أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِذۡ اَخَذَ اللّٰهُ مِيۡثَاقَ النَّبِيّٖنَ لَمَاۤ اٰتَيۡتُكُمۡ مِّنۡ كِتٰبٍ وَّحِكۡمَةٍ ثُمَّ جَآءَكُمۡ رَسُوۡلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمۡ لَـتُؤۡمِنُنَّ بِهٖ وَلَـتَـنۡصُرُنَّهٗ ‌ؕ قَالَ ءَاَقۡرَرۡتُمۡ وَاَخَذۡتُمۡ عَلٰى ذٰ لِكُمۡ اِصۡرِىۡ‌ؕ قَالُوۡۤا اَقۡرَرۡنَا ‌ؕ قَالَ فَاشۡهَدُوۡا وَاَنَا مَعَكُمۡ مِّنَ الشّٰهِدِيۡنَ

ترجمہ:

اور (اے رسول) یاد کیجیے جب اللہ نے تمام نبیوں سے پختہ عہد لیا کہ میں تم کو جو کتاب اور حکمت دوں پھر تمہارے پاس وہ عظیم رسول آجائیں جو اس چیز کی تصدیق کرنے والے ہوں جو تمہارے پاس ہے تو تم ان پر ضرور بہ ضرور ایمان لانا اور ضرور بہ ضرور ان کی مدد کرنا ‘ فرمایا کیا تم نے اقرار کرلیا اور میرے اس بھاری عہد کو قبول کرلیا ؟ انھوں نے کہا ہم نے اقرار کرلیا فرمایا پس گواہ رہنا اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہوں میں سے ہوں

تفسیر:

ربط آیات اور خلاصہ تفسیر :

اس سورت کے شروع سے اب تک جتنی آیات ذکر کی گئی ہیں ان میں اہل کتاب کی تحریفات اور خیانتوں کا ذکر کیا گیا ہے انہوں نے اللہ کی کتاب میں تحریف کی اور ان کی کتابوں میں سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے جو اوصاف ذکر کیے گئے تھے ‘ ان کو چھپایا یا ان کو تبدیل کردیا ‘ اور اس سے مقصود یہ تھا کہ ان کو اس تحریف اور خیانت سے منع کیا جائے اور سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت پر ایمان لانے پر برانگیختہ کیا جائے ‘ زیر تفسیر آیت میں بھی اس مقصود کی تاکید کی گئی ہے اور یہ فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تک تمام انبیاء (علیہم السلام) سے عالم ارواح میں یا بعثت کے بعد بذریعہ وحی یہ میثاق اور پختہ عہد لیا تھا کہ ہر نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لائے گا اور آپ کی رسالت کی تصدیق کرے گا اور آپ کی مہمات میں آپ کی نصرت اور مدد کرے گا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ عہد لینے کے بعد اس کی تاکید کے لیے ان سے صراحۃ اقرار کرایا پھر اس کی مزید تاکید کے لیے فرمایا تم سب اس پر گواہ رہنا اور میں بھی گواہوں میں سے ہوں ‘ پھر اس کے بعد فرمایا ” پھر اس کے بعد جو عہد سے پھرا وہی لوگ نافرمان ہیں “ اکثر مفسرین نے کہا کہ یہ کلام انبیاء (علیہم السلام) کی امتوں کی طرف متوجہ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ سے عہد کرنے کے بعد اس عہد سے پھرنا انبیاء (علیہم السلام) سے متصور نہیں ہے ‘ اور چونکہ ہر نبی نے اپنی اپنی امت سے عہد لیا تھا کہ اگر اس امت کے زمانہ میں وہ نبی امی مبعوث ہوجائیں تو ان پر لازم ہوگا کہ وہ اس نبی امی پر ایمان لے آئیں جس نبی کی امت نے بھی اس عہد سے روگردانی کی وہ فاسق اور نافرمان ہوگی۔ علامہ سید محمود آلوسی نے لکھا ہے کہ یہ بھی جائز ہے کہ یہ کلام انبیاء (علیہم السلام) کی طرف متوجہ ہو یعنی بہ فرض محال اگر نبیوں میں سے بھی کوئی اس عہد سے پھرا تو وہ بھی فاسق ہوجائے گا اور اس میں ان کی امتوں سے تعریضا خطاب ہے یعنی صراحۃ انبیاء (علیہم السلام) کی طرف اسناد اور کنایۃ ان کی امتوں کی طرف اسناد ہے ‘ جیسا کہ اس آیت میں : (روح المعانی ج ٣ ص ٢١٢‘ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت)

