اِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بَعۡدَ اِيۡمَانِهِمۡ ثُمَّ ازۡدَادُوۡا كُفۡرًا لَّنۡ تُقۡبَلَ تَوۡبَتُهُمۡ‌ۚ وَاُولٰٓٮِٕكَ هُمُ الضَّآ لُّوۡنَ – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 90

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بَعۡدَ اِيۡمَانِهِمۡ ثُمَّ ازۡدَادُوۡا كُفۡرًا لَّنۡ تُقۡبَلَ تَوۡبَتُهُمۡ‌ۚ وَاُولٰٓٮِٕكَ هُمُ الضَّآ لُّوۡنَ

ترجمہ:

بیشک جن لوگوں نے اپنے ایمان کے بعد کفر کیا پھر انھوں نے اور زیادہ کفر کیا ان کی توبہ ہرگز قبول نہیں کی جائے گی اور وہی لوگ گمراہ ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بیشک جن لوگوں نے اپنے ایمان کے بعد کفر کیا پھر انھوں نے اور زیادہ کفر کیا۔ (آل عمران : ٩٠)

مرتدین کے کفر میں زیادتی کا بیان : 

جو لوگ مرتد ہوگئے ‘ اور انہوں نے ارتداد کے بعد اور زیادہ کفر کیا اس کفر میں زیادتی کی حسب ذیل وجوہ بیان کی گئی ہیں :

(١) اہل کتاب سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت سے پہلے آپ پر ایمان لے آئے تھے ‘ پھر جب آپ مبعوث ہوگئے تو انہوں نے آپ کا کفر کیا ‘ پھر وقتا فوقتا آپ طعن کرکے اور مومنین کے دلوں میں آپ کی نبوت کے خلاف شکوک و شبہات ڈال کر ‘ کتاب میں تحریف کرکے ‘ اللہ تعالیٰ سے کیے ہوئے میثاق کو توڑ کر اور کھلے ہوئے معجزات دیکھنے کے باوجود ہٹ دھرمی سے آپ کو مسلسل انکار کرکے زیادہ کفر کرتے رہے۔

(٢) یہود پہلے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے تھے ‘ پھر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور انجیل کا انکار کر کے کافر ہوگئے پھر سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قرآن مجید کا انکار کر کے انہوں نے اور زیادہ کفر کیا۔

(٣) یہ آیت ان لوگوں کے متعلق نازل ہوئی جو مرتد ہو کر مکہ مکرمہ چلے گئے ‘ پھر ان کا زیادہ کفریہ تھا کہ وہ مکہ میں آپ کے خلاف گھات لگا کر بیٹھ گئے تاکہ آپ کو نقصان پہنچائیں۔

(٤) اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو مرتد ہوگئے اور کفر میں ان کی زیادتی یہ تھی کہ وہ مسلمانوں اور اسلام کے خلاف سازشیں کرنے کے لئے نفاقا مسلمان ہوگئے۔ علاوہ ازیں مرتدین کے کفر میں زیادتی کے متعلق مطلقا یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ مرتد کا اپنے ارتداد پر اصرار کرنا اور اسلام کی طرف رجوع نہ کرنا یہ بھی اس کے کفر میں زیادتی ہے۔

مرتدین کی توبہ قبول نہ ہونے کا محمل : 

اس آیت میں فرمایا ہے : بیشک جن لوگوں نے اپنے ایمان کے بعد کفر کیا ‘ پھر انہوں نے اور زیادہ کفر کیا ‘ ان کی توبہ ہرگز قبول نہیں کی جائے گی۔ اس سے معلوم ہوا کہ مرتدین کی توبہ قبول نہیں ہوگی ‘ حالانکہ اس سے پہلی آیت میں مرتدین کے متعلق فرمایا تھا : ” سوا ان لوگوں کے جنہوں نے اس کے بعد توبہ کرلی اور وہ نیک ہوگئے ‘ سو اللہ بہت بخشنے والا بےحد رحم فرمانے والا ہے : ” سوا ان لوگوں کے جنہوں نے اس کے بعد توبہ کرلی اور وہ نیک ہوگئے ‘ سو اللہ بہت بخشنے والا بےحد رحم فرمانے والا ہے۔ “ اس آیت کا تقاضا یہ ہے کہ مرتدین کی توبہ قبول کرلی جائے گی ‘ اور یہ ان دو آیتوں میں تعارض ہے ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ مرتدین کی توبہ قبول کرلی جائے گی اور اس آیت میں جو فرمایا ہے ان کی توبہ ہرگز قبول نہیں کی جائے گی اس کی حسب ذیل توجیہات ہیں :

