أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَفَغَيۡرَ دِيۡنِ اللّٰهِ يَبۡغُوۡنَ وَلَهٗۤ اَسۡلَمَ مَنۡ فِى السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ طَوۡعًا وَّكَرۡهًا وَّاِلَيۡهِ يُرۡجَعُوۡنَ

ترجمہ:

کیا یہ اللہ کے دین کے علاوہ کسی اور دین کو تلاش کرتے ہیں حالانکہ آسمانوں اور زمینوں کی سب مخلوق نے خوشی اور نا خوشی سے اسی کی اطاعت کی ہے اور اسی کی طرف وہ سب لوٹائے جائینگے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : کیا یہ اللہ کے دین کے علاوہ کسی اور دین کو تلاش کرتے ہیں حالانکہ آسمانوں اور زمینوں کی سب مخلوق نے خوشی اور ناخوشی سے اسی کی اطاعت کی ہے اور اسی کی طرف وہ سب لوٹائے جائیں گے۔ (آل عمران : ٨٣)

زمینوں اور آسمانوں اور تمام مخلوق کی اطاعت کا بیان : 

اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا تھا کہ تمام انبیاء (علیہم السلام) اور ان کی امتوں پر یہ واجب اور لازم کردیا ہے کہ وہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا لایا ہوا دین ہے ‘ اور جو شخص اس دین کو ناپسند کرے گا۔ وہ اللہ کے دین کو ناپسند کرے گا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ یہود و نصاری سے فرمایا : کیا یہ اللہ کے دین کے علاوہ اور کسی دین کو تلاش کرتے ہیں ‘ اس کے بعد فرمایا : حالانکہ آسمانوں اور زمینوں کی سب مخلوق خوشی اور ناخوشی سے اس کے لیے اسلام لائی۔ اسلام کا اصطلاحی معنی ہے : سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ تعالیٰ کے پاس سے جو کچھ لے کر آئے اس کو ماننا ‘ قبول کرنا اور اس کی تصدیق کرنا ‘ اور اسلام کا لغوی معنی ہے : اطاعت سے سرتسلیم خم کرنا اور یہاں لغوی معنی مراد ہے ‘ آسمانوں اور زمینوں پر مخلوق نے خوشی یا ناخوشی سے اس کے لیے اسلام لائی، اسلام اصطلاحی معنی ہے : سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ تعالیٰ کے پاس سے جو کچھ لے کر آئے اس کو ماننا ‘ قبول کرنا اور اس کی تصدیق کرنا ‘ اور اسلام کا لغوی معنی ہے : اطاعت سے سرتسلیم خم کرنا اور یہاں لغوی معنی مراد ہے ‘ آسمانوں اور زمینوں پر مخلوق نے خوشی یا ناخوشی سے اس کی اطاعت کی ‘ اس اطاعت کا معنی امام رازی نے یہ بیان فرمایا ہے :

اللہ سبحانہ کے ماسوا ہر چیز ممکن لذاتہ ہے اور ہر ممکن اپنے وجود اور عدم میں اس کا محتاج ہے اور اپنے وجود اور عدم میں اللہ کا محتاج ہونا یہی اس کے اطاعت گزار ہونے کا معنی ہے کہ اس کے ایجاد کرنے سے ممکن موجود ہوجائے اور اس کے فنا کرنے سے ممکن معدوم ہوجائے تو آسمانوں اور زمینوں کی ہر مخلوق اپنے وجود اور عدم میں اللہ کی اطاعت گزار ہے اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے حصر کردیا ہے کہ سب اسی کے اطاعت گزار ہیں ‘ اس کا معنی ہے کہ اللہ ہی خالق واحد ہے اس کے سوا اور کوئی نہ کسی چیز کو پیدا کرسکتا ہے اور نہ کسی چیز کو فنا کرسکتا ہے اور قرآن مجید کی حسب ذیل آیتوں کا بھی یہی معنی ہے۔ (تفسیر کبیر ج ٢ ص ٤٨٧ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ)

(آیت) ” وللہ یسجد من فی السموت والارض طوعا وکرھا “۔ (الرعد : ١٥)

ترجمہ : اور آسمانوں اور زمینوں کی ہر چیز خوشی اور زمینوں کی ہر چیز خوشی اور ناخوشی سے اللہ ہی کو سجدہ کرتی ہے۔

(آیت) ” وان من شیء الا یسبح بحمدہ ولکن لا تفقھون تسبیحھم “ (بنی اسرائیل : ٢٣)