(آیت) ” لئن اشرکت لیحبطن عملک ولتکونن من الخسرین “۔ (الزمر : ٦٥)

ترجمہ : اگر آپ نے (بہ فرض محال) شرک کیا تو آپ کے عمل ضرور ضائع ہوجائیں اور البتہ آپ ضرور نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوجائیں گے۔

لیکن راجح یہی ہے کہ یہ کلام امتوں کی طرف متوجہ ہے۔

امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

حضرت علی بن ابی طالب (رض) اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں : اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمام امتوں میں سے جو شخص بھی اس عہد کو پکا کرنے کے بعد پورا نہیں کرے گا تو وہ فاسق ہوگا۔

تمام نبیوں سے آپ پر ایمان لانے کے میثاق کی تحقیق : 

اس میں اختلاف ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ عہد اہل کتاب سے لیا تھا ‘ یا نبیوں سے ایک دوسرے کی تصدیق کے متعلق لیا تھا یعنی ہر نبی بعد میں آنے والے نبی کی تصدیق کرے یا تمام نبیوں سے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لانے کا پختہ عہد اور میثاق لیا تھا۔

امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ روایت کرتے ہیں :

سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے اس میثاق کو انبیاء (علیہم السلام) نے اپنی قوموں سے لیا یعنی جب ان کی قوم کے پاس سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آجائیں تو وہ آپ کی تصدیق کریں اور آپ کی نبوت کا اقرار کریں۔

قتادہ نے اس کی تفسیر میں کہا اللہ تعالیٰ نے نبیوں سے یہ عہد لیا کہ بعض نبی بعض دوسرے نبیوں کی تصدیق کریں اور اللہ کی کتاب اور اس کے پیغام کی تبلیغ کریں ‘ پھر انبیاء (علیہم السلام) نے اللہ کی کتاب اور اس کے پیغام کی تبلیغ کی اور اپنی امتوں سے یہ پختہ عہد لیا کہ وہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لائیں گے اور ان کی تصدیق کریں گے اور ان کی نصرت کریں گے۔

لیکن راجح قول یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام نبیوں سے عالم ارواح میں یا بذریعہ وحی یہ عہد لیا کہ اگر ان کے زمانہ میں سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مبعوث ہوگئے تو وہ آپ پر ایمان لائیں گے اور آپ کی تصدیق کریں گے اور آپ کی نصرت کریں گے۔

امام ابن جریر طبری روایت کرتے ہیں :

حضرت علی بن ابی طالب (رض) بیان کرتے ہیں کہ اللہ عزوجل نے حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر بعد تک جس نبی کو بھی بھیجا اس سے یہ عہد لیا کہ اگر اس کی حیات میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مبعوث ہوگئے تو وہ ضرور بہ ضرور اس پر ایمان لائے گا اور ضرور بہ ضرور اس کی نصرت کرے گا ‘ اور پھر وہ نبی اللہ کے حکم سے اپنی قوم سے یہ عہد لیتا تھا۔

سدی بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) سے لے کر بعد تک جس نبی کو بھی بھیجا اس سے یہ میثاق لیا کہ وہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لائے گا اور ان کی نصرت کرے گا بہ شرطی کہ وہ اس وقت زندہ ہو ورنہ وہ اپنی امت سے یہ عہد لیتا تھا کہ اگر ان کی زندگی میں وہ مبعوث ہوجائیں تو وہ ان پر ایمان لائیں ‘ ان کی تصدیق کریں اور ان کی نصرت کریں (جامع البیان ج ٣ ص ٢٣٩۔ ٢٣٦‘ ملتقطا ‘ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)

اگر یہ شبہ ہو کہ اس آیت میں ان انبیاء (علیہم السلام) سے میثاق لینے کا ذکر ہے جن پر کتاب نازل کی گئی ہے اور وہ صرف تین سو تیرہ رسول ہیں ‘ اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ تمام نبیوں سے یہ میثاق لیا گیا ہے ‘ اس کا جواب یہ ہے جن نبیوں پر کتاب نازل نہیں کی گئی وہ بھی ان نبیوں کے حکم میں ہیں جن پر کتاب نازل کی گئی ہے کیونکہ انکو نبوت اور حکمت دی گئی ہے ‘ نیز جن انبیاء (علیہم السلام) کو کتاب نہیں دی گئی ان کو یہ حکم دیا گیا کہ وہ سابق نبی کی کتاب پر عمل کریں ‘ نیز اس آیت میں کتاب اور حکمت سے مراد دین ہے اور تمام انبیاء (علیہم السلام) کا دین واحد ہے اور توحید ‘ نبوت ‘ تقدیر ‘ قیامت ‘ مرنے کے بعد دوبارہ اٹھنے ‘ حشر ونشر ‘ حساب و کتاب اور جزاء وسزا پر ایمان رکھنے میں تمام نبی ایک دوسرے کے موافق ہیں۔ البتہ شریعت ہر نبی کی الگ الگ ہے۔

