حدیث نمبر :226

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو قرآن میں اپنی رائے سے کچھ کہے وہ اپنا ٹھکانہ آگ سے بنائے ۱؎ اور ایک روایت میں ہے کہ جو قرآن میں بغیر علم کچھ کہے وہ اپنا ٹھکانہ آگ سے بنائے ۲؎(ترمذی

شرح

۱؎ یعنی قرآن کی تفسیر بالرّائے کرنے والاجہنمی ہے۔خیال رہے کہ قرآن کی بعض چیزیں نقل پر موقوف ہیں،جیسے شان نزول،ناسخ منسوخ،تجوید کے قواعد انہیں رائے سے بیان کرنا حرام ہے،وہی یہاں مراد ہے۔اور بعض چیزیں شرعی عقل سے بھی معلوم ہوسکتی ہیں،جیسے آیات کے علمی نکات،اچھی اور صحیح تاویلیں،پیدا ہونے والے اعتراضات کے جوابات وغیرہ ان میں نقل لازم نہیں۔غرضکہ قرآن کی تفسیر بالرائے حرام ہے اور تاویل بالرائے علمائے دین کے لیئے باعث ثواب،یا اس کی تحقیق ہمارے کتاب”جاء الحق”اور مرقاۃ میں اسی مقام پر دیکھو،رب تعالٰی فرماتا ہے:”اَفَلَا یَتَدَبَّرُوۡنَ الْقُرْاٰنَ “۔معلوم ہوا کہ قرآن میں تدبروتفکر کا حکم ہے۔

۲؎ اس میں اشارۃً فرمایا کہ علماءکو قرآنی تاویلات کی اجازت ہے جہلا کو یہ بھی حرام۔اس سے وہ لوگ عبرت پکڑیں جو فقط ترجمۂ قرآن سے غلط مسئلے مستنبط کرکے لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں۔حدیث و قرآن کے فقط ترجمے بغیر فقہ کی روشنی کے عوام کے لئے زہرقاتل ہیں۔