بیعت کیا ہے؟

مقصود احمد سعیدی
 
بیعت ایک عربی لفظ ہے جو’ بیع‘ سے بنا ہے جس کا معنی ہے فروخت کرنا ۔یہی معنی طریقت کی اصطلاح میں بھی لیا جاتا ہے ،یعنی جس کسی شخص نے شرف بیعت سے سرفرازی حاصل کی ،گویا اس نے اپنے آپ کو مرشد کے ہاتھوں فروخت کر دیا۔یہاں پرفروخت ہونے سے مراد یہ ہے کہ مریدنے اپنی نفسانی خواہشات کواپنے پیر کے ہاتھوں بیچ دیا۔ اب جواس کا مرشد چاہے گا وہی کرنا ہے ۔اس کی اپنی خواہشات کا اس میں کچھ عمل دخل نہیں۔ اسی کے ساتھ دل میں یہ یقین بھی بیٹھ جائے کہ مرشدوہی کرنے کے لیے کہے گا جس میں اللہ عزّ وجل اور پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا شامل ہوگی۔
بعض لوگ کہتے ہیں کہ پیر مرشد و مرشدکی کیا ضرورت ہے؟ کیا ہدایت کے لیے پیغمبرکافی نہیں ہے؟ 
اس کے لیے عرض ہے کہ جس طرح اللہ تبارک و تعالیٰ تک پہنچنے کے لیے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ضرورت ہے،اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ پر عمل کرنے کے لیے پیر کامل کی رہنمائی کی ضرورت ہے۔ جب ایک مریدپیر کامل کی زندگی کو سنت وشریعت کے عین مطابق دیکھتاہے تواس کے ایمان و یقین میں پختگی آتی جاتی ہے۔اس کے عقیدے میں پاکیزگی آتی ہے۔ ساتھ ہی وہ اپنے عمل میں ان سے رہنمائی حاصل کرنے کا موقع پاتا ہے اور اپنے لیے اصلاح وتزکیہ نفس کا سامان فراہم کرتاہے۔
یہاں یہ بات ذہن میں رہے کہ ہمارا نفس ایک جانورکی مانند ہے،اس لیے اسے آزاد نہ رہنے دیا جائے ،ورنہ ایمان ومعاشرے کے لیے،وہ طرح طرح سے مشکلات پیدا کرنے کی کوشش کرے گا،چنانچہ اس کے گلے میں بیعت کی زنجیر ڈال دیناضروری ہے اور کسی پیر کامل کی نگہبانی بھی لازم ہے تاکہ سرکش نفس کو بہکنے کا کوئی موقع نہ ملے ۔
عصر حاضر میں جبکہ ہرطرف تاریکی پھیلی ہوئی ہے ، ایسے میںاگرانسان چاہتا ہے کہ ان احکام کے تابع ہو جائے جو قرآن و حدیث کے مطابق ہو تو یہ اسی وقت ممکن ہے جب کسی پیر کامل کا دامن تھام لے اوران کا احترام وعظمت اپنے دل میں رچا بسالے۔ شیخ ابو سعید شاہ احسان اللہ محمدی صفوی مد ظلہ العالی ’’ مثنوی نغمات الاسرار‘‘ میں فرماتے ہیں:؎

جس سے وہ روکے تو رک جا با خدا 
جس طرف وہ حکم فرمائے تو جا
یہ اشارہ یاد رکھ ہر لحظہ تو
ما نھاکم عنہ اے دل فانتھوا

یہی سبب ہے کہ اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کرنے اور اس کا قرب پانے کے لیے بیعت لازم ہے۔جب تک کوئی مرد کامل صراط مستقیم پر نہیں چلائے گا انسان چل نہیں سکتا ہے اورعام طور پر وہی فرد رہنما بنایا جاتا ہے جسے راستے کے نشیب و فراز سے واقفیت ہوتی ہے۔
بیعت: یہ اللہ عزّ و جل کی معرفت حاصل کرنے کا پختہ ذریعہ ہے جو طالب کسی اللہ والے کی موجودگی میں اللہ عزّ و جل کی معرفت کے لیے بیعت کرتا ہے تواہل تصوف اسے ارادت کے لفظ سے تعبیرکرتے ہیں جس کا مطلب ارادہ کرنا ہے۔ ارادہ کے بعدہی عمل کا نمبرآتا ہے اورجب تک ارادہ نہ ہوگااس وقت تک طالب اپنی منزل مقصود کی طرف بڑھنے کی کوشش نہیں کرے گا۔
اس حقیقت کو بھی یاد رکھا جائے کہ ارادہ سے مراد صرف تمنا یا آرزو رکھنا نہیں بلکہ مطلوب کا دل و دماغ میںمکمل طورسے چھا جانا ہے اور اسی کا دیوانہ بن جانا ہے۔ جس بندۂ خدا کے دل میں یہ صفات آجاتے ہیں ایسے ہی شخص کو مرید کہا جاتا ہے۔
شیخ ابو سعید شاہ احسان اللہ محمدی صفوی مدظلہ العالی ’ارادت‘ کی حقیقت کو ’’مثنوی نغمات الاسرار‘‘ میں یوں بیان فرماتے ہیں:؎

تیری نظروں میں نہ آئے کوئی بھی
عین معراج ارادت ہے یہی

بزرگوں نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کا سب سے آسان اور نزدیک راستہ بیعت ہے اور خدائے تعالیٰ کا قانون بھی اسی طریقے پر جاری ہے ۔جس طرح کوئی انسان کسی کے پاس زانوئے ادب تہہ کیے بغیر کوئی فن آسانی اور کامل طریقے سے حاصل نہیں کر سکتا اسی طرح باطنی کمالات کو انسان بیعت کے بغیر حاصل نہیں کر سکتا، اسی لیے مرشد کی ضرورت ہوتی ہے۔
قرآن پاک کا ارشاد ہے کہ’’ وہ مقبول بندے جنہیں یہ کافرپوجتے ہیںوہ آپ ہی اپنے رب کی طرف وسیلہ ڈھونڈھتے ہیں کہ ان میں کون زیادہ مقرب ہے،اس کی رحمت کی امید رکھتے ہوئے اوراس کے عذاب سے ڈرتے ہیں،بے شک تمہارے رب کاعذاب ڈرکی چیز ہے۔ (بنی اسرائیل،آیت ۵۷)
اور اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اللہ کی عطا اورانعام کے سبب، اولیائے کرام بھی دنیا و آخرت اور قبر و حشر میں اپنے متوسلین کے شفیع و مددگار ہیں۔
چنانچہ امام عارف باللہ سیدی عبدالوہاب شعرانی رحمۃ اللہ علیہ ’’عبود محمدیہ‘‘ میں فرماتے ہیں :
’’جو کوئی شخص کسی نبی یا رسول یا ولی کا متوسل ہوگا ضروری ہے کہ وہ نبی یا رسول یا ولی مشکلات میں اپنے متوسلین کی دستگیری فرمائیں۔‘‘
ان باتوں سے واضح ہوتا ہے کہ اولیاء اللہ نہ صرف اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ بندے ہوتے ہیں بلکہ اللہ کے قرب حاصل کرنے میں مددگار بھی ہوتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کوبزرگوں کی صحبت خیر کی توفیق بخشے اور ان کے قلوب میں طلب صادق کی تڑپ پیدا فرمائے ۔