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تمام انبیاء علاتی بھائی ہیں ان کی مائیں (شرائع) مختلف ہیں اور ان کا دین واحد ہے۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ٤٩٠‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تک تمام نبیوں نے جس دین کو پیش کیا اور اللہ کی طرف سے جو پیغام سنایا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قرآن مجید نے اس کی تصدیق کی ‘ اس لیے تمام نبیوں اور ان کی امتوں پر یہ واجب تھا کہ اگر آپ ان کی حیات میں مبعوث ہوتے تو وہ آپ کی تصدیق کرتے اور آپ پر ایمان لاتے اور آپ کی نصرت کرتے۔

سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کا عموم اور شمول :

اس آیت سے معلوم ہوا کہ تمام انبیاء (علیہم السلام) سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تقدیر امت ہیں اور ہم آپ کی تحقیقا امت ہیں ‘ اگر آپ ان کی حیات میں مبعوث ہوتے تو آپ پر ایمان لانا اور آپ کی نصرت کرنا ان پر ضروری تھا اور ہم آپ پر بالفعل ایمان لائے ہیں ‘ نیز قرآن مجید میں ہے۔

(آیت) ” وما ارسلناک الا کافۃ للناس بشیرا ونذیرا “۔ (سبا : ٢٨)

ترجمہ : اور ہم نے آپ کو (قیامت تک کے) تمام لوگوں کے لیے مبعوث کیا ہے درآں حالیکہ آپ بشارت دینے والے ہیں اور ڈرانے والے ہیں۔

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مجھے تمام نبیوں پر چھ اوصاف کی وجہ سے فضیلت دی گئی ہے مجھے جوامع الکلم دیئے گئے ‘ رعب سے میری مدد کی گئی ‘ میرے لئے مال غنیمت حلال کردیا گیا اور تمام روئے زمین کو میرے لئے مادہ تیمم اور مسجد بنادیا گیا ‘ اور مجھے تمام مخلوق کا رسول بنایا گیا اور مجھ پر سلسلہ نبوت کو ختم کردیا گیا (صحیح مسلم ج ١ ص ١٩٩‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)

امام احمد بن حنبل متوفی ٢٤١ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بیشک (حضرت) موسیٰ اگر تمہارے سامنے زندہ ہوتے تو میری اتباع کرنے کے سوا ان کے لیے اور کوئی چارہ کار نہ تھا۔ (مسند احمد ج ٣ ص ‘ ٣٣٨‘ مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ)

اس حدیث کو امام بو یعلی (مسند ابو یعلی ج ٢ ص ٤٢٧۔ ٤٢٦‘ مطبوعہ بیروت) اور امام بیہقی نے بھی روایت کیا ہے۔ (شعب الایمان ج ١ ص ٢٠٠‘ مطبوعہ بیروت)

حافظ الہیثمی نے اس حدیث کو امام بزار اور امام طبرانی کے حوالوں سے ذکر کیا ہے اور لکھا ہے کہ امام بزار کی سند میں جابر جعفی ہے وہ ضعیف ہے اور امام طبرانی کی سند میں قاسم بن محمد اسدی ہے اس کا حال مجھے معلوم نہیں ‘ البتہ سند کے باقی راوی ثقہ ہیں۔ (مجمع الزوائد ج ١ ص ١٧٤)

حافظ سیوطی نے اس حدیث کو امام احمد ‘ امام دیلمی اور امام ابو نصر سجزی کے حوالوں سے درج کیا ہے۔ (الدرالمنثور ج ٥ ص ١٤٧‘ مطبوعہ ایران)

حافظ عماد الدین اسماعیل بن عمر بن کثیر شافعی متوفی ٧٧٤ ھ لکھتے ہیں :

بعض احادیث میں ہے اگر موسیٰ اور عیسیٰ دونوں زندہ ہوتے تو میری پیروی کے سوا ان کے لیے اور کوئی چارہ کار نہ تھا ‘ سو سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دائما قیامت تک کے لیے رسول اللہ اور خاتم النبیین ہیں ‘ آپ جس زمانہ میں بھی مبعوث ہوتے تو آپ ہی امام اعظم ہوتے ‘ اور تمام انبیاء (علیہم السلام) پر آپ کی اطاعت مقدم اور واجب ہے ‘ یہی وجہ ہے جب سب نبی مسجد میں اقصی میں جمع ہوئے تو آپ ہی نے سب کی امامت فرمائی اور جب اللہ عزوجل میدان حشر میں اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرے گا تو آپ ہی اللہ تعالیٰ کے شفاعت کریں گے ‘ اور مقام محمود صرف آپ ہی کے سزاوار ہے (تفسیر القرآن ج ٢ ص ٦٥‘ مطبوعہ بیروت)

