أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

كَيۡفَ يَهۡدِى اللّٰهُ قَوۡمًا كَفَرُوۡا بَعۡدَ اِيۡمَانِهِمۡ وَشَهِدُوۡۤا اَنَّ الرَّسُوۡلَ حَقٌّ وَّجَآءَهُمُ الۡبَيِّنٰتُ‌ؕ وَاللّٰهُ لَا يَهۡدِى الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ

ترجمہ:

اللہ اس قوم کو کیوں کر ہدایت دے گا جو ایمان لانے کے بعد کافر ہوگئے حالانکہ وہ لوگ (پہلے) یہ گواہی دے چکے تھے کہ رسول برحق ہیں اور ان کے پاس دلیلیں آچکی تھیں اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اللہ اس قوم کو کیسے ہدایت دے گا جو ایمان لانے کے بعد کافر ہوگئی ‘ حالانکہ وہ لوگ پہلے یہ گواہی دے چکے تھے کہ رسول برحق ہیں اور ان کے پاس دلیلیں آچکی تھیں اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ (آل عمران : ٨٦)

زیر تفسیر آیت کے شان نزول میں متعدد اقوال : 

اس آیت کے شان نزول کے متعلق کئی اقوال ہیں ‘ امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ روایت کرتے ہیں :

عکرمہ نے کہا کہ حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ انصار میں ایک شخص مسلمان ہوا ‘ پھر مرتد ہو کر مشرکین کے ساتھ لاحق ہوگیا ‘ پھر وہ نادم ہوا اور اس نے اپنی قوم کے ذریعہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ پیغام بھیجا کیا میری توبہ قبول ہوسکتی ہے ؟ اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی اس قوم کو کیسے ہدایت دے گا جو ایمان لانے کے بعد کافر ہوگئی۔ سوا ان لوگوں کے جنہوں نے اس کے بعد توبہ کرلی اور وہ نیک ہوگئے۔ ان کی قوم نے ان کو پیغام بھیجا ‘ پھر وہ مسلمان ہوگئے۔

مجاہد نے بیان کیا کہ حارث بن سوید آئے اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاتھ پر مسلمان ہوگئے ‘ پھر حارث دوبارہ کافر ہو کر اپنی قوم کی طرف لوٹ گئے ‘ تب اللہ عزوجل نے انکے متعلق یہ آیت نازل کیں ‘ انکی قوم کے ایک شخص نے ان کے سامنے ان آیات کو پڑھا ‘ حارث نے کہا بیشک تم نے سچ کہا ‘ اور بیشک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تم سے زیادہ صادق ہیں اور بیشک اللہ عزوجل تینوں میں سب سے زیادہ صادق ہے ‘ حارث دوبارہ اسلام کی طرف لوٹ آئے اور انہوں نے اسلام میں نیک عمل کیے۔

حسن بصری نے کہا یہ آیتیں یہودونصاری کے متعلق نازل ہوئی ہیں ‘ جو اپنی کتابوں میں سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صفات پڑھتے تھے اور ان کا اقرار کرتے تھے اور ان کے حق ہونے کی شہادت دیتے تھے اور جب آپ ان کے علاوہ دوسری قوم سے مبعوث ہوگئے تو انہوں نے آپ کا انکار کیا اور آپ کا اقرار کرنے کے بعد آپ کا کفر کیا۔

ایک اور سند کے ساتھ حسن بصری سے روایت ہے کہ یہ آیت ان اہل کتاب کے متعلق نازل ہوئی ہے جو اپنی آسمانی کتابوں میں سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ذکر پڑھتے تھے اور آپ کے وسیلہ سے فتح طلب کرتے تھے اور جب آپ مبعوث ہوئے تو وہ آپ پر ایمان لانے کے بعد کافر ہوگئے۔

امام ابو جعفر نے کہا ان اقوال میں حق کے زیادہ مشابہ اور آیات قرآن کے زیادہ قریب وہ قول ہے جو حسن بصری سے منقول ہے۔ (جامع البیان ج ٣ ص ‘ ٢٤٣ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)

