نفس کی پاکیزگی 

رفعت رضا نوری
 

اللہ تعالیٰ نے انبیائے کرام کو اس دنیا میں اس لیے مبعوث فرمایا تاکہ وہ انسانی سماج کی اصلاح و تربیت ، دلوں کی صفائی اور اخلاق وکردار کو سنواریں۔ ایسی تعلیم دیں جس سے اللہ کی پہچان کی جا سکے۔ ایسی پاکیزہ چیزیں اور حکیمانہ باتیں بتائیں جن سے ایمان وایقان کومضبوط کیاجا سکے۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن حکیم میں فرمایاہے:

لَقَدْ مَنَّ اللہُ عَلَی الْمُؤمِنِیْنَ إِذْ بَعَثَ فِیْہِمْ رَسُوْلًا مِّنْ أَنفُسِہِمْ یَتْلُوْاعَلَیْہِمْ آیَاتِہٖ وَیُزَکِّیْہِمْ وَیُعَلِّمُہُمُ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَۃَ وَإِنْ کَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلَالٍ مُّبِیْنٍ۔ (آل عمران:۱۶۴) ترجمہ: اللہ تبارک و تعالیٰ نے مومنوں پر یہ احسان فرمایا کہ انھیں میں سے ایک رسول مبعوث فرمایا جو ان پر اللہ کی آیتیں تلاوت کرتے ہیں، ان کے دلوں کو پاک کرتے ہیں اور انھیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتے ہیں جب کہ وہ لوگ اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے۔

یعنی اللہ تعالیٰ نے انسانی نفوس کو پاک و صاف اور ان کے سینوں کو علم و حکمت سے پر کرنے کے لیے انبیا علیہم السلام کو مبعوث فرمایاجنھوں نے اس ذمے داری کو نبھایااور دین کو اپنے زمانے میں ہرطرف پھیلانے کی کوشش کی۔ انبیا علیہم السلام کے بعد اس کام کو ان کے حواری اور ان کے ماننے والوں نے آگے بڑھایا اورعام مخلوق کی ہدایت کے ساتھ انھیں سیدھا راستہ دکھانے کا فریضہ انجام دیا۔یہ لوگ نہ صرف انبیاومرسلین علیہم السلام کی حیات میں ان کے مددگارومعاون رہے بلکہ ان کے پردہ فرماجانے کے بعدبھی ان کے مبارک عمل کو رکنے نہ دیا۔خود اصحاب کرام رضی اللہ عنہم نے بڑے پیمانے پر رشدوہدایت کا فریضہ اداکیا،جس کے سبب انھیں اصلاح و تربیت اورہدایت کاخزانہ قراردیاگیاہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے ہیں: میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں،ان میں تم جس کسی کی پیروی کروگے،کبھی گمراہ نہیں ہوگے۔ ان میں ہر ایک سے ہدایت و اصلاح کی روشنی حاصل کی جا سکتی ہے۔
صحابہ ٔ کرام کے بعداس فریضے کو ہر دور میں اللہ کے نیک بندے انجام دیتے ر ہیں،جوآج بھی جاری ہے اور قیامت تک ایسے صالحین و نیک بندوں کی جماعت پیدا ہوتی رہے گی جن سے اصلاح و تربیت کا نظام چلتا رہے گااوران کے روحانی فیضان سے دلوں کی مردہ زمینیں سیراب ہوتی رہیں گی۔
اللہ قادر مطلق ہے ،وہ مخلوق کے تزکیہ و تطہیر کے لیے کسی بھی بندے کو مقرر کر سکتا ہے جس کی پہچان یہ ہوگی کہ وہ مومن، عاقل اور پابند شریعت ہونے کے ساتھ ساتھ اللہ سے زیادہ محبت کرنے والے والاہوگا۔ وہ اپنی جان و مال دونوں کو قربان کر کے اللہ کا قرب حاصل کرنے میں مصروف ہوگا۔ وہ اطاعت و فرمانبرداری کا پیکر ہوگا۔ ان کا قلب محبت الٰہی اور عشق نبی سے سرشار ہوگا۔ اس کی صحبت میں بیٹھنے سے خدا یاد آئے گا،ان کی صبح اور شام ذکر الٰہی اور فکر آخرت میں گذر رہی ہو گی۔ ان کی راتیں قیام و سجود میںبیت رہی ہوں گی۔ وہ رب تعالیٰ سے ملاقات کے لیے سراپا مشتاق ہوں گے۔ ان کی آنکھیں نورالٰہی سے روشن اوردل معرفت الٰہی سے معمورہوگا اوروہ مخلوقات کی تکلیفوںکو دیکھ کرتڑپ اٹھتے ہوں گے۔ اگر ایسا عارف، ایسا ذاکر اور ایساانسانی خدمت گار،مرد خدا مل جائے تو بلا کسی چوں چرا کے اپنا سر اس کے قدموں پہ ڈال دینا چاہیے ،کیوں کہ ظاہری اور باطنی گناہوں سے بچنے کے لیے اور نفس و شیطان کی فریب کاریوں سے محفوظ رہنے کے لیے، اللہ تعالیٰ نے ایسے ہی نیک بندوں کے ساتھ رہنے اور ان کی صحبت سے فیض حاصل کرنے کا حکم دیا ہے،اللہ تعالیٰ فرمایا: 

