہیں………

………. غلام مصطفٰی رضوی

نوری مشن مالیگاؤں

06-12-2018