أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قُلۡ يٰۤـاَهۡلَ الۡكِتٰبِ لِمَ تَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ مَنۡ اٰمَنَ تَبۡغُوۡنَهَا عِوَجًا وَّاَنۡتُمۡ شُهَدَآءُ ‌ؕ وَمَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعۡمَلُوۡنَ

ترجمہ:

آپ کہیے اے اہل کتاب ! تم اللہ کے راستہ سے کیوں روکتے ہو ؟ تم ایمان والوں کے راستہ کو (بھی) ٹیڑھا کرنا چاہتے ہو حالانکہ تم خود (اس دین کے برحق ہونے پر) گواہ ہو اور اللہ تمہارے اعمال سے غافل نہیں ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آپ کہیے : اے اہل کتاب ! تم اللہ کے راستہ سے کیوں روکتے ہو ؟ (آل عمران : ٩٩)

اللہ کے راستہ سے روکنے کے کئی محامل ہیں بعض ازاں یہ ہیں : 

اہل کتاب کے گمراہ کن حیلے :

(١) وہ ضعیف مسلمانوں کے دلوں میں اسلام کے خلاف شکوک اور شبہات ڈالتے تھے مثلا وہ نسخ پر اعتراض کرتے اور کہتے ہیں کہ یہ بداء ہے یعنی اللہ نے ایک حکم دیا بعد میں وہ اس حکم کی قباحت پر مطلع ہوا تو اس نے اس حکم کو منسوخ کر کے دوسرا حکم نازل کردیا ‘ اسی طرح وہ کہتے کہ تورات میں لکھا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی شریعت قیامت تک باقی رہے گی۔

(٢) وہ اس بات کا انکار کرتے تھے کہ تورات میں سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کا ذکر ہے اور جب ان سے آخر زمانے میں آنے والے نبی کی صفات پوچھی جاتیں تو وہ دجال کی صفات بیان کردیتے۔

(٣) وہ لوگوں کو کعبہ کا حج کرنے سے روکتے تھے اور بیت المقدس کا حج کرنے ترغیب دیتے تھے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ” تم ایمان والوں کے راستہ کو بھی ٹیڑھا کرنا چاہتے ہو۔ “ یعنی اپنی تحریفات کے ذریعہ انہیں بھی گمراہ کرنا چاہتے ہو ‘ یا اس کا معنی ہے کہ صراط مستقیم کے دعوی دار ہو جب کہ تم جس راستہ پر چل رہے ہو وہ ٹیڑھا راستہ ہے حالانکہ تم گواہ ہو کہ تورات میں مذکور ہے کہ اللہ اسلام کے علاوہ اور کسی دین کو قبول نہیں کرے گا ‘ یا تم سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت پر دلالت کرنے والے معجزات کے ظہور پر گواہ ہو ‘ یا تم اس پر گواہ ہو کہ اللہ کے راستہ سے روکنا جائز نہیں ہے ‘ یا تم اپنے اہل مذہب کے نزدیک لائق اعتبار اور نیک ہو جس کی گواہی کو قبول کرنا واجب ہے اور جو شخص ایسے منصب کا حامل ہو اس کا جھوٹ ‘ باطل اور گمراہی پر اصرار کرنا کیونکر جائز ہوسکتا ہے اس کے بعد فرمایا اور اللہ تمہارے اعمال سے غافل نہیں ہے اس میں ان کی تہدید کی ہے اور خبردار کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے کرتوتوں سے واقف ہے اور عنقریب ان کو سزا دے گا۔ پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان کی گمراہی کو بیان کرکے اس کا رد فرمایا تھا اور اس آیت میں ان کے گمراہ کرنے کو بیان کرکے اس کا رد فرمایا ہے۔

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کو شہداء فرمایا ہے ‘ اس سے ثابت ہوا کہ اہل کتاب کی ایک دوسرے کے خلاف گواہی جائز ہے ‘ امام ابوحنیفہ کا یہی مذہب ہے اور مسلمانوں کے خلاف ان کی گواہی بالاجماع جائز نہیں ہے۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 99