أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمَنۡ يَّبۡتَغِ غَيۡرَ الۡاِسۡلَامِ دِيۡنًا فَلَنۡ يُّقۡبَلَ مِنۡهُ‌ ۚ وَهُوَ فِى الۡاٰخِرَةِ مِنَ الۡخٰسِرِيۡنَ

ترجمہ:

اور جس نے اسلام کے علاوہ کسی اور دین کو طلب کیا تو وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور جس نے اسلام کے علاوہ کسی اور دین کو طلب کیا تو وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔ (آل عمران : ٨٥)

امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

عکرمہ بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو یہود نے کہا ہم مسلمان ہیں ‘ تب اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر حج کرنے کا حکم نازل کیا ‘ مسلمانوں نے حج کرلیا اور کفار بیٹھے رہے۔

نیز اس آیت نے درج ذیل آیت کے مفہوم کو منسوخ کردیا :

(آیت) ” ان الذین امنوا والذین ھادوا والنصاری والصابئین من امن باللہ والیوم الاخر وعمل صالحا فلھم اجرھم عند ربھم ولا خوف علیہم ولا ھم یحزنون (البقرہ : ٦٢) 

ترجمہ : بیشک جو لوگ ایمان لائے اور جو بھی اللہ اور روز قیامت پر ایمان لایا اور اس نے نیک عمل کیے تو ان کے رب کے پاس ان کا اجر ہے نہ ان پر کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔

اس آیت سے بہ ظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہودیوں ‘ عیسائیوں اور صابئین کا دین بھی اللہ تعالیٰ کے نزدیک مقبول ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں فرمایا کہ اسلام کے سوا اور کوئی دین کے نزدیک ہرگز قبول نہیں ہوگا ‘ اور سورة بقرہ کی ظاہر آیت سے جو مفہوم نکل رہا تھا اس کو اس آیت سے منسوخ فرما دیا (جامع البیان ج ٣ ص ‘ ٣٤١ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)

اسلام کے لغوی اور شرعی معنی کا بیان : 

علامہ ابوالحیان اندلسی اور بعض دیگر مفسرین نے لکھا ہے کہ اسلام سے مراد یہاں اسلام کا لغوی معنی ہے یعنی ظاہری اطاعت اور فرمانبرداری ‘ لیکن صحیح یہ ہے کہ یہاں اسلام سے مراد اسلام کا شرعی اور اصطلاحی معنی ہے یعنی وہ عقائد اور احکام جن کے ساتھ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مبعوث کیا گیا اور جس دین کی آپ نے تبلیغ کی۔

امام رازی نے اس آیت سے یہ استدلال کیا ہے کہ ایمان اور اسلام مترادف ہیں کیونکہ اگر ایمان اسلام کا غیر ہو تو لازم آئے گا کہ پھر ایمان غیر مقبول ہو۔ لیکن یہ استدلال صحیح نہیں ہے کیونکہ اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اسلام کے علاوہ کوئی اور دین مقبول نہیں ہے ‘ اس لیے یہ جائز ہے کہ ایمان سے مراد عقائد اور احکام کی تصدیق ہو اور اسلام سے مراد ان عقائد اور احکام کی تصدیق ہے جن کے ساتھ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مبعوث کیا گیا ‘ البتہ درج ذیل آیت میں اسلام کا لغوی معنی یعنی اطاعت کرنا مراد ہے : (تفسیر کبیر ج ٢ ص ٤٨٩ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ)

(آیت) ” قالت الاعراب امنا قل لم تؤمنوا ولکن قولوا اسلمنا “۔ (الحجرات : ١٤)

ترجمہ : دیہاتیوں نے کہا ہم ایمان لائے ‘ آپ کہئے تم ایمان نہیں لائے لیکن کہو ہم نے اطاعت کی۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا۔

نقصان کا معنی ہے اصل مال کا ضائع ہوجانا ‘ اور یہاں اس سے مراد یہ ہے کہ اس نے اس فطرت سلیمہ کو ضائع کردیا جس پر وہ پیدا کیا گیا تھا۔

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہر مولود فطرت (اسلام) پر پیدا ہوتا ہے ‘ پھر اس کے ماں باپ اس کو یہودی ‘ نصرانی یا مجوسی بنادیتے ہیں جیسے جانور سے مکمل جانور پیدا ہوتا ہے کیا تم اس میں کوئی نقص دیکھتے ہو !

اس حدیث کو امام احمد نے بھی روایت کیا ہے۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ١٨٥‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطالع کراچی ‘ ١٣٨١ ھ ‘ مسند احمد ج ٢ ص ٣٤٦‘ ٣١٥‘ مطبوعہ بیروت)

خلاصہ یہ ہے کہ ہر انسان کی فطرت میں اللہ تعالیٰ قبول اسلام کی صلاحیت رکھتا ہے اور آخرت کی فوز و فلاح حاصل کرنے کے لیے اس کے پاس یہی اصل سرمایہ ہے اور جب اس نے اسلام کے سوا کسی اور دین کو قبول کر لای تو اس نے اپنے اصل سرمایہ کو ضائع کردیا اور اب اس نے پاس اخروی کامیابی حاصل کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں رہا ‘ اب وہ آخرت میں ثواب سے محروم ہوگا اور عذاب میں مبتلا ہوگا ‘ اسے اسلام قبول نہ کرنے کا افسوس ہوگا اور دوسرے ادیان کے احکام پر عمل کرنے کی مشقت اٹھانے کی وجہ سے پشیمانی ہوگی۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 85