أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قُلۡ يٰۤـاَهۡلَ الۡكِتٰبِ لِمَ تَكۡفُرُوۡنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ ۖ وَاللّٰهُ شَهِيۡدٌ عَلٰى مَا تَعۡمَلُوۡنَ

ترجمہ:

آپ کہیے اے اہل کتاب اللہ کی آیتوں کا کیوں انکار کرتے ہو حالانکہ اللہ تمہارے تمام اعمال پر گواہ ہے

تفسیر:

کفر پر مذمت میں اہل کتاب کی تخصیص کی وجہ : 

اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے کعبہ کی فضائل اور حج کی فرضیت کو بیان فرمایا ہے ‘ اور اہل کتاب کو اس بات کا علم تھا کہ اسلام ہی دین حق ہے ‘ تو پھر تم اللہ کی آیات کا کیوں انکار کرتے ہو ؟ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ اس آیت میں باقی کفار کے بجائے خصوصیت کے ساتھ اہل کتاب کا کیوں ذکر فرمایا ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تورات اور انجیل میں سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کی حقانیت پر دلائل بیان فرما دیئے تھے ‘ آپ کی علامات بھی بیان کردی تھیں ‘ پھر آپ کی نبوت کے متعلق جو ان کو شبہات تھے ان کو قرآن مجید کی آیات سے زائل کردیا تھا ‘ اور جب ان پر حجت تمام ہوگئی تو پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو خطاب کر کے فرمایا : اے اہل کتاب اللہ کی آیتوں کا کیوں انکار کرتے ہو ؟ ثانیا دوسرے کفار اور مشرکین کی بہ نسبت اہل کتاب اللہ تعالیٰ کی آیات کی زیادہ معرفت رکھتے تھے کیونکہ وہ الوہیت اور توحید کے معترف تھے اور نبوت کا اقرار کرتے تھے اور ان کی کتابوں میں سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت کے متعلق بشارتیں موجود تھیں۔

اس میں اللہ کی آیتوں سے مراد سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کی علامات ہیں اور ان کے کفر اور انکار سے ان علامتوں کی دلالت کا کفر اور انکار مراد ہے ‘ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا اللہ تعالیٰ تمہارے تمام اعمال پر گواہ ہے ‘ یعنی اللہ تم کو تمہارے ان اعمال کی سزا دے گا۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 98