حدیث نمبر :225

روایت ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری حدیث روایت کرنے سے بچو سوا ان کے جن کو تم جانتے ہو ۱؎ کیونکہ جوعمدًا مجھ پرجھوٹ باندھے وہ اپنا ٹھکانہ آگ کا بنالے۲؎ اسے ترمذی نے روایت کیا۔اور ابن ماجہ نے حضرت ابن مسعود اور جابر سے نقل فرمایا اور”اتقوا الحدیث”الخ کا ذکر نہ کیا۔

شرح

۱؎ یقین سے یا گمان غالب سے کہ وہ میری حدیث ہے،لہذا حدیث متواتر اورمشہور بے دھڑک روایت کرو اور حدیث ضعیف کا ضعف بیان کرکے اور حدیث موضوع کو ہاتھ مت لگاؤ۔ہاں لوگوں کو بچانے کے لیئے یہ بتاسکتے ہو کہ یہ حدیث گھڑی ہوئی ہے اسی بنا پر بعض محدثین نے حتی الامکان حدیث ضعیف کی روایت ہی نہ کی،جیسے امام بخاری و مسلم اور بعض نے روایت تو کی مگر بیان ضعف لازم کرلیا،جیسے امام ترمذی۔غرضکہ حدیث میں بڑی احتیاط چاہیئے۔مرقاۃ نے فرمایا کہ تحریر پر اعتماد کرکے روایت حدیث جائز ہے۔

۲؎ اگرچہ ہر ایک پر جھوٹ باندھنا بہتان اور گناہ ہے،مگر حضور انورصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر جھوٹ باندھنا بہت گناہ ہے کہ اس سے دین بگڑتا ہے۔مُتَعَمِّدًا کی قید سے معلوم ہوا کہ خطا پر پکڑ نہیں،اگر کسی حدیث کے موضوع ہونے کی خبر نہ ہوئی اور روایت کردی تو مجرم نہیں۔