أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قُلۡ صَدَقَ اللّٰهُ‌ ۗ فَاتَّبِعُوۡا مِلَّةَ اِبۡرٰهِيۡمَ حَنِيۡفًا ؕ وَمَا كَانَ مِنَ الۡمُشۡرِكِيۡنَ

ترجمہ:

آپ کہیے کہ اللہ نے سچ فرمایا تم ابراہیم کی ملت کی پیروی کرو جو باطل کو چھوڑ کر حق کی طرف رجوع کرنے والے تھے اور وہ مشرکین میں سے نہ تھے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : تم ابراہیم کی ملت کی پیروی کرو جو باطل کو چھوڑ کر حق کی پیروی کرنے والے تھے۔ (آل عمران : ٩٥)

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے سورج اور چاند کی عبادت کرنے سے منع کردیا تھا ‘ اسی طرح انہوں نے بتوں کی پرستش کرنے سے انکار کردیا تھا ‘ جس طرح عرب بت پرستی کرتے تھے یا یہود حضرت عزیر کو اور عیسائی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کو بیٹا کہتے تھے ‘ اس سے غرض یہ ہے کہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دین کے اصول اور عقائد میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے موافق ہیں اور دین کی فروع اور بعض احکام شرعیہ میں بھی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے موافق ہیں ‘ اصول میں موافقت اس طرح ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) توحید کی دعوت دیتے تھے اور اللہ تعالیٰ کے سوا ہر معبود کی عبادت کو ترک کرنے کا حکم دیتے تھے ‘ سو سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی توحید کی دعوت دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کو ترک کرنے کا حکم دیتے ہیں ‘ اور فروع میں موافقت یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی شریعت میں بھی اونٹ کا گوشت کھانا اور اونٹنیوں کا دودھ پینا جائز تھا سو آپ نے بھی اس کو جائز قرار دیا ہے اس لیے یہود کو دعوت دی ہے کہ تم ابراہیم کی ملت کی پیروی کرو۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 95