اللہ تعالیٰ کے ہدایت دینے کا مطلب : 

اللہ تعالیٰ کے ہدایت دینے کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خیر وشر کے راستوں کو پیدا کیا اور انسان کی عقل میں یہ صلاحیت رکھی کہ وہ خیر اور شر کو متمیز کرسکے ‘ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کی معرفت اور اپنے پسندیدہ اعمال کی طرف رہنمائی کرنے اور ناپسندیدہ اعمال سے روکنے کے لیے رسولوں کو مبعوث فرمایا اور آسمانی کتابوں اور صحائف کو نازل کیا اور ان کی توضیح اور تشریح کے لیے ہر دور میں علماء ربانیین اور مجددین کو پیدا فرمایا۔ درج ذیل میں آیات میں اس امر پر روشنی پڑتی ہے :

(آیت) ” الم نجعل لہ عینین۔ ولساناوشفتین “۔ وھدیناہ النجدین “۔ (البلد : ١٠۔ ٨)

ترجمہ : کیا ہم نے اس کی دو آنکھیں نہیں بنائیں۔ اور زبان اور دو ہونٹ۔ اور ہم نے اسے (خیر اور شر کے) دو واضح راستے دکھا دیئے۔

(آیت) ” بل الانسان علی نفسہ بصیرۃ۔ ولو القی معاذیرہ “۔ (القیامہ : ١٥۔ ١٤)

ترجمہ : بلکہ انسان خود اپنے اوپر شاہد ہے۔ خواہ وہ اپنے تمام عذر (بھی) پیش کر دے۔

(آیت) ” وما کنا معذبین حتی نبعث رسولا “۔ (بنواسرائیل : ١٥)

ترجمہ : اور ہم عذاب دینے والے نہیں حتی کہ ہم رسول بھیج دیں۔

ان آیات سے واضح ہوگیا کہ اللہ نے خیر اور شر کو متمیز کرنے کے لیے انسان کو عقل اور شعور عطا کیا اور اپنی معرفت اور اپنے احکام سے واقفیت حاصل کرنے کے لیے رسول بھیجے اور یہ اللہ تعالیٰ کی وہ عام ہدایت ہے جو اس نے ہر انسان کو عطا کی ہے اور کوئی شخص اللہ کے خلاف یہ حجت نہیں پیش کرسکتا کہ چونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو ہدایت نہیں دی اس لیے وہ معذور ہے۔

مرتدوں کو ہدایت نہ دینے کے اشکال کے جوابات اور بحث ونظر :

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے : ” اللہ اس قوم کو کیونکر ہدایت دے گا جو ایمان لانے کے بعد کافر ہوگئی ‘ حالانکہ پہلے یہ لوگ گواہی دے چکے تھے کہ رسول برحق ہیں اور ان کے پاس دلیلیں آچکی تھیں ‘ اور اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔

اس آیت پر یہ اشکال وارد ہوتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان ظالمین اور مرتدین کو ہدایت نہیں دی تو پھر ان کا دوبارہ اسلام کی طرف رجوع نہ کرنا اور توبہ نہ کرنا اور اپنے کفر اور ارتداد پر برقرار رہنا کیوں کر لائق مذمت اور باعث عذاب ہوگا ! امام رازی نے معتزلہ کی طرف سے اس اشکال کا یہ جواب نقل کیا ہے کہ اس آیت میں ہدایت سے مراد وہ الطاف اور عنایات ہیں جو اللہ تعالیٰ ہدایت یافتہ مومنین کو عطا فرماتا ہے اور اس کی ہدایت میں مزید ترقی عطا فرماتا ہے جیسا کہ حسب ذیل آیات سے ظاہر ہے :

(آیت) ” والذین جاھدوا فینا لنھدینھم سبلنا وان اللہ لمع المحسنین “۔ (العنکبوت : ٦٩)

ترجمہ : اور جن لوگوں نے ہماری راہ میں جہاد کیا ہم ضرور انہیں اپنی راہیں دکھادیں گے اور بیشک اللہ ضرور نیکی کرنے والوں کے ساتھ ہے۔

