أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَمَنِ افۡتَرٰى عَلَى اللّٰهِ الۡكَذِبَ مِنۡۢ بَعۡدِ ذٰ لِكَ فَاُولٰٓٮِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوۡنَ

ترجمہ:

پھر اس کے بعد جو لوگ اللہ پر جھوٹ باندھیں تو وہی لوگ ظالم ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : پھر اس کے بعد جو لوگ اللہ پر جھوٹ باندھیں تو وہی لوگ ظالم ہیں۔ (آل عمران : ٩٤)

اسلام میں احکام آسان ہیں : 

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ جو لوگ ان باتوں کو اللہ کی کتاب کی طرف منسوب کریں جو اس میں نہیں ہیں ‘ اس کا دوسرا معنی یہ ہے کہ جو لوگ اللہ کی حرام کردہ چیزوں میں اپنی طرف سے اضافہ کریں ‘ اس کا تیسرا معنی یہ ہے کہ لوگوں نے اللہ کے حکم کے بغیر اپنی طرف سے کسی چیز کو حرام کرلیا تو ان کے اس حکم کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے بھی ان پر سخت احکام نازل فرمائے :

(آیت) ” فبظلم من الذین ھادوا حرمنا علیہم طیبت احلت لھم وبصدھم عن سبیل اللہ کثیرا “۔ (النساء : ١٦٠)

ترجمہ : تو یہودیوں کے ظلم کی وجہ سے ہم نے ان پر کئی حلال چیزیں حرام کردیں ‘ جو پہلے ان کے لیے حلال تھیں اور اس وجہ سے کہ وہ (لوگوں کو) بہت زیادہ اللہ کے راستہ سے روکتے تھے۔

جب کہ ہماری شریعت اس کے خلاف ہے ‘ اللہ تعالیٰ ارشاد ہے :

(آیت) ” وما جعل علیکم فی الدین من حرج “۔ (الحج : ٧٨)

ترجمہ : اللہ نے دین میں تم پر کسی قسم کی تنگی نہیں رکھی۔

(آیت) ” یرید اللہ بکم الیسر ولا یرید بکم العسر “۔ (البقرۃ : ١٨٥) 

ترجمہ : اللہ تمہارے ساتھ آسانی کا ارادہ فرماتا ہے اور تم کو مشکل میں ڈالنے کا ارادہ نہیں فرماتا۔

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم آسان احکام بیان کرنے کے لیے بھیجے گئے ہو اور لوگوں کو مشکل میں ڈالنے کے لیے نہیں بھیجے گئے۔ (صحیح بخاری ج ١٠ ص ٣٥‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

قرآن مجید اور احادیث صحیحہ کی ان تعلیمات کے خلاف ہمارے بعض علماء ڈھونڈ ڈھونڈ کر ‘ مشکل اور ناقابل عمل احکام بیان کرتے ہیں : مثلا وہ کہتے ہیں کہ چلتی ٹرین میں نماز پڑھنا جائز نہیں ہے ‘ سجدہ میں اگر انگلیاں اٹھ گئیں تو نماز فاسد ہوجائے گی ‘ قمیص کے کالر اور گھڑی کے چین کو ناجائز کہتے ہیں ‘ ایلوپیتھک دواؤں سے علاج کرانا جائز نہیں ہے ‘ انتقال خون جائز نہیں ہے ‘ ایک مشت ڈاڑھی رکھنا واجب ہے اگر کسی کی ڈاڑھی ایک مشت سے ایک سوت کے برابر بھی کم ہو تو وہ اور ڈاڑھی منڈانے والا برابر ہے ‘ وہ فاسق معلن ہے ‘ جس کی ڈاڑھی ایک مشت سے کم ہو اس کے پیچھے نماز پڑھنا مکروہ تحریمی اور واجب الاعادہ ہے ‘ جس عورت کا شوہر مفقود الخبر ہو (لاپتہ ہو) وہ اس شوہر کی ٩٠ برس عمر ہونے تک انتظار کرے ‘ اگر کسی عورت کا شوہر اس عورت کو اپنے گھر رکھے نہ خرچ دے نہ اس کو طلاق دے تو جب تک اس عورت کو خود اس کا شوہر طلاق نہ دے وہ دوسرا نکاح نہیں کرسکتی اور عدالت کو اس کا نکاح فسخ کرنے کا اختیار نہیں ہے ‘ اس قسم کے اور مسائل ہیں جن میں یہ انتہاء پسند علماء مشکل احکام بیان کرکے پڑھے لکھے مسلمانوں کو اسلام کے خلاف شکوک اور شبہات میں مبتلا کرتے ہیں۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 94