أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قُلۡ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَمَاۤ اُنۡزِلَ عَلَيۡنَا وَمَاۤ اُنۡزِلَ عَلٰٓى اِبۡرٰهِيۡمَ وَ اِسۡمٰعِيۡلَ وَاِسۡحٰقَ وَيَعۡقُوۡبَ وَالۡاَسۡبَاطِ وَمَاۤ اُوۡتِىَ مُوۡسٰى وَ عِيۡسٰى وَالنَّبِيُّوۡنَ مِنۡ رَّبِّهِمۡ ۖ لَا نُفَرِّقُ بَيۡنَ اَحَدٍ مِّنۡهُمۡ وَنَحۡنُ لَهٗ مُسۡلِمُوۡنَ

ترجمہ:

آپ کہیے ہم اللہ پر ایمان لائے اور اس پر جو ہم پر نازل کیا گیا اور اس پر جو ابراہیم اور اسمعیل اور اسحاق اور یعقوب اور ان کی اولاد پر نازل کیا گیا اور جو موسیٰ اور عیسیٰ اور (دیگر) نبیوں کو ان کے رب کی طرف سے دیا گیا ہم (ایمان لاتے ہیں) ان میں سے کسی ایک کے درمیان فرق نہیں کرتے اور ہم اسی کے اطاعت گزار ہیں

تفسیر:

زیر تفسیر آیت کی آیات سابقہ کے ساتھ مناسبت :

اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے تمام نبیوں سے یہ میثاق اور پختہ عہد لیا تھا کہ جب ان کے پاس وہ رسول آجائیں جو ان پر نازل کی ہوئی کتابوں اور ان کے دین کی تصدیق کریں تو ان پر لازم ہے کہ وہ اس رسول پر ایمان لائیں اور اس کی نصرت کریں ‘ اور اس آیت میں یہ فرمایا ہے : آپ کہئے کہ ہم اللہ پر ایمان لائے اور اس پر جو ہم پر نازل کیا گیا اور اس پر جو ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب اور ان کی اولاد پر نازل کیا گیا اور جو موسیٰ اور عیسیٰ اور (دیگر) نبیوں کو ان کے رب کی طرف سے دیا گیا ‘ تاکہ یہ واضح ہوجائے کہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہی وہ رسول ہیں جن پر ضروری تھا کہ وہ آپ پر ایمان لاتے۔

دوسری مناسبت یہ ہے کہ اس آیت سے متصل پہلی آیت میں یہ فرمایا تھا : کیا یہ اللہ تعالیٰ کے دین کے علاوہ کسی اور دین کو تلاش کرتے ہیں ؟

اور اللہ تعالیٰ نے اللہ کے دین کے علاوہ کسی اور دین کو اختیار کرنے کی مذمت فرمائی ہے تو پھر یہ سوال پیدا ہوا کہ اللہ کا دین کون سا ہے ؟ اور کس دین کو اختیار کیا جائے لہذا اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں یہ بتلایا کہ جو کتاب سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل کی گئی اور آپ سے پہلے انبیاء پر جو کتابیں اور احکام نازل کئے گئے تھے ان سب پر ایمان لانا یہی اللہ کا دین ہے اور یہی اسلام ہے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آپ کہئے کہ ہم اللہ پر ایمان لائے اور اس پر جو ہم پر نازل کیا گیا۔ (آل عمران : 84)

” آپ کہئے “ یہ واحد کا صیغہ ہے اور ” ہم اللہ پر ایمان لائے “ یہ جمع کا صیغہ ہے ‘ بہ ظاہر یوں ہونا چاہیے تھا ” آپ کہئے میں اللہ پر ایمان لایا “ اس خلاف ظاہر اسلوب کی وجہ یہ ہے کہ اس پر متنبہ کیا جائے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے امت کی طرف پیغام لانے والے صرف واحد ہیں اور وہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں ‘ اس لیے پہلے صیغہ واحد سے خطاب کر کے فرمایا آپ کہئے۔ پھر ہم اللہ پر ایمان لائے “۔ صیغہ جمع کے ساتھ اس لیے فرمایا کہ اس پیغام پر ایمان لانے کے صرف آپ مکلف نہیں ہیں ‘ بلکہ تمام اس کی مکلف ہے۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ واحد کا صیغہ تواضع ‘ انکسار اور عاجزی کے اظہار کے لیے لاتے ہیں اور جمع کا صیغہ تعظیم اور اجلال کے لیے لاتے ہیں اور اللہ کے سامنے آپ متواضع اور منکسر ہیں اس لیے واحد کے صیغہ سے فرمایا آپ کہئے اور امت کے سامنے آپ معظم اور مکرم اور صاحب جلال ہیں ‘ اس لیے فرمایا آپ امت سے کہیں ہم اللہ پر ایمان لائے ‘ جیسے امراء اور حکام ‘ عوام کے سامنے خود کو جمع کے صیغے کے ساتھ تعبیر کرتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ( اور ہم اس پر ایمان لائے) جو ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب اور ان کی اولاد پر نازل کیا گیا اور جو موسیٰ اور عیسیٰ اور (دیگر) نبیوں کو ان کے رب کی طرف سے دیا گیا۔ (آل عمران : ٨٤)

