تقوی ہو تو ایسا

حکایت نمبر 104: تقوی ہو تو ایسا

حضرت سیدنا ابراہیم بن ادہم علیہ رحمۃاللہ الاعظم فرماتے ہیں:”میں نے بعض مشائخ سے پوچھا کہ میں رزق حلال کس طرح اور کہاں سے حاصل کروں ۔” میرے اس سوال پر مشائخ کرام رحمہم اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”اگر تُورزق حلال کا طالب ہے تو ملک شام چلا جا ، وہاں تجھے رزق حلال کمانے کے وسائل میسر آجائیں گے ۔ ”میں نے ملک شام کی طر ف کوچ کیا اور اس کے ایک شہر ” مصیصہ”میں پہنچ گیا ۔وہاں میں کافی دن رہا اور لوگو ں سے پوچھتا رہا کہ میں کو ن سا کام کرو ں جس کے ذریعے مجھے رزقِ حلال حاصل ہو اور اس میں کسی قسم کا شبہ نہ ہو لیکن میری صحیح طر ح کوئی رہنمائی نہ کرسکا۔

بالآخر میں نے اپنا مسئلہ وہاں کے مشائخ کی خدمت میں پیش کیاتو انہوں نے فرمایا: ”اگر تُو رزق حلال کا طالب ہے تو ”طر سوس” نامی شہر میں چلا جا۔وہاں اِنْ شَاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ! تجھے کسب حلال کے ذریعے رزق حلال میسر آجائے گا۔ چنانچہ مَیں طرسوس شہر پہنچا اور وہاں اپنے مقصد کی خاطر اِدھراُدھر گھومتا رہا۔ ایک دن میں ساحلِ سمند ر پر گیا تا کہ وہاں کوئی کام تلاش کروں جس کے ذریعے رزقِ حلال حاصل ہوسکے۔ میں ساحلِ سمندر پر تھا کہ ایک شخص آیا اور اس نے کہا :” مجھے اپنے انگوروں کے باغ کی دیکھ بھال کے لئے ایک با غبان کی ضرو رت ہے کیا تم اُجرت پر میرے باغ کی نگہبائی کے لئے تیار ہو؟ ”میں نے کہا: ”جی ہاں! میں تیارہوں۔ ”

چنانچہ میں اس شخص کے ساتھ چلا گیا اور خوب محنت ولگن سے اپنا کام کرتا رہا ۔ مجھے اس باغ میں کام کرتے ہوئے جب کافی دن گزرگئے تو ایک دن با غ کا مالک اپنے کچھ دو ستوں کے ساتھ با غ میں آیا اور مجھے بلاکر کہا : ”ہمارے لئے بہترین قسم کے میٹھے انگور توڑ کر لاؤ ۔” یہ سن کر میں نے اپنی ٹوکری اُٹھائی اور ایک بیل سے کافی انگور لاکر اس با غ کے مالک کے سامنے رکھ دیئے۔ جب اس نے انگور کا دانہ کھایا تو وہ کھٹا تھا ۔اس نے مجھ سے کہا :” اے با غبان !تجھ پر افسوس ہے، کیا تجھے حیا نہیں آتی کہ تُواتنے دنوں سے اس با غ میں کام کر رہا ہے او رابھی تک تجھے کھٹے اور میٹھے انگوروں کی پہچا ن نہ ہو سکی حالانکہ تُو یہاں سے انگور وغیرہ خوب کھاتا ہوگا ۔”
میں نے کہا:” اللہ عزوجل کی قسم! میں نے آج تک اس با غ سے انگور کا ایک دانہ بھی نہیں کھایا، پھر مجھے کھٹے او رمیٹھے انگوروں کی پہچان کس طر ح حاصل ہوسکتی ہے، مجھے تو صرف اس باغ کی دیکھ بھال کے لئے خادم رکھا گیا تھا ،لہٰذا میں دیکھ بھال توکرتا رہا لیکن اس با غ میں سے انگور کا ایک دانہ بھی نہ کھا یا ۔”
حضرت سیدنا ابراہیم بن ادہم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے یہ جواب سن کربا غ کا مالک اپنے دوستوں کی طر ف متوجہ ہوا او رکہنے لگا: ”تمہاری کیا رائے ہے ؟کیا اس سے بھی زیادہ کوئی عجیب بات ہوسکتی ہے کہ ایک شخص اتنے عرصہ تک با غ میں رہے اور پھر اِتنی ایمانداری سے رہے کہ وہاں سے ایک دانہ بھی نہ کھائے ؟یہ شخص تو ابراہیم بن ادہم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی طر ح متقی او رپر ہیزگا ر معلوم ہوتا ہے (اس با غ والے کو معلوم نہ تھا کہ یہی حضرت سیدنا ابراہیم بن ادہم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ہیں)حضرت سیدنا ابراہیم بن ادہم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:” پھر میں اپنے کام میں لگ گیا اوربا غ کامالک وہاں سے رخصت ہوگیا ۔”
دوسرے دن میں نے دیکھا کہ آج پھر باغ کامالک بہت سارے لوگوں کے ساتھ باغ کی طرف آرہاہے ۔ مَیں سمجھ گیا کہ میرے اس و اقعہ کی خبر اس نے لوگوں کو دی ہوگی اس لئے لوگ مجھے ملنے آرہے ہیں ۔ چنانچہ میں چھپ کر با غ سے نکل گیا، وہ لوگ با غ میں داخل ہوئے ،ان کی تعداد بہت زیادہ تھی۔ وہ مجھے باغ میں تلاش کرتے رہے لیکن میں انہیں نہ ملا،مَیں وہاں ہوتا تو انہیں ملتا میں تو وہاں سے باہرآگیا تھا ۔ وہ لوگ کافی دیر تک مجھے ڈھونڈتے رہے بالآخر تھک ہار کر واپس چلے گئے اور میں نے کسی سے بھی ملاقات نہ کی۔ (اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي الله تعالي عليه وسلم)
(میٹھے میٹھے اسلامی بھا ئیو!سبحان اللہ عزوجل ! تقوی ہو تو ایسا کہ اتنا عرصہ با غ میں رہنے کے با وجود بھی وہاں سے کوئی چیز نہ کھائی حالانکہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اگر وہاں سے انگور کھاتے تو مالک کوکوئی اعتر اض نہ ہوتا لیکن یہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی کمال درجہ احتیاط تھی۔ اللہ عزوجل ان کے صدقے ہمیں بھی تقوی وپرہیز گا ری کی دولت سے مالا مال فرمائے اور رزقِ حرام سے بچنے کی تو فیق عطا فرمائے ۔آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم)
رہوں مست وبے خود میں تیری ولا میں پلا جام ایسا پلا یاالٰہی 

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.