قادیانیوں سے ملاقاتیں.

آجکل سوشل میڈیا پر وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کی برطانیہ میں قادیانیوں سے ملاقاتوں کا بڑا چرچا ہے.یہ بات بہت ہی قابل افسوس ہے کہ ہم صیہونیت سے مالی امداد حاصل کرنے کے لیے قادیانیوں کو خوش رکھنا چاہتے ہیں اور ان کے ذریعے سے ہم پاکستان کے معاشی مسائل کے حل کرنا چاہتے ہیں.ہر دور میں وفاقی کابینہ میں ایسے افراد موجود رہے ہیں جو مرزائی ایجنڈے کو پائیہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے ان کے لیے کام کرتے ہیں اور انکی پے رول پر رہتے ہیں.لمحہ موجود میں.فواد چوہدری وہ واحد وزیر ہیں جوپاکستان میں اسلام اور اسلامی قوتوں کے شدید ترین مخالف ہیں.علماء اور اہل مذہب کے لیے وزیراطلاعات کا بہت توہین آمیز رویہ ہے. ان تین مہینوں میں مذہبی حوالہ سے وزیر موصوف نے وزیراعظم عمران خان کو بہت مس گائیڈ کیا ہے حالانکہ مذہب انکا پورٹ فولیو نہیں ہے.لیکن چونکہ انکا ایجنڈا اپنا نہیں ہے وہ کسی کے ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں اس لیے وہ مذہبی معاملات میں بے جا مداخلت کرتے ہیں.مذہبی معاملات وزارت مذہبی امور کا پورٹ فولیو ہے اسکو ہی مذہبی معاملات دیکھنے چاہییں.

وزیر اعظم پاکستان سادہ اور صاف دل کے مالک ہیں,اور ہر بات کھل کے کردینے کے عادی ہیں اس لیےبعض لوگ ان کے اس رویہ سے سوئے استفادہ کرتے ہیں.مجھے تو کم ازکم شرح صدر حاصل ہے کہ وزیراعظم, پاکستان اور اسلام کو نقصان پہنچانے کا بالکل بھی نہیں سوچ سکتے.لیکن ہم وزیر اعظم سے گزارش کریں گے کہ وہ اپنے وزراء کی”حرکتوں”پر نظر رکھیں کہ کون پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے کے لیے عملی جدوجہد میں مصروف ہے اور کون پاکستانیوں کو مدینے کے تاجدار کی غلامی سے نکال کر اس عہد کے بدترین دجال مرزا علام قادیانی کی غلامی کی طرف دھکیل رہا ہے.بہت سی اطلاعات ہیں کہ بعض علاقوں میں کالجز کے اساتذہ یہودیوں کے لیے اپنے طلباء کے دلوں میں نرم گوشہ پیدا کرنے کے لیے باقاعدہ مہم چلائے ہوئے ہیں.اس کمپین سے ہمارے احباب بہت پریشان ہیں.

جب مذہب کے حوالے سے اضطراب پیدا ہوتا ہے تو اس کے نتائج اچھے نہیں آتے.جنرل آصف غفور نے میڈیا سے کہا ہے کہ وہ چھ ماہ کے لیے صرف مثبت رپورٹنگ کریں.ہم ڈی جی آئی ایس پی آر سے گزارش کریں گے کہ وہ حکومت اور وفاقی وزراء کو بھی کہیں کہ چھ ماہ تک وہ مذہبی پنگے بازیوں سے نکل کر صرف اور صرف پاکستان کا سوچیں.پاکستان ہے تو ہم سب ہیں.ہم ہر طرف سے دشمن کی ریشہ دوانیوں کا شکار ہیں.دشمن کا مقابلہ کمزور پاکستان نہیں ایک توانا پاکستان ہی کرسکتا ہے اور پاکستان توانا صرف اسی صورت میں ہوسکتا ہے جب حکومت,ریاستی ادارے اور عوام ایک پیج پر ہوں.مذہبی طاقتیں بھی پاکستان کے معروضی حالات کا کچھ خیال کریں.مذہب کے نام پر سیاست کرنے والوں کے اپنے ایجنڈے ہیں لیکن وہ مذہب اور پاکستان کو بدنام نہ کریں.

وماتوفیقی الاباللہ علیہ توکلت و الیہ انیب.

طالب دعاء

گلزار احمد نعیمی.