أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَمَاتُوۡا وَهُمۡ كُفَّارٌ فَلَنۡ يُّقۡبَلَ مِنۡ اَحَدِهِمۡ مِّلۡءُ الۡاَرۡضِ ذَهَبًا وَّلَوِ افۡتَدٰى بِهٖ ؕ اُولٰٓٮِٕكَ لَـهُمۡ عَذَابٌ اَلِـيۡمٌۙ وَّمَا لَـهُمۡ مِّــنۡ نّٰصِــرِيۡنَ

ترجمہ:

بیشک جن لوگوں نے کفر کیا اور وہ حالت کفر میں مرگئے ‘ ان میں سے اگر کوئی شخص تمام (روئے) زمین کو بھر کر سونے (بھی) فدیہ میں دے تو وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا ان ہی لوگوں کے لیے درد ناک عذاب ہے اور ان کا کوئی مددگار نہیں ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بیشک جن لوگوں نے کفر کیا وہ حالت کفر میں مرگئے ان میں سے اگر کوئی شخص تمام (روئے) زمین کو بھر کر سونا بھی فدیہ میں دے تو وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا ‘ ان ہی لوگوں کے لیے دردناک عذاب ہے اور ان کا کوئی مددگار نہیں ہے۔ (آل عمران : ٩١)

ایمان کے مقبول ہونے یا نہ ہونے کے اعتبار سے کفار کی تین قسمیں : 

مذکور الصدر آیات میں اللہ تعالیٰ نے کافروں کی ان کے ایمان مقبول ہونے یا نہ ہونے کے اعتبار سے تین قسمیں بیان فرمائیں ہیں :

(١) جو شخص اسلام قبول کرنے کے بعد کافر ہوجائے اور تادم مرگ کفر پر قائم رہے اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول نہیں فرماتا اور اس کو جبرا یا سزا ہدایت نہیں دیتا ‘ اس کے لیے سخت سزا ہے ‘ وہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا ‘ اس کے عذاب میں تخفیف کی جائے گی نہ اس کو مہلت دی جائے گی ‘ البتہ ان میں سے جو شخص نادم اور تائب ہوگیا اور اس نے بداعمالیوں کی تلافی کی اور نیک عمل کرلیے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمائے گا۔ اس کے لیے رحمت اور مغفرت کا دروازہ کھلا ہوا ہے۔

(٢) جن لوگوں نے ایمان لانے کے بعد کفر کیا اور مسلسل کفر کرتے رہے اور موت کو دیکھ کر توبہ کی یا صرف زبان سے توبہ کی اور دل سے توبہ نہیں کی ‘ اللہ تعالیٰ ان کی توبہ کو قبول نہیں فرمائے گا۔

(٣) جو کافر کفر پر فوت ہوگیا اللہ تعالیٰ اس کی کسی نیکی کو ہرگز قبول نہیں فرمائے گا خواہ اس نے عبادت کی نیت سے روئے زمین کے برابر سونا خیرات کیا ہو ‘ اور نہ روئے زمین کے برابر سونا آخرت میں اس کے عذاب کا فدیہ ہوسکتا ہے قرآن مجید میں ہے :

(آیت) ” ان الذین کفروا لو ان لھم ما فی الارض جمیعا و مثلہ معہ لیفتدوا بہ من عذاب یوم القیامۃ ماتقبل منھم ولھم عذاب الیم “۔ (المائدہ : ٣٦)

ترجمہ : بیشک جن لوگوں نے کفر کیا اگر ان کے پاس روئے زمین کی تمام چیزیں ہوں اور اتنی ہی اور چیزیں (بھی) ہوں تاکہ وہ ان کو قیامت کے دن عذاب سے بچنے کے لیے فدیہ دیں ‘ تو وہ ان سے قبول نہیں کی جائیں گی اور ان کے لیے نہایت درد ناک عذاب ہے۔

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے تھے قیامت کے دن ایک کافر کو لایا جائے گا اور اس سے کہا جائے گا یہ بتا کہ اگر تیرے پاس اتنا سونا ہو کہ تمام زمین کو بھر لے ‘ کیا تو اس کو فدیہ میں دے گا ‘؟ وہ کہے گا : ہاں ! اس سے کہا جائے گا تجھ سے تو دنیا میں اس سے کہیں آسان چیز (اللہ تعالیٰ کو واحد ماننے) کا سوال کیا گیا تھا۔ (صحیح بخاری ج ٢ ص ‘ ٩٦٨ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

امام احمد بن حنبل متوفی ٢٤١ ھ نے بھی اس حدیث کو روایت کیا اور اس میں ہے کہ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سورة مائدہ کی اس آیت کو تلاوت فرمایا : (مسند احمد ج ٣ ص ‘ ٢١٨ مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ)

اگر یہ اعتراض کیا جائے قیامت کے دن کافر تو کسی کھجور کی کھوکھلی گٹھلی جیسی حقیر کا بھی مالک نہیں ہوگا تو اس کے متعلق تمام زمین بھر سونا فدیہ کرنا کس طرح متصور ہوسکتا ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ اگر دنیا میں کافر نے اتنا سونا خیرات کیا ہو پھر بھی وہ قبول نہیں کیا جائے گا اور دوسرا جواب یہ ہے کہ اگر بالفرض قیامت کے دن کافر کے پاس اتنا سونا ہو اور وہ اس کو اللہ کے عذاب سے بچنے کے لیے فدیہ دینا چاہے تو یہ فدیہ قیامت کے دن اس کو اللہ کے عذاب سے نہیں بچا سکتا۔

نیز اس سے پہلے ہم صحیح مسلم کے حوالے یہ حدیث بیان کرچکے ہیں کہ حضرت ام المومنین عائشہ صدیقہ (رض) نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا کہ زمانہ جاہلیت میں ابن جدعان بہت نیکیاں کرتا تھا ‘ مہمانوں کو کھلاتا تھا ‘ قیدیوں کو آزاد کراتا تھا ‘ بھوکوں کو کھانا کھلاتا تھا ‘ کیا اس کو اس سے نفع ہوگا ؟ آپ نے فرمایا نہیں ‘ اس نے ایک دن بھی یہ نہیں کہا : اے میرے رب ! قیامت کے دن میری خطاؤں کو بخش دینا۔

اس آیت کے اخیر میں فرمایا ہے کہ کفار کا کوئی مددگار نہیں ہوگا ‘ اور اس میں حصر فرمایا ہے یعنی صرف ان ہی کی شفاعت قبول نہیں کی جائے گی اس آیت میں مومنین کے لیے شفاعت کے قبول ہونے کا ثبوت ہے کیونکہ اگر مومنوں کے لیے بھی شفاعت قبول نہ ہو تو اول تو حصر صحیح نہیں رہے گا۔ ثانیا اگر مسلمانوں اور کافروں دونوں کے حق میں شفاعت کا مقبول نہ ہونا مشترک ہو تو یہ چیز صرف کافروں کے لیے کیوں کر حسرت و حرمان اور وعید کا سبب بن سکتی ہے۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 91