حدیث نمبر :232

روایت ہے حضرت عوف ابن مالک اشجعی سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ قصہ گوئی نہیں کرتے مگر حاکم یا محکوم یا متکبر۲؎ اسے ابوداؤدنے روایت کیا۔اور دارمی نے حضرت عمرو ابن شعیب سے انہوں نے اپنے والد اور انہوں نے اپنے دادا سے اور ان کی روایت میں مختال کی بجائے ریا کار ہے۔

شرح

۱؎ آپ مشہور صحابی ہیں جنگ خبیر میں حضور کے ساتھ فتح مکہ کے دن قبیلہ اشجع کا پرچم آپ کے ہاتھ میں تھا شام میں رہے اور ۷۳ھ؁ میں وہیں وفات ہوئی۔

۲؎ اصطلاح میں سیاسی لیکچر اور عام خطابوں کو قصہ کہا جاتا ہے جس میں احکام شرعیہ کی تبلیغ ہو اسے وعظ نصیحت کہتے ہیں۔آج کل کے عام مروجہ وعظ قصے ہیں اور واعظین قاصّ،یعنی سیاسی لیکچر یا بادشاہ کرتے ہیں،یا ان کے ماتحت حکام،یا سیاسی متکبر لیڈر قوم میں اپنا وقار بڑھانے کے لیئے،علماء کا یہ کام نہیں،علماء کا وعظ شرعی احکام کا چشمہ اور تبلیغ کا منبع ہونا چاہیئے یہ حدیث ہدایت کا گنجینہ ہے۔