سازشوں کے جال اور مسلم امہ

صدائے تکبیر …پروفیسر مسعود اختر ہزاروی

جزیرۃالعرب میں ظہور اسلام کے ساتھ ہی سازشوں کا آغاز ہو گیا تھا لیکن اس سب کے باوجود اسلام کا سچائی پر مبنی آفاقی پیغام دنیا کو مسلسل متاثر کرتا رہا۔ دشمنان اسلام کی طرف سے مکی دور میں اذیتوں اور مشکلات کے پہاڑ کھڑے کیے گئے۔ ہجرت مدینہ کے بعد غزوات اور جنگیں ہوئیں۔ یہ تاریخی حقیقت ہے کہ پہلی صدی ہجری کے اختتام تک اسلام دنیا کے تین براعظموں ایشیا، افریقہ اور یورپ تک پہنچ چکا تھا۔ اسلام کی روز افزوں ترقی کو روکنے کے لئے صلیبی جنگیں ہوئیں ،خون کی ندیاں بہیں، لاکھوں انسانوں کا قتل ہوا۔ ترکی اور اٹلی کا علاقہ عرصہ دراز تک میدان جنگ بنا رہا اور یہ کشمکش دو سو سال تک جاری رہی۔ “قیصر روم اور کسریٰ ایران” سے لے کر دور حاضر تک کوئی زمانہ ایسا نظر سےنہیں گزرا جب اسلام کے خلاف سازشوں کے تانے بانے نہ تیار ہوئے ہوں۔ ایک خاص حکمت عملی کے تحت دو دشمنوں کو آپس میں لڑا کر اپنے مفادات کا حصول بھی اسی پالیسی کا حصہ رہا ۔سویت یونین جب امریکہ اور اس کے حواریوں کے لئے خطرہ تھا تو اس کا ٹکراؤ مسلمانوں سے کرادیا گیا۔افغانستان، چیچنیا اور دیگر مسلمان ممالک کے جنگجوؤں کو امریکی ہتھیاروں سے لیس کرکے “مجاہدین اسلام” کے القاب عطا کیے گئے۔ جب اپنے مقاصد پورے ہوگئے تو ان ہی “مجاہدین” کو