(١) جو لوگ غررہ موت اور نزع روح کے وقت توبہ کریں یا اخروی عذاب کو دیکھ کر توبہ کریں ان کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی ‘ قرآن مجید میں ہے :

(آیت) ” ولیست التوبۃ للذین یعملون السیات حتی اذا حضرت احدھم الموت قال انی تبت الان وللذین یموتون وھم کفار اولئک اعتدنا لھم عذابا الیما “۔ (النسآء : ١٨)

ترجمہ : ان لوگوں کی توبہ قبول نہیں ہوگی جو مسلسل گناہ کرتے رہتے ہیں حتی کہ ان میں جب کسی کو موت آئے تو وہ کہے کہ میں نے اب توبہ کی اور نہ ان لوگوں کی توبہ قبول ہوگی جو حالت کفر میں مرجاتے ہیں۔ ان کے لیے ہم نے دردناک عذاب تیار کیا ہے۔

(٢) جو لوگ حالت کفر پر مرجاتے ہیں ان کی توبہ مرنے کے بعد قبول نہیں ہوگی جیسا کہ مذکور الصدر آیت کے آخر میں فرمایا ہے۔

(٣) جو لوگ ایک کفر سے تائب ہو کر دوسرے کفر کی طرف لوٹتے ہیں مثلا یہودیت سے نصرانیت کی طرف رجوع کرتے ہیں انکی توبہ قبول نہیں ہوگی۔

(٤) کفر پر مرنا توبہ قبول نہ ہونے کا سبب ہے ‘ اس آیت میں مسبب کا ذکر ہے اور اس سے سبب کا ارادہ کیا ہے اور توبہ قبول نہ ہونے سے مراد یہ ہے کہ جو لوگ مرتد ہوگئے اور بار بار کفر کرتے رہے (جیسے بعض معاندین یہود اور منافقین تھے) وہ کفر پر مریں گے۔

(٥) اس سے مراد یہ ہے کہ جن لوگوں نے حالت کفر اور اراتداد میں اپنے گناہوں سے توبہ کی ان کی توبہ قبول نہیں ہوگی کیونکہ گناہوں سے توبہ کے لیے ایمان شرط ہے ‘ اس آیت کا یہ مطلب نہیں ہے کہ جس نے اپنے کفر اور ارتداد سے توبہ کی اس کی توبہ قبول نہیں ہوگی۔

(٦) جن لوگوں نے صرف زبان سے توبہ کی ‘ اخلاص اور صدق نیت سے توبہ نہیں کی ‘ ان کی توبہ قبول نہیں ہوگی۔

(٧) جن لوگوں نے ایمان کے بعد کفر کیا پھر کفر میں زیادتی کی پھر اس کفر میں زیادتی سے توبہ کی اور اصل کفر سے توبہ نہیں کی ان کی توبہ قبول نہیں ہوگی۔

ایک سوال یہ ہے کہ اس آیت میں حصر کے ساتھ فرمایا ہے ” وہی لوگ گمراہ ہیں “ حالانکہ ان کے علاوہ دیگر کفار بھی گمراہ ہیں ‘ پھر یہ حصر کیونکر صحیح ہوگا ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ جو لوگ بار بار کفر کریں وہ مکمل گمراہ ہیں ‘ اگرچہ دوسرے بھی گمراہ ہیں۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 90

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.