(آیت) ” ویزیداللہ الذن اھتدوا ھدی “۔ (مریم : ٧٦)

ترجمہ : اور جن لوگوں نے ہدایت پائی اللہ ان کی ہدایت کو زیادہ کردیتا ہے۔

(آیت) ” یھدی بہ اللہ من اتبع رضوانہ سبل السلام ویخرجھم من الظلمت الی النور باذنہ ویھدیھم الی صراط مستقیم “۔ (المائدہ : ١٦)

ترجمہ : اللہ اس (رسول اور کتاب) کے ذریعہ ان لوگوں کو ہدایت دیتا ہے جو سلامتی کی راہوں کی اتباع کرتے ہیں ‘ اور ان کو اپنے اذن سے تاریکیوں سے نکال کر نور کی طرف لاتا ہے اور ان کو صراط مستقیم کی ہدایت دیتا ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ اس آیت میں یہ نہیں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ظالموں اور مرتدوں کو اسلام کی طرف ہدایت نہیں دیتا ‘ بلکہ یہ فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ ظالموں اور مرتدوں پر وہ الطاف اور عنایات نہیں فرماتا جو ہدایت یافتہ مومنوں پر فرماتا ہے ‘ لیکن یہ جواب اس آیت کے سیاق اور سباق کے خلاف ہے کیونکہ اس کے متصل بعد دوسری آیات میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : ” ایسے لوگوں کی سزا یہ ہے کہ ان پر اللہ کی لعنت ہے اور فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی۔ وہ ہمیشہ اس لعنت میں رہیں گے نہ ان کے عذاب میں تخفیف کی جائے گی اور نہ ان کو مہلت دی جائے گی۔ سوا ان لوگوں کے جنہوں نے اس کے بعد توبہ کرلی اور وہ نیک ہوگئے ‘ سو اللہ بہت بخشنے والا بےحد رحم فرمانے والا ہے۔

ان آیات سے معلوم ہوا کہ اس آیت کا صریح مفہوم یہی ہے کہ جن لوگوں پر کھلی ہوئی نشانیاں اور دلائل اور معجزات سے ہدایت بالکل واضح اور غیر مشتبہ ہوگئی اور اس کو انہوں نے تسلیم بھی کرلیا اور پھر کسی دنیاوی اور باطل غرض کی وجہ سے وہ مرتد ہوگئے تو اللہ تعالیٰ انہیں دوبارہ از خود اسلام کی اور توبہ کی ہدایت نہیں دیتا الا یہ کہ وہ خود اپنے اس ارتداد پر نادم اور تائب ہوں ‘ تو اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول فرما لیتا ہے اور معتزلہ کے جواب کا اس اشکال سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

اس اشکال کا دوسرا جواب امام رازی اور علامہ ابو الحیان اندلسی وغیرھما نے متکلمین اہل سنت کی طرف سے یہ نقل کیا ہے کہ بندہ جس فعل کو کرنے کا قصد (کسب) کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے اس فعل کو پیدا فرما دیتا ہے تو جن مرتدوں اور ظالموں نے ارتداد کے بعد دوبارہ اسلام کی طرف لوٹنے اور توبہ کرنے کا قصد ہی نہیں کیا تو اللہ تعالیٰ ان میں ہدایت کیونکر پیدا فرمائے گا ہاں جو مرتدین بعد میں نادم ہوئے اور انہوں نے اسلام کی طرف رجوع کا قصد کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان میں ہدایت کو پیدا فرما دیا۔ معتزلہ نے اس جواب پر یہ اعتراض کیا ہے کہ اگر مومنوں میں اللہ تعالیٰ ہدایت پیدا کرتا ہے تو کافروں میں کفر بھی اس کے پیدا کرنے سے ہوگا اور پھر کافر اپنے کفر میں معذور ہوگا ‘ لیکن یہ اعتراض اس لیے صحیح نہیں ہے کہ کافر جب کفر کا ارادہ کرتا ہے تب اللہ اس میں کفر کو پیدا کرتا ہے اور اس کو سزا اس کے کسب اور اختیار کی وجہ سے دی جائے گی ‘ دراصل معتزلہ اور اہل سنت میں بنیادی اختلاف یہ ہے کہ معتزلہ یہ کہتے ہیں کہ انسان اپنے افعال کا خود خالق ہے مومن اپنے ایمان کا خالق ہے اور کافر اپنے کفر کا ‘ اور اہل سنت کا مذہب یہ ہے کہ ہر فعل کا خالق اللہ تعالیٰ ہے ‘ البتہ انسان جس فعل کو اختیار کرتا ہے اور اس کا کسب اور ارادہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسی فعل کو پیدا فرما دیتا ہے ‘ انسان کا سب ہے اور اللہ تعالیٰ خالق ہے اور انسان کو جزاء اور سزا اس کے کسب اور اختیار کی وجہ سے دی جاتی ہے۔

