حدیث نمبر :227

روایت ہے حضرت جندب سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو قرآن میں اپنی رائے سے کہے پھرٹھیک بھی کہہ دے تب بھی خطا کر گیا۲؎ (ترمذی وابوداؤد)

شرح

۱؎ آپ کا نام جندب ابن عبداﷲ ابن سفیان علفی بَجَلِی ہے۔علف قبیلہ بجل کا ایک بطن ہے،مشہورصحابی ہیں۔عبداﷲ ابن زبیر کی وفات کے چار سال بعدوفات ہوئی۔

۲؎ یعنی اگر عالم قرآن کی رائے سے تفسیرکرے،یا جاہل رائے سے تاویل کرے اور اتفاقًا وہ تفسیر و تاویل درست ہو تب بھی دونوں گنہگار ہوں گے،کیونکہ انہوں نے ناجائز کام کیا اور ممکن ہے کہ آیندہ اس پر دلیر ہوکر غلطی بھی کرجائیں۔علماء فرماتے ہیں کہ تفسیر قرآن کے لئے عالم کو پندرہ علموں میں پوری مہارت چاہیئے تب وہ قرآن کو ہاتھ لگائے،ایسا عالم اگر تاویل قرآن میں غلطی بھی کرے تب بھی ثواب پائے گا،مجتہد کی خطا پر ایک ثواب ہے اور صحت پر دو،جیسا کہ آیندہ احادیث میں آئے گا۔تفسیر و تاویل کا فرق ہم اوپرعرض کرچکے ہیں۔تفسیر میں یقین ہوتا ہے جونقل پرموقوف ہے،تاویل میں ظن غالب۔خیال رہے کہ قرآن کی وہ تاویل جو نقل کے خلاف ہو حرام ہے۔