حدیث نمبر :221

روایت ہے حضرت کعب ابن مالک سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو اس لیئے علم طلب کرے تاکہ علماء کا مقابلہ کرے یا جہلاء سے جھگڑے یا لوگوں کی توجہ اپنی طرف کرے تو اسے اﷲ آگ میں داخل کرے گا۲؎ (ترمذی،ابن ماجہ عن ابن عمر)

شرح

۱؎ آپ انصاری ہیں،خزرجی ہیں،عقبہ ثانیہ کی بیعت میں شریک تھے،اسلام کے نامورشعراء میں سے ہیں،آپ غزوۂ تبوک میں پیچھے رہ گئے تھے اس پر آپ کابائیکاٹ کیا گیا،پھر کچھ عرصہ بعدآپ کی اور آپ کے دو ساتھیوں ہلال ابن امیّہ اورمرارہ ابن ربیعہ کی توبہ قبول ہوئی۔رب فرماتا ہے:”وَّعَلَی الثَّلٰثَۃِ الَّذِیۡنَ خُلِّفُوۡا”آپ آخر میں نابینا ہوگئے تھے،۷۷ سال عمر ہوئی، ۵۰ھ ؁میں وفات پائی۔

۲؎ یعنی جو دینی علم دین کے لئے نہ سیکھے بلکہ عزت یا مال حاصل کرنے یا دین میں فساد پھیلانے کے لئے سیکھے تو اول درجہ کا جہنمی ہے۔اس سے وہ لوگ عبرت پکڑیں جو قرآن کا ترجمہ دیکھ کر اور چار حدیثیں پڑھ کر آئمہ مجتہدین اور علماء دین کے منہ آنے کی کوشش کرتے ہیں،اﷲ تعالٰی نیت خیرعطا فرمائے۔خیال رہے کہ علماء کا مناظرہ اور ہے مقابلہ کچھ اور،مناظرہ میں تحقیق حق مقصود ہوتی ہے،مقابلہ میں اپنی بڑائی کا اظہار،بوقت ضرورت مناظرہ اچھا ہے مقابلہ برا،یہاں مقابلہ کی برائی مذکور ہے۔مناظرے آئمہ مجہتدین بلکہ صحابہ کرام میں بھی ہوئے۔