پاکستانی حکومت محافظ ناموسِ رسالت حضرت علامہ خادم حسین رضوی کو باعزت رہاکرے: نبیرۂ اعلیٰ حضرت انس میاں

عمران حکومت ہوش کے ناخن لے، اقتدار تادیر نہیں رہنے والا ہے:الحاج محمدسعیدنوری

(پریس ریلیز)ممبئی۔ پڑوسی ملک پاکستان میں جب سے عمران کی حکومت برسرِ اقتدار آئی ہے، ناموسِ رسالت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی حفاظت کے لئے آوازبلندکرنے والوں پہ سخت پابندیاں عائدکرنے کیساتھ ساتھ ان پر کریک ڈاؤن کرکے ان کے حوصلوں کوپست کرنے کی مذموم کوشش کی جارہی ہے۔ حال ہی میں توہین رسالت کی مرتکبہ آسیہ ملعونہ جسے پاکستان کی دوچھوٹی عدالتوں نے ملزمہ قراردیاتھا، امریکی دباؤ اور فوج کے اشارے پر سپریم کورٹ سے باعزت بری کردی جاتی ہے۔ جس پر ناموسِ رسالت کے جیالے میدان میں آکر احتجاج کرتے ہیں، خصوصاتحریک لبیک یارسول اللہ کے چیئرمین امیرالمجاہدین حضرت علامہ خادم حسین رضوی جنہوں نے ہمیشہ پاکستان میں نظامِ مصطفیٰ کی بات کی ہے۔ ناموسِ رسالت کے لئے ہر لحاظ سے قربانیاں پیش کی ہیں۔ آج انہیں عمران کی حکومت گرفتار کرکے جیل کے سلاخوں کے پیچھے ڈال رکھی ہے، جس پر پوری دنیامیں شدیداحتجاج جاری ہے اور حضرت ودیگر لوگوں کی باعزت رہائی کی مانگ کی جارہی ہے۔ اس سلسلے میں آج ممبئی کا مرکزی ادارہ یعنی دارالعلوم فیضانِ مفتی اعظم سیدابوالہاشم اسٹریٹ پھول گلی ممبئی ۳ میں خلیفۂ حضور مفتی اعظم حضور سراجِ ملت حضرت علامہ سیدسراج اظہررضوی نوری صاحب قبلہ کی سرپرستی میں علمائے اہلسنّت کی ایک اہم نشست منعقد ہوئی۔ میٹنگ کی صدارت نبیرۂ اعلیٰ حضرت علامہ انس رضاخاں عرف انس میاں قبلہ بریلی شریف نے فرمائی۔ آپ نے خطبۂ صدارت دیتے ہوئے فرمایاکہ پاکستانی حکومت غور سے سن لے! ناموسِ رسالت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی بات کرنے والوں کی آوازکبھی دبائی نہیں جاسکتی، بلکہ یہ صدااب مزیدبلندہوگی۔ کیوں کہ ہمارے لئے سب کچھ ناموسِ رسالت ہی ہے، اگر یہ نہیں ہے تو پھرہمارادنیامیں رہناکیامطلب ہے؟ اگر جسم سے عشق رسول نکل جائے توبظاہر جسم ہے ، مگر وہ لاش کے مانند ہے۔ لہذامرکز اہلسنّت بریلی شریف سے ہم یہ اعلان کرتے ہیں ہم ہرلمحہ ناموسِ رسالت کے سپہ سالار حضرت علامہ خادم حسین رضوی کے ساتھ رہیں گے۔ کیوںکہ یہ ناموسِ رسالت کی بات ہے، آپ نے حکومت پاکستان سے حضرت کی رہائی کامطالبہ کیا۔سرپرستِ میٹنگ کی علالت کی وجہ سے ان کے شہزادے یعنی حضرت مولاناسیدجیلانی میاں صاحب قبلہ نے بھی اپنے خطاب میں کہاکہ پاکستان کی یہ حکومت عوام الناس کے ذریعہ نہیں منتخب ہوئی ہے، بلکہ یہ امریکہ کے اشارے پر فوج کے چہیتے عمران خان کوبٹھایاگیاہے۔ آج ملعونہ آسیہ گستاخی رسول کی بنیاد پر سزاکی مستحق قرار دینے کے باوجود بری ہوجاتی ہے، یہ صرف امریکہ واسرائیل اور پاکستانی فوج کے اشارے پہ ہورہاہے، آپ نے مزیدکہاکہ پاکستان کی ڈاکٹر عافیہ آج بھی امریکہ کی جیل میں سڑرہی ہے، طرح طرح سے اسے اذیت وتکلیف دی جارہی ہے، اس پر پاکستانی حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے، مگر پاکستان میں ایک عیسائیہ آسیہ ملعونہ جس نے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اور حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکی شان میں معاذاللہ گستاخیاں کی ہے، اسے بری کردیاجاتاہے، یہ سب امریکی حکومت کی چال ہے جوآج پاکستان میں ہورہاہے۔ رضااکیڈمی کے چیئر میں الحاج محمدسعیدنوری صاحب جوکہ اس میٹنگ کے محرک اعلیٰ ہیں انہوںنے عشقِ رسالت کے حوالے سے بیان دیتے ہوئے کہاکہ ہمارے جسم کے خون کاایک ایک قطرہ عشقِ رسالت، ناموسِ رسالت کے لئے قربان ہے، آج پاکستان کی سرزمین پریزیدی نظریہ کے حامل کی حکومت برسرِ اقتدار ہے جوحسینی مشن کودباکر یزیدیت ذہنیت کے لوگوں کے ساتھ کھڑی ہے، آپ نے مزیداپنے بیان میں کہاکہ عمران حکومت یاد رکھے، اقتدار کے مزے چند دنوں کے ہیں، جواپنی طاقت کے بل بوتے، محافظینِ ناموسِ رسالت کوٹاؤچر کررہی ہے، انہیں گرفتار کرکے اذیت ناک تکلیفیں دی جارہی ہیں۔ یہ عشقِ رسالت کی آگ ہے، جوبھڑکے گی بجھے گی نہیں ،اور دیکھناوہ دن دور نہیں جب اسے آگ کے لپیٹ میں عمران کی حکومت جل کر خاکستر ہوجائے گی۔ نوری صاحب نے یہ بھی کہاکہ عالمِ اسلام کے سربراہان کو چاہئے کہ وہ عمران کی حکومت کوپابند کریں کہ وہ محافظین رسالت کے پہرے داروں کو فوراباعزت رہاکرے، ورنہ پاکستان کے حالات مزیدبگڑ جائیں گے جس کاپورافائدہ وہاںکی دہشت گردتنظیمیں اٹھائیں گی۔اس موقع پردارالعلوم فیضانِ مفتی اعظم پھول گلی کے پرنسپل مولاناسیدہاشمی رضوی نے کہاکہ کل یزیدامامِ حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ذاتِ بابرکات سے پریشان تھااور آج یزیدیت خادم حسین سے پریشان ہے۔ آپ نے مزید کہاکہ ناموسِ رسالت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے لئے اگر جان بھی دینی پڑے تومسلمان اس کے لئے ہمہ وقت تیار ہے۔قاری عبدالرحمٰن ضیائی ،مولاناامان اللہ رضانوری ، مولاناخلیل نوری مولاناجمال احمدصدیقی اور دیگر علمااورشرکائے میٹنگ اپنے خیالات کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومتِ پاکستان دہشت گردی کوفروغ دینے اور امن پسندوںکودبانے کی کوشش میں ہے، جوہم کبھی نہیں ہونے دیں گے۔اور کہاکہ ناموسِ رسالت کے لئے چلائی جانے والی ہر تحریک کی حمایت کے لئے ہمیں تیار رہنے کی ضرورت ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی مطالبہ کیاکہ علامہ خادم حسین رضوی کے علاوہ جملہ محافظین ناموسِ رسالت کوفوری طور پرباعزت رہاکیاجائے۔اخیر میں مولاناسیدمحمدہاشمی رضوی صاحب نے تمام شرکاء کاشکریہ اداکیا۔

اس میٹنگ میں مولانامحمودعالم رشیدی گوونڈی، مولاناغلام ناصر جامعہ کنزالایمان اندھیری، مفتی تفویض احمدرضوی، مفتی عبدالصمدرضوی، مولانا اعجاز احمد کشمیری ،سیدغلام جیلانی قادری دارالعلوم غوث اعظم سیوڑی، قمررضااشرفی،قاری محمدنظام الدین قادری، مولوناشاہ عالم رضوی، سیدغلام سروررضوی قاری معراج رضوی، مولانااکمل خان برکاتی، سیوڑی کے علاوہ دارالعلوم فیضان مفتی اعظم پھول گلی ممبئی کے جملہ اساتذہ ودیگرعلمائے اہلسنّت نے شرکت کی۔