حدیث نمبر :231

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمرو سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ علم تین ہیں ظاہر آیتیں ثابت و مضبوط سنت ان کے برابر فریضہ ۱؎ جوان کے سواء ہیں وہ زیادتی ہے۲؎ (ابوداؤد،ابن ماجہ)

شرح

۱؎ یعنی علم دین ان چیزوں کا جاننا ہے احکام کی غیرمنسوخ آیتیں مع تفصیل اور صحیح غیر منسوخ حدیثیں اجماع امت اور قیاس جو کتاب و سنت کی طرح واجب العمل ہیں۔خیال رہے کہ یہاں فریضہ سے مراد علم فرائض(میراث)نہیں کہ وہ کتاب و سنت میں آگیا بلکہ فقہ ہی مراد ہے۔عادلہ بمعنی عدیل و مثل۔(مرقاۃ واشعہ)

۲؎ یعنی ان تین کے علاوہ باقی علوم علم دین نہیں بلکہ زائد یا فضول ہیں۔خیال رہے کہ صرف و نحو وغیرہ قرآن و حدیث سمجھنے کے لئے ہیں اور اصول فقہ و اصول حدیث وغیرہ ان علوم کے خدام جو ان کو اپنا مقصود بنالے بڑا بے وقوف ہے۔شعر ؎

علم دین فقہ است تفسیر و حدیث ہر کہ جوید غیر ازیں باشدخبیث