جنت میں کون نہیں جائے گا؟ 

 مقصود احمد سعیدی
 
دنیا کایہ دستورہے کہ جب آقا کسی غلام کو خریدتا ہے تو اس کے لیے اپنے مالک کی تابعداری کرنا ضروری ہوتاہے۔اس کا حکم بجالانااس غلام کی ذمے داری ہوتی ہے۔ اگرغلام اپنے آقا کے حکم اورفرمان کے خلاف کرتا ہے تووہ ہرحال میں سزاکامستحق ہوتاہے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ جوسب حاکموں کا حاکم ہے۔ سارے جہان کا پروردگار ہے۔ اس نے انسان اور جنات کو اسی لیے پیدافرمایا ہے کہ وہ اس کی عبادت کریں۔ 
اب اگر کوئی بندہ اللہ تعالیٰ کی عبادت نہیںکرتا،اس کے حکم کے خلاف کام کرتا ہے تواسے سزا ملے گی۔وہ زندہ ہے تو دنیا میں پریشانی اٹھا سکتا ہے اور اگر وفات پاگیا تو کل قیامت کے دن جہنم میں جائے گا۔ 
عبادت کیا ہے؟ تو جواب صاف ہے کہ اللہ رب العزت نے جن احکام کو بجا لانے کا حکم عطا فرمایا ہے اس کو بجا لانا اور جن سے بچنے کا حکم عطا فرمایا ہے، اس سے بچنا یہی عبادت ہے، اللہ کا حکم ہے کہ:
مَا آتَاکُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُ وَمَا نَہَاکُمْ عَنْہُ فَانْتَہُوْا(۷ )(حشر)

 ترجمہ:رسول تمھیں جو عطا کریں اسے لے لو اور جس سے روکیں اس سے رک جاؤ۔

اس آیت کریمہ کا صاف مطلب یہ ہے کہ رسول اعظم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی اتباع کرو۔ان کے حکم کی تابعداری کرواورہرگزہرگز خلاف ورزی نہ کرو، ورنہ ہلاکت میں مبتلا ہو جاؤگے اور پھرتمھارا ٹھکانہ جہنم ہوگا۔
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے :

اَنَّ رجُلاً قَالَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!ما حَقُّ الْوَالِدَیْنِ عَلٰی وَلَدِ ھِمَا؟ قَالَ: ھُمَا جَنَّتُکَ و نَا رُکَ۔(سنن ابن ماجہ) 
ترجمہ: ایک شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ!(ﷺ) ماں باپ کا اولاد پر کیا حق ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ دونوں تمھارے لیے جنت ہیں اور تمھارے لیے جہنم۔

اس حدیث شریف میں جہاں والدین کی عظمت کا اظہار ہے وہیں ان اولادکے لیے تنبیہ بھی ہے جو اپنے ماں باپ کے ساتھ بدسلوکی سے پیش آتے ہیں اور ان اولاد کے لیے خوشخبری ہے جو اپنے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کا برتاؤ کرتے ہیں،یعنی جو شخص اپنے ماں باپ کو راضی رکھے گا جنت کا حق دار ہوگا اور جو ناراض رکھے گا وہ دوزخ کا ایندھن بنے گا۔
عبد اللہ ابن عمرو رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: 

عَنِ النَّبِی صلَّی اللّٰہ تعالیٰ عَلَیہ وَسَلَّمَ قَالَ لَایَدْخُلُ الْجَنَّۃَ عَاقٌّ وَلَا قَمَّارٌ وَلَا مَنَّانٌ وَلَا مُدْمِنُ خَمْرٍ۔ (مسنداحمد،مشکوۃ)
ترجمہ: حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا کہ والدین کی نافرمانی کرنے والا، جوا کھیلنے والا، احسان جتانے والا اور شراب کا عادی جنت میں داخل نہ ہوگا۔