ترجمہ : اور ہر چیز اللہ کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتی ہے ‘ لیکن تم ان کی تسبیح نہیں سمجھتے۔

امام رازی نے آسمانوں اور زمینوں کی تمام مخلوق کی اطاعت کی تفسیر ان کے امکان اور احتیاج سے کی ہے یہ بہت عمدہ تفسیر ہے تاہم یہ کہنا بھی بعید نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمینوں اور ان کے درمیان تمام مخلوق کا جو تکوینی نظام بنایا ہے وہ سب خوشی یاناخوشی سے اس نظام کے مطابق عمل کر رہے ہیں ‘ کواکب سیارہ کی گردش ‘ مہر و ماہ کا طلوع اور غروب ‘ زمین کی حرکت ‘ بارش کا ہونا ‘ سمندروں اور دریاؤں کی روانی ‘ نباتات کی روئیدگی ‘ طوفان کا اٹھنا ‘ زلزلوں کا آنا اور ہر ذی روح کا مقررہ وقت پر پیدا ہونا اور مرجانا ‘ تمام جواہر ‘ موالید اور عناصر اس تکوینی نظام کے تحت اپنا اپنا کام خوشی یا ناخوشی سے انجام دے رہے ہیں۔

انسان کے جسم کی رگوں میں خون گردش کر رہا ہے ‘ انسان غذا کو کھا کر حلق کے نیچے اتار لیتا ہے پھر اس کھائی ہوئی غذا کو خون ‘ گوشت اور ہڈیوں میں متشکل کرنے کے لیے اس کے جسمانی اعضاء اس تکوینی نظام کے تحت کام کررہے ہیں۔

دل ‘ پھپھڑے ‘ جگر اور معدہ ایک مقررہ وقت تک یہ کام انجام دیتے رہتے ہیں ‘ غرض انسان کے باہر جو پھیلی ہوئی کائنات اور عالم کبیر ہے وہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی اطاعت میں لگا ہوا ہے۔ اور انسان کے اندر جو عالم صغیر ہے وہ بھی اللہ تعالیٰ کے احکام کی اطاعت میں لگا ہوا ہے کوئی چیز اس کی اطاعت سے باہر نہیں ہے ‘ ایک درمیان میں یہ خاک کا پتلا ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اختیار دے کر انسان بنادیا پھر اس کو یہ موقع دیا کہ وہ عالم کبیر کو اللہ کا اطاعت گزار دیکھ کر اس سے عبرت حاصل کرے یا خود اپنے نفس اور عالم صغیر میں جھانک کر دیکھ لے اور اس سے نصیحت حاصل کرے ‘ جب اس کا اپنا نفس اور کائنات کی کوئی چیز بھی اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اس کی بارگاہ میں سجدہ ریزی سے باہر نہیں ہے تو وہ خود اس کے حضور اطاعت سے سر تسلیم خم کیوں نہیں کرتا۔

(آیت) ” سنریھم ایاتنا فی الافاق وفی انفسھم حتی یتبین لھم انہ الحق “۔ (حم السجدہ : ٥٣)

ترجمہ : عنقریب ہم عالم کے اطراف میں انہیں اپنی نشانیاں دکھائیں گے اور ان کے نفسوں میں حتی کہ ان پر منکشف ہوجائے گا کہ یقینا وہی (قرآن) حق ہے۔

(آیت) ” وفی الارض ایات للموقنین۔ وفی انفسکم افلاتبصرون۔ (الذاریات : ٢١۔ ٢٠)

ترجمہ : اور یقین رکھنے والوں کے لیے زمین میں نشانیاں ہیں اور خود تمہارے نفسوں میں ‘ کیا تم (ان سے) بصیرت حاصل نہیں کرتے۔

خلاصہ یہ ہے کہ آسمانوں اور زمینوں کی تمام مخلوق کے خوشی یا ناخوشی سے اطاعت گزار ہونے کے دو معنی ہیں ایک وہ جو امام رازی نے بیان فرمایا کہ ہر مخلوق کا اپنے وجود اور عدم میں اللہ تعالیٰ کا محتاج ہونا اس کی اطاعت گزاری ہے اور دوسرا وہ معنی جو ہم نے بیان کیا کہ تمام ممکنات ممکنات کا اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے تکوینی نظام کے تحت خوشی یا ناخوشی سے کام کرنا اس کی اطاعت گزاری ہے۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 83