انبیاء سابقین (علیہم السلام) پر ایمان لانے کا مفہوم : 

امام فخرالدین محمد بن ضیاء الدین عمر رازی متوفی ٦٠٦ لکھتے ہیں :

اس میں اختلاف ہے کہ جن انبیاء (علیہم السلام) کی شریعت منسوخ ہوچکی ہے ان پر کس طرح ایمان لایا جائے ‘ بعض علماء نے یہ کہا کہ جب ان کی شریعت منسوخ ہوگئی تو ان کی نبوت بھی منسوخ ہوگئی اور ہم اس پر ایمان لاتے ہیں کہ وہ انبیاء اور رسل تھے اور اس پر ایمان نہیں لاتے کہ وہ اب انبیاء اور رسل ہیں اور بعض علماء نے یہ کہا کہ ان کی شریعت کا منسوخ ہونا ان کی نبوت کے منسوخ ہونے کو مستلزم نہیں ہے اور ہم اس پر ایمان لاتے ہیں کہ وہ اب بھی انبیاء اور رسل ہیں۔ (تفسیر کبیر ج ٢ ص ٤٨٨ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ)

اس مسئلہ میں تحقیق دوسرا قول ہے کہ ہمارا ایمان ہے کہ تمام انبیاء سابقین اب بھی نبی اور رسول ہیں اور ان پر نازل کی ہوئی کتابوں پر بھی ہم ایمان لاتے ہیں کہ وہ آسمانی کتابیں ہیں ‘ ہرچند کہ اب وہ کتابیں بعینہ باقی نہیں ہیں اور اہل کتاب نے ان میں لفظی اور معنوی تحریف کردی ہے۔ یہ آیت سورة بقرہ میں بھی ہے وہاں پر ارشاد ہے :

(آیت) ” امن الرسول بما انزل الیہ من ربہ “۔ (البقرہ : ٢٨٥) 

ترجمہ : رسول اس پر ایمان لائے جو ان کی طرف سے ان کے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ؛۔

اور یہاں ارشاد ہے :

(آیت) ” قل امنا باللہ وما انزل علینا “ ‘۔ (ال عمران : ٨٤)

ترجمہ : آپ کہئے ہم اللہ پر ایمان لائے اور اس پر جو ہم پر نازل کیا گیا۔

سورة بقرہ میں ” الی “ کا لفظ ہے اور یہاں ” علی “ لفظ ہے۔ ” الی “ کا معنی اللہ کی طرف سے اور ” علی “ کا معنی رسول پر ہے ‘ اس کی توجیہ یہ ہے کہ اللہ کا کلام اور اس کی کتابیں اللہ کی طرف سے رسول پر نازل ہوتی ہیں سورة بقرہ میں اللہ کی جانب کا اعتبار کیا اور فرمایا جو انکی طرف ان کے رب کی جانب کیا گیا اور یہاں رسول کا اعتبار کیا اور فرمایا اور اس پر جو ہم پر نازل کیا گیا ‘ خلاصہ یہ ہے کہ پہلی آیت میں منزل اور دوسری آیت میں منزل علیہ کا اعتبار کیا ہے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ہم ایمان لانے میں ان میں سے کسی ایک کے درمیان فرق نہیں کرتے۔

اس میں یہود کی طرف تعریض ہے کہ وہ بعض نبیوں پر ایمان لاتے تھے اور بعض پر ایمان نہیں لاتے تھے ‘ اس کے برعکس ہم تما نبیوں پر ایمان لاتے ہیں اور نفس نبوت میں کسی نبی کے درمیان فرق نہیں کرتے۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 84