اس حدیث پاک میں تین اشخاص کو جہنمی بتایاگیا ہے ۔
۱۔ ماں باپ کی نافرمانی کرنے والا،کیونکہ ماں باپ کی ناراضگی میں رب تبارک و تعالیٰ کی ناراضگی ہے اوراللہ کو ناراض کرنے والے کا ٹھکانہ جہنم کے سوا اور کہاں۔
۲۔ جوا کھیلنے والا،یعنی وہ کھیل جس میں روپے اور دولت کی بازی لگائی جائے۔
۳۔احسان جتانے والا،یعنی دوسروں کے ساتھ بھلائی کر کے لوگوں کو بتاتے رہنا۔ایسے احسان کرنے والے کو نہ اللہ پسند کرتاہے نہ اس کا رسول اور جنھیں اللہ و رسول پسند نہ کرے اس کا ٹھکانہ جہنم ہی تو ہوگا۔
۴۔ شراب کاعادی، شراب ایک حرام چیز ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے۔جو کوئی اس کی حکم کی نافرمانی کرے اس کی سزا جہنم ہے۔
عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے: 

قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلَّی اللّٰہُ تعالیٰ عَلَیہ وَسَلَّم اِنَّ الصِدْقَ بِرٌّ اِنَّ البِرَّ یَھْدِیْ اِلَی الْجَنَّۃِ وَ اِنَّ الکِذْبَ فُجُوْرٌ وَ اِنَّ الفُجُوْرَ یَھْدِیْ اِلَی النَّارِ۔ (صحیح مسلم)
ترجمہ:حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سچ بولنا نیکی ہے اور نیکی جنت میں لے جاتی ہے اور جھوٹ بولنا فسق و فجور ہے اور فسق و فجور دوزخ میں لے جاتا ہے۔

اس حدیث میں جھوٹ کو جہنم کی طرف لے جانے والا قرار دیا گیا ہے کیوں کہ جھوٹ بولنے والے پر اللہ کی پھٹکار ہوتی ہے۔
اللہ تعالیٰ عز وجل فرماتا ہے:

أَنَّ لَعْنَتَ اللہِ عَلَیْہِ إِنْ کَانَ مِنَ الْکَاذِبِیْنَ(۶۱)(آل عمران ) 
یعنی جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ہے۔

حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:

لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ قَتَّاتٌ۔(بخاری ) 
ترجمہ: چغل خور جنت میں نہیں جائے گا۔

عبد الرحمن بن غنم اور اسما بنت یزید رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے،وہ بیان کرتے ہیں: 

اَنَّ النَّبِیَّ صلَّی اللّٰہ تَعَالیٰ عَلَیہ وَسَلَّمَ قَالَ شِرَارُ عِبَادِ اللّٰہِ الْمَشَّاؤُنَ بِالنَّمِیْمَۃِ۔ اَلْمُفَرِّقُوْنَ بَیْنَ الاَحِبَّۃِ۔(احمد، بیہقی) 

ترجمہ: حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خدائے تعالیٰ کے بدترین بندے وہ ہیں جو لوگوں میں چغلی کھاتے پھرتے ہیں اور دوستوں کے درمیان جدائی ڈالتے ہیں۔ چغل خور یعنی وہ شخص جو کسی کی پیٹھ پیچھے برائی کرتا ہے۔ ایسا کرنا حرام ہے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَلَا یَغْتَبْ بَعْضُکُمْ بَعْضاً(۱۲)(حجرات)

تم میں سے کوئی کسی کی چغل خوری نہ کرے۔

اس برے عمل کے ذریعے انسان دو جرموں کا ارتکاب کرتا ہے ۔ ایک تو اللہ کی حرام کی ہوئی چیز کو اپناتا ہے جو آخرت کے لیے گھاٹے کا سودا ہے ۔ دوسرا اپنے دوستوں کو خود سے جدا کر لیتا ہے جو سماج و معاشرے میں نقصان کا سبب ہے۔
بعض دفعہ انسان گفتگو کے دوران کچھ ایسی باتیں کہہ جاتا ہے جسے وہ جھوٹ، چغلی اور فسق وفجورنہیں سمجھتاجب کہ وہی باتیں اس کے لیے بہت بڑے عذاب کی شکل اختیار کر لیتی ہیں۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت ہے: 

اَلنَّبِیِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ:اَنَّ الْعَبْدَ لَیَتَکَلَّم بِالْکَلِمَۃِ مَا بَیْنَ فِیْھَا یَزِلُ بَھِا اِلی النَّارِ اَبْعَد کَمَابَیْنَ الْمَشْرِقِ والْمَغْرِبِ۔ 
حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ بندہ کوئی ایسا کلمہ کہہ دیتا ہے جس کی وجہ سے دوزخ میں اتنی دور چلا جاتا ہے جتنا کہ مشرق اور مغرب کے درمیان فاصلہ ہے۔