علماء کے اقسام اور ان کا تعارف

گل بہار سعیدی 
 
 
 
علما دو طرح کے ہوتے ہیں
(۱ )علمائے سو
(۲) علما ئے حق۔
علمائے حق ہی کو دوسرے لفظوں میں علمائے آخرت کہتے ہیں ۔علمائے حق کا علم سے مقصد رضائے الہی ہو تا ہے جب کہ علمائے سو کا مقصد دنیا حاصل کرنا اور شہرت پا نا ہو تا ہے ۔
علمائے حق کی فضیلت: علمائے آخرت کے متعلق اللہ ارشاد فرماتا ہے:
وَ إِنَّ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَمَنْ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِمْ خَاشِعِينَ لِلَّهِ لَا يَشْتَرُونَ بِآيَاتِ اللَّهِ ثَمَنًا قَلِيلًا أُولَئِكَ لَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ۔(آل عمران: ۱۹۹)
ترجمہ :بے شک کچھ اہلِ کتاب ایسے بھی ہیں جو اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور اس کتاب پر بھی ایمان لاتے ہیں جو تمھاری جانب نازل کی گئی ہے اور جو ان کی طرف نازل کی گئی تھی، ان کے دل اللہ کے حضور جھکے رہتے ہیں اور اللہ کی آیتوں کے عوض کم دام وصول نہیں کرتے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا اجر ان کے رب کے پاس ہے۔
علمائے حق کی علامتیں : علمائے حق کی چند علامتیں ہیں۔ جن کے اندر یہ علامتیں پائی جاتی ہیں انہیں عالم باللہ کہا جاتا ہے۔ عالم باللہ اپنے علم سے دنیا کا حصول نہیں کرتے بلکہ آخرت کو طلب کرتے ہیں ،ان کا قول ان کے فعل کے مخالف نہیں ہو تا۔ ان کا مقصد آخرت میں نفع دینے والے اور اطاعت میں رغبت دلانے والے علم کا حصول ہو تا ہے۔ وہ ایسے علم سے اجتناب کرتے ہیں جو لڑائی، جھگڑے، عداوت ونفرت کی جانب مفضی ہو۔ اشیائے خوردونوش میں آسودگی ،لباس میں زیبائش ،گھریلو سامان اور رہائش کے مکان میں خوبصورتی کی طرف مائل نہیں ہوتے بلکہ ان تمام امور میں میانہ روی اختیار کرتے ہیں ،حکمرانوں سے دور رہتے ہیں جب تک ان سے دور رہنے کی راہ مسدود نہ ہوجائے ہر گز ان کے پاس نہیں جاتے ہیں ،بلکہ ملاقات سے بھی احتراز کرتے ہیں، فتوی دینے میں جلد بازی سے کام نہیں لیتے بلکہ توقف کرتے ہیں اور حتی الامکان اپنے آپ کو فتوی دینے سے بچاتے ہیں ، علمِ باطن، راہِ آخرت اور اس پر چلنے کی کیفیت کو جاننے کی زیادہ کوشش کرتے ہیں، ان کی حالتِ جسمانی عاجزانہ ہوتی ہے، وہ انکساری سے سر جھکائے خاموش رہتے ہیں اور خشیت کا اثر ان کی سیرت وصورت ،ظاہری لباس ،حرکات وسکنات سب پر ظاہر ہو تا ہے، ان کی صورت دیکھنے سے اللہ کی یاد آتی ہے۔
علمائے سو کی مذمت: علمائے سو کے حوالے سے اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ لَتُبَيِّنُنَّهُ لِلنَّاسِ وَلَا تَكْتُمُونَهُ فَنَبَذُوهُ وَرَاءَ ظُهُورِهِمْ وَاشْتَرَوْا بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا فَبِئْسَ مَا يَشْتَرُونَ (آل عمران: ۱۸۷)
جب اللہ نے ان لوگوں سے پختہ عہد لیا جنھیں کتاب عطا کی گئی تھی کہ تم ضرور اسے لوگوں سے صاف صاف بیان کروگے اور جو کچھ اس میں بیان ہوا ہے اسے نہیں چھپائو گے۔ انھوں نے اس عہد کو پسِ پشت ڈال دیا اور اس کے بدلے تھوڑی قیمت وصول کرلی۔ یہ ان کی بہت ہی بری خریداری ہے۔
حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرما یا:علم اس لیے حاصل نہ کرو کہ اس کے ذریعے علما پر فخر کرو گے، جاہلوں سے جھگڑا کروگے اور لوگوں کو اپنی طرف مائل کرو گے۔ جو ایسا کرے گا وہ آگ میں جائے گا ۔(سنن ابن ماجہ )
ایک دوسرے مقام پر فرماتے ہیں: عالم (سو) کو سخت عذاب دیا جائے گا، اس کے عذاب کی سختی کو بڑی سمجھتے ہوئے جہنمی اس کے پاس آئیں گے اور پو چھیں گے تم تو کل اچھی باتیں بتاتے تھے آج تمہارا یہ حال کیسا ہے؟ وہ کہے گا: میں بھلائی کا حکم دیتا تھا مگر خود اس پر عمل نہیں کرتا تھا، برائی سے روکتا تھا لیکن خود برائی میں ملوث رہتا تھا ۔(صحیح مسلم )۔
ہمیں چاہیے کہ علم دین حاصل کرکے اس پر عمل کریں، پھر دوسروں کو عمل کی تلقین کریں۔