دہشت گرد قرار دے کر دنیا بھر میں اسلام کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی۔ عرب ملکوں کے دیگر حکمرانوں کے برعکس جب سعودی عرب کے شاہ فیصل نے سر اٹھانے کی کوشش کی تو ان کو اپنے ہی بھتیجے کے ہاتھوں قتل کرا دیا گیا۔ عراق اور ایران مضبوط ہو رہے تھے تو انہیں آپس میں لڑا کر کمزور کردیا گیا۔ صدام حسین پر “تباہ کن ہتھیاروں” کے جھوٹے الزامات کے بہانے عراق کو نیست ونابود کردیا گیا اور ایران پر پابندیاں لگا کر رہی سہی کسر بھی نکال دی گئی۔ شام کی طاقت ابھر رہی تھی تو اسے کچل دیا گیا۔ مصر میں اخوان المسلمون کی حکومت شروع ہوئی تو اس کے سنبھلنے سے پہلے ہی سازشیں کرکے فوج کے ہاتھوں تختہ الٹ کر حکومت اپنے ہم نواؤں کے سپرد کردی گئی۔ ترکی کے اسلام پسندوں کے خلاف بھی منفی منصوبہ بندی جاری ہے۔ وہاں فوج کو طیب ایردوان کی جمہوری حکومت کے مد مقابل لانے کی ناکام کوشش ہوچکی ہے۔ اسی طرح قرآن پر پابندی کا مطالبہ کرنا، مسجدوں کی تعمیر میں رخنہ ڈالنا، مسجدوں کے میناروں کو ملک کی سلامتی کے لئے خطرہ قرار دینا اور حجاب کو مغربی تہذیب کے خلاف سمجھنا بھی اسی منصوبے کا حصہ ہے۔ اس کا ایک اور رخ یہ کہ سعودی عرب میں جدت پسندی کے نام پر بے حیائی کے فروغ کا آغاز ہو چکا ہے۔ غیر اسلامی جدت پسندی کے خلاف زبان کھولنے والوں کو وہاں قید کیا جا رہا ہے۔دنیا بھر میں علمائے اسلام کے خلاف گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے۔مفتی اعظم مصر کی نظر بندی کے احکامات جاری کردئے گئے۔ پاکستان میں توہین رسالت اور ختم نبوت کے قوانین پر تابڑ توڑ حملے جاری ہیں۔ اسی کے نتیجے میں ماضی قریب میں سابق اور موجودہ حکومتوں کے ادوار میں احتجاج ہوئے۔ اس احتجاج کے دوران کچھ شر پسندوں نے توڑ پھوڑ کی۔ ملکی املاک کو نقصان پہنچایا۔ اس دوران فوج، حکومت اور عدلیہ کے خلاف غیر محتاط زبان استعمال ہوئی۔ ہر وہ کام جو ملکی سلامتی اور وقار کے خلاف ہے وہ قابل مذمت ہے۔ حکومت وقت کی منصبی ذمہ داری ہے کہ اس کے خلاف انصاف پسندی کے ساتھ قانونی کارروائی کرے۔ لیکن یہاں صورتحال یہ ہے کہ پنجاب کے وزیر اطلاعات اور دیگر عمائدین نے ذرائع ابلاغ پر اعتراف کیا کہ یہ توڑ پھوڑ اور گیراؤ جلاؤ تحریک لبیک کے کارکنوں نے نہیں بلکہ سیاسی مخالفین نے کیا۔ لیکن اس کے باوجود بےشمار بے جرم و خطا علمائے کرام کو بغیر تفتیش کے پابند سلاسل کردیا گیا۔ مجھے آج اسلام آباد میںاحباب نے بتایا کئی ایسے علمائے دین بھی جیلوں میں ہیں جن کی ساری عمر قرآن و حدیث پڑھاتے گزری، کہیں شریک جرم رہےنہ کرپشن کی۔ یہاں تک کہ 90 سالہ عظیم علمی و روحانی شخصیت شیخ الحدیث مفتی محمد یوسف سلطانیؒ حافظ آباد کی جیل میں داعی اجل کو لبیک کہہ گئے اور ہزارہا سوگواروں کی معیت میں انہیں اپنے آبائی علاقے گجرات میں سپر خاک کردیا گیا۔یہاں تک کہ ہالینڈ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گستاخانہ خاکوں کے مقابلے کا اعلان کرنے والا” گیرٹ ویلڈر” بھی ان علمائے کی قید و بند پر بول اٹھا کہ “دہشت گردوں” کے خلاف ایکشن خوش آئند ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ ہوش کے ناخن لے کر ملک کے حالات سنبھالے، اس طرح کی ناانصافیوں سے انارکی پھیلنے کا خطرہ ہے۔ سوال یہ بھی ہے کہ ملک میں ایسے حالات پیدا ہی کیوں کیے جاتے ہیں کہ لوگ سراپا احتجاج بن جائیں۔ یاد رکھیں اسلام کی بقاء اور اسلامی اقدار کے تحفظ کے لئے اپنوں اور بیگانوں کے ہاتھوں جیل کی تاریک کوٹھریوں میں جاناائمہ اسلام اور اہل حق کا شیوہ رہا ہے۔ اس حوالے سے کچھ مسلمان حکمرانوں کا کردار بھی ہوس اقتدار اور بیرونی دباؤ کی وجہ سے بہت بھیانک رہا۔ بڑے بڑے علماء، فقہاء اور بزرگان دین کو حق گوئی اور دینی حمیت و غیرت کی پاداش میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنی پڑیں۔ حضرت امام ابو حنیفہؒ کو عباسی خلیفہ ابو جعفر منصور نے چیف جسٹس کا عہدہ قبول کرنے سے انکار پر 146 ہجری میں قید کردیا۔ قید خانہ میں بھی امام ابوحنیفہ ؒ نے تعلیمی سلسلہ جاری رکھا۔ امام محمدؒ جیسے محدث وفقیہ نے جیل میں ہی امام صاحب سے تعلیم حاصل کی۔ خلیفہٴ وقت نے امام صاحبؒ کو زہر دلوادیا۔ جب انہیں زہر کا اثر محسوس ہوا تو سجدہ کیا اور اسی حالت میں وفات پاگئے۔ پچاس ہزار سے زائدافراد نے نمازِجنازہ پڑھی، بغداد کے خیزران قبرستان میں دفن کیے گئے۔ 375ھ میں اس قبرستان کے قریب ایک بڑی مسجد ”جامعُ الامام الاعظم“ تعمیر کی گئی جو آج بھی موجود ہے۔ حضرت امام موسی کاظمؒ سب سے زیادہ عرصہ جیل کی تاریک کوٹھریوں میں قید رہے ۔اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا اور حکمرانوں کو اسلام کا چہرہ مسخ کرنے پر تنقید کا نشانہ بناتے رہے طویل عرصہ قید کا انجام بھی آپ کی شہادت پر ہوا لیکن آپ نے ظالم اور فاسق حکمرانوں کے سامنے جھکنا قبول نہ کیا۔ اسی طرح خلیفہ معتصم کی رائے سے اختلاف کی پاداش میں امام احمد بن حنبلؒ نے کوڑے کھائے ۔کوڑوں سے بے ہوش ہو جاتے لیکن غلط بات کی تصدیق سے انکار کر دیتے۔ حق کی خاطر صعوبتیں اٹھائیں اورلوگوں کے دلوں کے حکمران بن گئے۔ ان کے انتقال کے وقت آٹھ لاکھ سے زیادہ اشخاص بغداد میں جمع ہوئے اور نماز جنازہ پڑھی۔ان عظیم ہستیوں کے نام آج بھی زندہ جاوید ہیں جبکہ ظالم حکمرانوں کے نام و نشان بھی جبر و ستم کی مثال بن گئے۔بشکریہ جنگ لندن