اس اشکال کا دوسرا جواب جس کی طرف میرا ذہن متوجہ ہوا وہ یہ ہے کہ جو لوگ حق اور ہدایت کے بالکل واضح اور غیر مشتبہ ہونے اور پھر اس کو قبول کرنے کے بعد اس سے مرتد ہوجاتے ہیں ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ بہ طور سزا از خود ہدایت نہیں دیتا البتہ اگر وہ اس ارتداد پر نادم اور تائب ہوجائیں تو اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول فرما لیتا ہے۔

اور اس اشکال کا تیسرا جواب یہ ہے کہ جو لوگ اسلام کی حقانیت کو دلائل اور کھلی کھلی نشانیوں سے جان چکے پھر اس کو مان چکے اس کے بعد وہ کسی باطل غرض کی بناء پر مرتد ہوگئے تو اللہ تعالیٰ ان کو جبرا ہدایت نہیں دیتا کہ ان کو بہ زور اسلام میں داخل کر دے ‘ ہاں ! جواز خود نادم اور تائب ہو اور اسلام کی طرف پلٹ آئے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے۔

شیخ امین احسن اصلاحی اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

ہدایت کے تین مرحلے ہیں آخری مرحلہ اس کا ہدایت آخرت کا ہے۔ اس مرحلہ میں غایت مقصود کی طرف ہدایت ہوتی ہے اور بندہ اپنی مساعی کے ثمرہ سے بہرہ مند اور پنی جدوجہد زندگی کے حاصل سے بامراد ہوتا ہے۔ ہدایت کا لفظ اس معنی میں بھی قرآن میں جگہ جگہ استعمال ہوا ہے۔ مجھے بار بار خیال ہوتا ہے کہ ” یھدی “ اس آیت میں اس معنی میں ہے۔ (تدبر قرآن ج ٢ ص ١٣٧)

اصلاحی صاحب کی اس تفسیر کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مرتدوں کو دین اسلام کی طرف ہدایت تو دیتا ہے لیکن ان کو آخرت میں جنت کی ہدایت نہیں دیتا جب کہ قرآن مجید میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ جو لوگ دین اسلام قبول کرنیکے بعد مرتد ہوجائیں اللہ تعالیٰ ان کو از خود اسلام کی طرف ہدایت نہیں دیتا ‘ الا یہ یہ وہ خود اسلام کی طرف پلٹ آئیں ‘ نیز یہاں پر اصل اشکال یہ تھا کہ جب اللہ مرتدوں اور ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا تو پھر ان کے توبہ نہ کرنے اور اسلام کی طرف نہ لوٹنے میں ان کا کیا قصور ہے ؟ اصلاحی صاحب کی تقریر میں اس کا کوئی جواب نہیں ہے۔

نیز شیخ امین احسن اصلاحی لکھتے ہیں :

استاذ مرحوم اس ہدایت کا عام مفہوم ہی مراد لیتے ہیں ‘ ان کے نزدیک یہاں بنی اسرائیل کے لیے جس ہدایت کی نفی کی ہے وہ من حیث القوم ہے ‘ من حیث الافراد نہیں ہے ‘ مطلب یہ ہے کہ جو قوم ایسے شدید جرائم کی مرتکب ہوئی ہے اس کے اسلام کی راہ کس طرح کھل سکتی ہے۔ (تدبر قرآن ج ٢ ص ١٣٧‘ مطبوعہ فاران فاؤنڈیشن لاہور)