حمد کا جھنڈا آپ کے ہاتھ میں ہوگا ‘ حضرت آدم سے لے کر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تک تمام انبیاء اور مرسلین آپ کے جھنڈے کے نیچے ہوں گے ‘ تمام رسولوں کی آپ قیادت فرمائیں گے ‘ تمام اولین وآخرین میں آپ مکرم ہوں گے ‘ آپ ہی کوثر کے ساقی ہوں گے ‘ سب سے پہلے آپ شفاعت کریں گے آپکی شفاعت سب سے پہلے قبول ہوگی اور دخول جنت کا افتتاح آپ سے ہوگا !

علامہ سید محمود آلوسی متوفی ١٢٧٠ ھ لکھتے ہیں :

اس آیت کی تفسیر میں عارفین نے کہا ہے کہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہی نبی مطلق ‘ رسول حقیقی اور مستقل شارع ہیں اور آپ کے ماسوا تمام انبیاء (علیہم السلام) آپ کے تابع ہیں۔ (روح المعانی ج ٣ ص ٢١٠‘ مطبوعہ بیروت)

شیخ محمد قاسم نانوتوی متوفی ١٢٩٧ ھ لکھتے ہیں :

باقی رہا آپکا وصف ثبوت میں واسطہ فی العروض اور موصوف بالذات ہونا اور انبیاء ماتحت (علیہم السلام) کا آپ کے فیض کا معروض اور موصوف ہونا وہ تحقق معنی خاتمیت پر موقوف ہے۔ (تحذیر الناس ص ٤٦‘ مطبوعہ کراچی)

واسطہ فی العروض اس واسطہ کو کہتے ہیں جو وصف کے ساتھ حقیقۃ متصف ہو اور موصوف بالذات ہو اور ذوالواسطہ اس وصف کے ساتھ مجازا متصف ہو مثلا جب کشتی چل رہی ہو کشتی حرکت کے ساتھ حقیقۃ متصف ہے ‘ اور کشتی میں بیٹھا ہوا شخص کشتی کے واسطہ سے مجازا حرکت کے ساتھ متصف ہے ‘ حقیقۃ حرکت کے ساتھ متصف نہیں ہے اگر سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو وصف نبوت کے لیے واسطہ فی العروض قرار دیا جائے تو لازم آئے گا کہ باقی انبیاء (علیہم السلام) نبوت کے ساتھ مجازا متصف ہوں اور آپ حقیقۃ متصف ہوں آپ حقیقی نبی ہوں اور باقی انبیاء مجازا نبی ہوں اور یہ قرآن مجید کی اس آیت کے خلاف ہے :

(آیت) ” لانفرق بین احد من رسولہ “ (البقرہ : ٢٨٥) 

ترجمہ : ہم رسولوں میں سے کسی میں فرق نہیں کرتے۔

اس لیے تحقیق یہ ہے کہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور باقی انبیاء (علیہم السلام) سب حقیقی نبی ہیں اور آپ باقی انبیاء (علیہم السلام) کی نبوت کے لیے واسطہ فی الثبوت ہیں غیر محض ہیں ‘ یہ اس واسطہ کو کہتے ہیں جس میں واسطہ اور ذوالواسطہ دونوں وصف کے ساتھ حقیقۃ متصف ہوں ‘ پہلے واسطہ متصف ہو اور پھر ذوالواسطہ متصف ہو جیسے کاتب کے ہاتھ میں قلم حرکت کرے تو قلم کی حرکت ہاتھ کے واسطے سے ہے لیکن دونوں حرکت کے ساتھ حقیقۃ متصف ہیں پہلے ہاتھ حرکت کرتا ہے اور پھر اس کے واسطہ سے قلم حرکت کرتا ہے سو اسی طرح پہلے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نبوت کے ساتھ متصف ہوئے پھر آپ کے واسطہ سے باقی انبیاء نبوت کے ساتھ متصف ہوئے اور سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس اتصاف میں واسطہ فی الثبوت غیر سفیر محض ہیں اور آپ اور باقی انبیاء حقیقی نبی ہیں۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 81