مولا علی المرتضیٰ شیر خدا کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم سے لے کر امام حسن عسکری تک اور آپ سے لے کر تاجدار گولڑہ پیر سید مہر علی شاہ صاحب علیہ الرحمہ تک سادات کرام کی حالات زندگی پڑھ لیں کہ اِن مبارک ہستیوں کی ساری زندگیاں بلکہ اِک اِک لمحہ اللہ و رسول کی اطاعت و فرمانبرداری ، رضا و خوشنودی کی خاطر گزرا ۔ یہ وہ مبارک ہستیاں ہیں جن سے اللہ و رسول راضی ہیں ، مُلک و کونین کے خزانوں پر جب چاہیں تصرف فرماسکتے ہیں مگر اس کے باوجود اِن بندگان خدا نے ساری زندگی نہایت سادگی سے بسر کی اور خوف خدا و گریہ و زاری کرتے ہوئے ہمیشہ عاجزی و انکساری کا پیکر بنے رہے ، ان کا غیرت ایمانی سے سرشار حق و باطل میں فرق کرنے کا جرات مندانہ انداز اور عمل ، قیامت تک آنے والے صوفیاء و مشائخ کیلئے مشعل راہ ہے ؛

مگر آج کے اکثر سادات گدی نشینوں کی عیش و عشرت ، رہن سہن ، ٹھاٹھ باٹھ ، انداز گفتگو ، اٹھنا بیٹھنا ، رنگا رنگ محافل میں شرکت کرنا اور ان کا انعقاد کروانا ، انواع اقسام کے کھانے اور کپڑے زیب تن کرنا وغیرہ یہ سب چینخ چینخ کر پیغام دے رہا ہے کہ ہمیں اُن بزرگوں سے نسبت تو ضرور ہے مگر سادگی و عاجزی والی نسبت سے کوئی نسبت نہیں ، ہم خود کو مولا علی شیر خدا کی اولاد تو کہتے ہیں مگر مسئلہ ناموس رسالت میں بزدلی کی اعلی مثال بھی قائم کیے بیٹھے ہیں ، ہماری رگوں میں حُسینی خون تو دوڑ رہا ہے مگر حکمران کے آگے کلمہ حق کہنے سے ڈرتے ہیں ،

ہم اپنے بزرگوں کے فضائل و مناقب سُنا کر لوگوں کو ان کے رستے پر چلنے کا درس تو ضرور دیتے ہیں (تاکہ مریدین کا اضافہ ہو) مگر خود راستہ چھوڑ کر بیٹھے ہیں ، ہم اِس عقیدت مند اُمت کے آگے ہمدردیاں اور پیسے اکٹھے کرنے کیلئے آلِ رسول کا نام تو ضرور لیتے ہیں مگر جب اُنہی بزرگوں کی سیرت پر عمل کرنے کا وقت آتا ہے اور اُن کے نقش قدم پر چلنا ہوتا ہے ، تو پھر ہمیں اپنی عزتیں اور گدیاں پیاری ہوجاتی ہیں اور گویا زبان حال سے کہتے ہیں کہ اس مسئلہ میں ہمارے اور اُن کے راستے جدا جدا ہیں ۔

الغرض باتیں تو بہت ہیں اگر ایسے بے عمل اور سادات کہلانے والے پاکستانی اور انڈین گدی نشینوں کے حالات زندگی پر کچھ لکھوں تو اِن بے عمل گدی نشینوں کی دکانداری چمکانے والے جہلاء ، دشمنِ سادات کا فتوی لگاتے ہوئے ناصبیت اور خارجیت کا لیبل لگانے کی کوشش کریں گے لہذا ۔۔۔چُپ کر مہر علی ایتھے جا نہیں بولن دی 😢

✍ارسلان احمد اصمعی قادری

7/12/2018ء