شیخ امین احسن اصلاحی کے استاذ گرامی فراہی صاحب کی تفسیر بھی صحیح نہیں ہے کیونکہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا ذکر فرمایا ہے جو لوگ اسلام کی حقانیت کو دلائل اور کھلی کھلی نشانیوں سے جاننے اور پھر ماننے کے بعد کافر ہوگئے اور ظاہر ہے کہ بنواسرائیل من حیث القوم پر یہ بات صادق نہیں آتی کہ پوری قوم بنو اسرائیل پہلے مسلمان ہوئی اور پھر اس کے بعد کافر ہوگئی اور یہ بالکل بدیہی ہے البتہ بنواسرائیل کے بعض افراد پر یہ بات صادق آتی ہے کہ وہ اسلام کی صداقت کو پہچان کر مسلمان ہوگئے اور پھر اغراض باطلہ کی وجہ سے پھر کفر کی طرف لوٹ گئے ‘ ان میں سے بعض تادم مرگ کفر پر برقرار رہے اور بعض نادم اور تائب ہو کر اسلام کی طرف پلٹ آئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمالی۔

مفتی محمد شفیع دیوبندی متوفی ١٣٩٦ ھ اس آیت کی تفسیر میں اپنے استاذ شیخ اشرف علی تھانوی سے نقل کرتے ہیں :

اس آیت سے بظاہر یہ شبہ ہوتا ہے کہ کسی کو مرتد ہونے کے بعد ہدایت نصیب نہیں ہوتی حالانکہ واقعہ اس کے خلاف ہے کیونکہ بہت سے لوگ مرتد ہونے کے بعد ایمان قبول کرکے ہدایت یافتہ بن جاتے ہیں۔ جواب یہ ہے کہ یہاں ہدایت کی نفی کی گئی ہے اس کی مثال ہمارے محاورات میں ایسی ہے جیسے کسی بدمعاش کو کوئی حاکم اپنے ہاتھ سے سزا دے اور وہ کہے کہ مجھ کو حاکم نے اپنے ہاتھ سے خصوصی عنایت فرمائی ہے ‘ اور اس کے جواب میں کہا جاوے کہ ایسے بدمعاش کو ہم خصوصیت کیوں دینے لگے ‘ یعنی یہ امر خصوصیت ہی نہیں اور یہ مطلب نہیں ہوتا کہ ایسا شخص کسی طرح قابل خصوصیت نہیں ہوسکتا اگر شائستہ بن جاوے۔ (بیان القرآن) (معارف القرآن ج ٢ ص ١٠٥‘ مطبوعہ کراچی)

اس تفسیر کا غیر صحیح ہونا بالکل واضح ہے ‘ اس آیت سے یہ مطلب کہاں نکلتا ہے کہ کسی کو مرتد ہونے کے بعد ہدایت نصیب نہیں ہوتی۔ جب کہ اللہ تعالیٰ نے صراحۃ استثناء بیان فرمایا ہے : سوا ان لوگوں کے جنہوں نے اس کے بعد توبہ کرلی اور وہ نیک ہوگئے ‘ سو اللہ بہت بخشنے والا بےحد رحم فرمانے والا ہے۔

اصل بات یہ ہے کہ اکثر مفسرین نے اس آیت پر ہونے والے اشکال کو چھیڑا ہی نہیں اور سرسری تفسیر کر کے گزر گئے ‘ حالانکہ تفسیر کرنے کا مطلب ہی یہ ہے کہ قرآن مجید پر وارد ہونے والے اشکالات کو دور کیا جائے اور اس میں پیدا ہونے والی الجھنوں سے ذہنوں کو صاف کیا جائے اور بعض مفسرین نے یہاں قیل وقال کی اور موشگافیاں نکالیں لیکن ان کا ذہن اصل اشکال اور اعتراض کی طرف متوجہ نہیں ہوسکا۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 86