ایک دوست نے مجھے طارق جمیل صاحب کی دعا سنائی جس میں موصوف روتے ہوئے ایسے الفاظ بول رہے تھے جو اللہ کریم کے شایانِ شان نہیں ۔

اس پر میں نے دوست سے کہا:

اس دعا کا شرعی حکم تو کوئی مفتی صاحب ہی بیان فرمائیں گے ، البتہ مجھے اس رونے دھونے پر ایک واقعہ یاد آگیا ہے وہ سن لیجیے:

یحی بن جعفر کہتے ہیں:

میرا ایک پڑوسی تھا جس کی داڑھی اتنی لمبی تھی کہ میں نے ایسی داڑھی کبھی نہیں دیکھی ۔

وہ رات دیر تک آہ و بکا کرتارہتا تھا ۔

ایک رات اس کے رونے سے میری آنکھ کھل گئی تو میں نے دیکھا وہ آہیں بھرتے ہوئے اپنا سر پیٹتا ، سینہ کوبی کرتا اور بار بار ایک ہی آیت پڑھتا جاتا ۔

میں نےاس کی یہ حالت دیکھ کرکہا ضرور اِس سے وہ آیت سننی چاہیے جس نے اِسے قتل کردیا اور میری نیند اڑا دی!

جب میں نے غور سے سنا تو وہ پڑھ رہاتھا:

وَ یَسْــٴَـلُوْنَكَ عَنِ الْمَحِیْضِؕ قُلْ هُوَ اَذًى ۔

اور تم سے حیض کے بارے میں پوچھتے ہیں ، تم فرماؤ:

وہ ناپاکی ہے ۔

لقمان شاہد

9/12/2018 ء