دریائے نیل کے نام ایک خط

حکایت نمبر107: دریائے نیل کے نام ایک خط

حضرت سیدنا قیس بن الحجاج علیہما رحمۃ اللہ الوھاب سے مروی ہے: ”جب مصر فتح ہوا تو وہاں کے کچھ لوگ حضرت سیدنا عمروبن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس عجمی مہینوں میں سے کسی مہینے کی تاریخ کوآئے(اس و قت حضرت سیدنا عمر وبن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ مصر کے گورنر تھے)،ان لوگو ں نے عرض کی:”اے ہمارے محترم امیر ! ہمارے اس دریائے نیل کی ایک پُرانی رسم ہے جب تک وہ رسم ادا نہ کی جائے اس وقت تک یہ جاری نہیں ہوتا ۔” آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:” وہ کون سی رسم ہے جس کے اداکئے بغیر یہ دریا جاری نہیں ہوتا ؟”لوگوں نے عرض کی :”اس ماہ کی بارہ تاریخ ہم کسی نوجوان خوبصورت لڑکی کے والدین کے پاس جاتے ہیں اور انہیں اس بات پر راضی کرتے ہیں کہ وہ اپنی خوبصورت دوشیزہ کو دریائے نیل میں ڈالنے کے لئے ہمارے حوالے کر دیں تا کہ یہ دریا جاری ہو اور ہم سب سیراب ہوسکیں پھر ہم اس نوجوان خوبصورت لڑکی کو عمدہ کپڑے پہنا کر زیورات سے آراستہ کرتے ہیں پھر اسے دریائے نیل میں ڈال دیتے ہیں ۔ اس طر ح ہر سال ہم اپنی ایک جوان لڑکی کی قربانی دیتے ہیں تب دریائے نیل جاری ہوتا ہے۔” ان لوگوں کی یہ عجیب وغریب بات سن کر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:” اِسلام میں ایسی کوئی بے ہودہ رسم جائز نہیں ، بے شک اِسلام نے ایسی تمام باطل رسمیں مٹا دی ہیں ،تم اس مرتبہ اس رسم پر ہرگز عمل نہ کرنا۔”

لوگ آپ کی بات سن کر و اپس چلے گئے اور انہوں نے اس مرتبہ کسی بھی لڑکی کو دریا میں نہ پھینکا ،دریائے نیل خشک رہااور اس مرتبہ اس میں بالکل بھی پانی نہ آیا۔ لوگ بہت پریشان ہوئے او رانہوں نے اِرادہ کرلیا کہ ہم یہ ملک چھوڑ کر کسی اور جگہ چلے جاتے ہیں۔ جب حضرت سیدنا عمر وبن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لوگو ں کی یہ حالت دیکھی تو انہوں نے امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی جانب خط لکھا اور انہیں ساری صورتحال سے آگاہ کیا ، جب حضرت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حضرت سیدنا عمر وبن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا خط ملا تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواباً لکھوا کر بھیجا:” تم نے بالکل سچ کہا کہ اِسلام بے ہودہ پُرانی رسموں کو مٹا دیتا ہے۔مَیں تمہاری طرف مکتوب میں ایک رقعہ بھیج رہا ہوں جب تمہارے پاس میرا یہ مکتوب اور رقعہ پہنچے تو تم اس رقعے کو دریا ئے نیل میں ڈال دینا۔” جب حضرت سیدنا فارو ق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مبارک مکتوب آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ملاتو اس میں ایک چھوٹا سا رقعہ بھی تھا ۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وہ رقعہ لیااوراسے پڑھنا شروع کیا ۔اس مبارک رقعے میں درج الفاظ کامفہوم یہ ہے:اللہ عزوجل کے بندے امیر المؤمنین (حضرت سیدنا)عمر(رضی اللہ تعالیٰ عنہ)کی جانب سے مصر کے دریا”نیل” کی طرف !اما بعد !اے دریائے نیل! اگر تُواپنی مرضی سے جاری ہوتا ہے تو جاری مت ہو (ہمیں تیری کوئی حاجت نہیں ) اور اگر تجھے اللہ عزوجل واحد وقہارجاری فرماتا ہے تو ہم اس سے سوال کرتے ہیں کہ وہ تجھے جاری فرمادے۔”حضرت سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وہ رقعہ پڑھا اور دریائے نیل میں ڈال دیا جس وقت یہ رقعہ دریامیں ڈالا گیا اس وقت دریا بالکل خشک تھا اور لوگوں نے اس ملک کو چھوڑنے کا ارادہ کرلیا تھا لیکن جب لوگ صبح دریائے نیل پر پہنچے تو انہوں نے دیکھا کہ ایک ہی رات میں اللہ عزوجل نے (امیرالمؤمنین حضرت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے رقعہ کی بر کت سے) دریا میں سولہ گز پانی جاری فرمادیا اور اللہ عزوجل نے وہ رسمِ باطل مٹادی اور آج تک یہ رسم ختم ہے۔(دریائے نیل اس کے بعد آج تک خشک نہیں ہوا )؎ چاہیں تو اشارو ں سے اپنے کایا ہی پلٹ دیں دنیا کییہ شان ہے خدمت گاروں کی سرکار کا عالم کیا ہوگا ( میٹھے میٹھے اسلامی بھا ئیو!سبحان اللہ عزوجل ! اِسلام کتنا عظیم ہے کہ اس نے آکر مظلوموں کو ظلم سے نجات دلوائی، بے سہاروں کو سہارا دیا اوردینِ اسلا م ایسے عظیم اَحکام کا مجموعہ ہے کہ جن میں لوگو ں کی دنیا اور آخرت کی بھلا ئی ہے۔ اس حکایت سے معلوم ہوا کہ جو کوئی اللہ عزوجل کا ہوجاتا ہے ہر چیز ا س کے تا بع کردی جاتی ہے جو اپنے گلے میں نبی پاک ،صاحبِ لولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی غلامی کا پٹہ ڈال لیتا ہے وہ در حقیقت جہاں کا سردار بن جاتا ہے:۔؎؎ مدینے کے گدا دیکھے ہیں دنیا کے امام اکثر بدل دیتے ہيں تقدیریں محمد صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے غلام اکثرایسے عظیم لوگ اسباب پر نہیں بلکہ خالقِ اسباب پر نظر رکھتے ہیں ۔ ان کا اللہ عزوجل پرتوکل بہت کامل ہوتا ہے۔ جب غلاموں کا یہ حال ہے تو سردارِمکہ مکرمہ ،سلطانِ مدینہ منورہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی طاقت او راِختیار ات کا کیا عالم ہوگا ۔ اللہ عزوجل ہمیں حضورنبی کریم ، رء ُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی سچی غلامی عطا فرمائے اوران کے جلوؤں میں شہادت کی موت عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم )

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.