وَاصْبِرْ نَفْسَکَ مَعَ الَّذِیْنَ یَدْعُونَ رَبَّہُم بِالْغَدَاۃِ وَالْعَشِیِّ یُرِیْدُونَ وَجْہَہٗ وَلَا تَعْدُ عَیْنَاکَ عَنْہُمْ تُرِیْدُ زِیْنَۃَ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا(۲۸)( کہف) یعنی ایسے پاک لوگوں کے ساتھ رہا کر جو صبح و شام اپنے رب کو پکارتے رہتے ہیں اور صرف اس کی رضا کے طلب گار رہتے ہیں اور اپنی نگاہوں کو ان سے مت ہٹا، کیا ان خاصان خدا سے نظر پھیر کے تو دنیاوی زندگی کی زینت چاہتا ہے؟

یہ وہ بندے ہیں جنھوں نے اپنے کو اللہ کے حوالے کردیاتواللہ بھی ان کاہوگیا۔ ایسے پاک نفوس کی بارگاہ میں ایک لمحہ کی بھی صحبت مل جائے تو غنیمت سمجھنی چاہیے ، کیوں کہ وہ لمحہ غرور سے پاک اور صرف اللہ کے لیے ہوتا ہے:ع 

گذر کسی کا یہاں نہیں ہے
 قسم خدا کی کہ تو ہی تو ہے 

جن کی صحبت میں بیٹھنے والوں کو یہ فضیلت دی گئی کہ: 

ھُمُ الْقَوْمُ لَایَشْقِیْ بِھِمْ جَلِیْسُھُمْ۔

یعنی یہ وہ لوگ ہیں جن کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے والے بدبخت اورسخت دل نہیں ہوتے،بلکہ ان کی صحبت میں بدبختی اور سخت دلی دور ہوجاتی ہے۔ نفس کو پاکیزگی حاصل ہوتی ہے۔ مردہ دل زندہ ہوجاتے ہیں اورجسم کے تمام اعضا پر اللہ کا قبضہ ہوتا جاتا ہے:؎ 

جس کی صحبت میں گنہگار و شقی 
آکے ہو جاتے ہیں ابدال و ولی 

تزکیۂ باطن اور اصلاح نفس کی معنویت ہر شخص کے سامنے روز روشن کی طرح عیاں ہے۔ اگر وہ اپنے آپ کا جائزہ لیتاہے اور اپنے باطن میں جھانکتا ہے تو واضح ہوتا ہے کہ اس کا دل صاف نہیں ہے۔ اس کے دل پر گناہوں کا غبار جما ہوا ہے۔ وہ خواہشات نفس کا غلام ہوچکا ہے۔ وہ دنیا کاحریص ہوگیاہے۔ اس کے حرکات و سکنات اورذہنی وقلبی میلان سیدھے راستے سے ہٹے ہوئے ہیں۔ اسے جب بھی ذرا فراخی اور آسانی ملتی ہے تو غرور و تکبر میں مبتلا ہو جاتا ہے اورجب ذرا سی تنگی اور آزمائش آجاتی ہے تو وہ مرجھا جا تا ہے اور ناامید ہو جاتا ہے۔الغرض آج نہ نگاہوں میں شوخی ہے نہ دل میں درد ۔نہ روح میں سوز ہے اور نہ گفتگو میں ساز۔ گویا زندگی توہے لیکن زندہ دلی نہیں۔ آج کی مادی دنیا میں ’’کماؤ ،کھاؤاور عیش کرو‘‘ زندگی کا مقصد بن گیا ہے۔ کیا واقعی یہی حیات انسانی کے اعلیٰ مقاصد ہیں؟ 

بدل گیا ہے جو اپنی حیات کا مقصد
 بھٹک رہی ہے سر راہ زندگی کیسی 

یاد رکھیے! اگرانسان نے اپنے اندر سدھار پیدا نہ کی تو اللہ کے فرمان :’’ وہ جانوروں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بدتر۔‘‘ اور’’جس نے اپنی خواہش کی پیروی کی اس کا معاملہ حد سے بڑھ گیا۔‘‘کے خانے میں وہ داخل ہو جائے گااور اگر ایسا ہوا تو داستان زندگی کا ایک ایک حرف حیات ابدی کے دفتر سے مٹا دیا جائے گا:؎ 

جس نے غفلت میں گذاری زندگی 
آخرش ہوگی اسے افسردگی 
خواب غفلت سے اٹھ اے مرد خدا 
تاکہ حاصل ہو تجھے فضل خدا