حدیث نمبر :224

روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ اﷲ اسے ہرا بھرا رکھے جو ہم سے کچھ سنے ۱؎ پھر جیسا سنے ویسا ہی پہنچادے۲؎ کیونکہ بہت سے پہنچائے ہوئے سننے والے سے زیادہ سمجھدار ہوتے ہیں اسے ترمذی ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور دارمی نے ابودرداء سے۔

شرح

۱؎ یعنی مجھ سے یا میرے صحابہ سے میرا یا ان کا کوئی قول یا عمل سنے۔لہذا حدیث چار قسم کی ہوئی حضور کا قول اور فعل،صحابہ کا قول اور فعل۔اسی لیئے مِنَّا جمع اور شَیئًا نکرہ ارشاد ہوا۔

۲؎ اس طرح کہ مضمون نہ بدلے یا حدیث کے الفاظ میں فرق نہ پیدا ہو۔خیال رہے کہ ابن عمر،مالک ابن انس،ابن سیرین وغیرہم کے نزدیک حدیث کی روایت بالمعنٰے حرام ہے،کیونکہ بسا اوقات لفظ کے بدلنے سے معنی بدل جاتے ہیں اور راوی کو خبر نہیں ہوتی اور امام حسن،شعبی،نخعی و مجاہد وغیرہم کے نزدیک روایت بالمعنی جائز کہ راوی حدیث کے الفاظ اس طرح بدل دے کہ معنی نہ بدلیں۔پہلے قول میں احتیاط ہے دوسرے میں گنجائش،بہتر یہی ہے کہ الفاظ بھی نہ بدلیں۔دیکھئے حضرت وائل ابن حجر نے نماز کی آمین کے بارے میں فرمایا”مَدَّبِھَا صَوتَہٗ”بعض راویوں نے اسے”رَفَعَ بِھَا صَوتَہٗ”سے روایت کیا۔وہ سمجھے کہ دونوں کے معنٰے ایک ہی ہیں مگر بعد والوں کو دھوکہ لگا کہ شاید اس کے معنی ہیں بلند آواز سے آمین کہی،حالانکہ اس کا ترجمہ تھا کہ آمین کھینچ کر الف کے مد کے ساتھ کہی،روایت بالمعنٰی میں یہ خطرے ہیں اس لیئے فرمایا کہ جیسی سنے ویسی پہنچائے۔