تصویر کائنات 

ابو زوبیہ

 

اللہ تعالی نے حضرت آدم علیہ الصلاۃ والسلام کو پیدا فرمایا اور جنت میں رہنے کا حکم دیا ۔کچھ دنوں کے بعد انھیں بے چینی سی ہوئی اوراجنبیت کا احساس ستانے لگاتوانھوں نے اللہ تعالی سے دعامانگی کہ اے اللہ!مجھے ایک مونس وغمخوار دے تاکہ میری طبیعت کو سکون نصیب ہو ۔چنانچہ خالق کائنات جل شانہ نے حضرت آدم علیہ الصلاۃ والسلام کی بائیں پسلی سے حضرت حوا علیہا السلام کوپیدافرمایا اور جنت میں ان کا ساتھی بنایا۔پھر وہ دونوں دنیا میں بھیجے گئے اور یوں ان کی اولاددنیا میں پھیلتی چلی گئی۔

دنیا میں آنے کے بعد نسل انسانی کا فروغ شروع ہوا۔ انسانی آبادی بڑھنے لگی۔زندگی گذارنے کے بہترسے بہتر وسائل پیدا ہونے لگے۔ایک سے بڑھ کر ایک طرز زندگی اپنائے جانے لگے،لیکن جیسے جیسے زندگی ترقی سے ہمکنارہوتی گئی ویسے ویسے کچھ ایسے مسائل اور مشکلات بھی سامنے آتے گئے جن سے ہر کسی کا سامنا ہوتاہے۔ان تمام چیزوں سے قطع نظر عورتوں کے سامنے جو مسائل آئے وہ انسانی معاشرے کے لیے کسی ناسورسے کم نہیں۔خواہ ان کے ذاتی مسائل ہوں، عائلی مسائل ہوں،ازدواجی مسائل ہوں ، معاشی مسائل ہوں یا پھر دیگر کوئی مسائل ۔

اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ عورتوں کے یہ مسائل کیسے دورہوں گے؟انھیں دورکون کرے گا اور کس نہج سے ان مسائل کو دورکیاجاسکتا ہے؟

اس سلسلے میں میرا ماننا ہے کہ چندایک مسئلوں کو چھوڑ کر بہت سے ایسے مسائل ہیں جنھیں عورتیں اگرچاہ لیں تو وہ خود دورکرسکتی ہیں اور اس کے لیے انھیں کہیں دورجانے کی ضرورت نہیں ہے ،بس ذرافکر وسوچ میں تبدیلی لانی ہوگی اور فکر اسلامی سے غذا لیناہوگا۔عام طورپر عورتوں کی زندگی دو طرح سے گذرتی ہے:

شادی سے پہلے کی زندگی

ماں باپ کے گھر کی زندگی ،جہاں اس کا بچپن گذرتاہے،وہ تعلیم وتربیت پاتی ہے اور بڑی ہوتی ہے۔یہاں اسے رشتے کی شکل میں مختلف لوگوں سے ملاقات ہوتی ہے۔کوئی بھائی ہے توکوئی بہن ہے۔ کوئی ماں ہے توکوئی باپ ہے ،غرضیکہ مختلف رشتوں کے بیچ اسے رہناپڑتا ہے اور ہرایک کے ساتھ وہ بڑی آسانی سے اپنی زندگی گذارتی ہے ۔کسی سے کوئی ایسی بات نہیں ہوتی جو الجھن کا باعث ہو ۔اس کے دو اسباب ہیں :۱۔انھیں ہر کسی سے پوراپورا تعاون ملتا ہے اور وہ بھی سب سے گھلی ملی رہتی ہے۔

۲۔خدانخواستہ کوئی بڑی غلطی بھی ہوجاتی ہے ،تو اسے نظر انداز کردیا جاتا ہے یا پھر اگر والدین کی طرف سے کوئی سختی ہوتی ہے تو لڑکی یہ گمان کرکے برداشت کرلیتی ہے کہ چلو! کوئی نہیں گھر کے بڑے بزرگ ہی تو ہیں ۔اتنا حق تو انھیں ملنا ہی چاہئے۔

دنیاوی اعتبارسے دیکھاجائے توشادی سے پہلے کی زندگی ایک عورت کے لیے بڑی جانگسل ہوتی ہے۔خاص کر آج کی ہوس پرست دنیا میں توعورتوں کی زندگی اور بھی مشکل ہوگئی ہے۔ ان مشکلات سے نکلنا مشکل تو ہے لیکن ناممکن نہیں، بشرطیکہ دنیا کی برائیوں سے خود کو پاک رکھنے کے لیے ان مقدس عورتوں کی زندگی سے روشنی حاصل کی جائے جنھوں نے عورت ہونے کے باوجودنفس کی پاکیزگی کا مظاہرہ کیاہے اور معرفت الہی کا نمونہ بن کردکھایاہے،جن کی گودمیں انبیاومرسلین علیہم الصلوۃ والسلام اور اولیائے کرام علیہم الرحمہ نے تربیت پائی ہے،جن کی راتیں یادالٰہی میں اور دن خدمت خلق میں گذرا ہے۔حضرت آسیہ رضی اللہ عنہاکی زندگی سے نورلیناہوگاجو ظلمت اورتاریکی میں رہنے کے بعد بھی اپنے ایمانی نورکوپرا گندہ نہ ہونے دیا اورحضرت رابعہ بصریہ رضی اللہ عنہاجیسی عظیم ہستی سے ،شرم وحیا اور عفت وپاکدامنی کی بھیک مانگنی ہوگی۔جن کی نظر کسی اجنبی شخص پر پڑجاتی تو بے ہوش ہو جاتی تھیں۔

شا دی کے بعد کی زندگی

یہ عورت کی زندگی میں سب سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ ایک طرح دیکھاجائے تو شادی کے بعدکی زندگی ’’پل صراط‘‘کی مانندہے ۔اسے پار کرنے میں کافی سمجھ بوجھ کی ضرورت ہوتی ہے۔ذراسا بھی بیلنس بگڑا مانوگئے کام سے۔ حالانکہ انسان تو ویسے ہی ہوتے ہیں جیسے انھوں نے اپنی پہلی زندگی میں دیکھے تھے ،بس تھوڑا سا فرق ہوتا ہے کہ وہ میکے والے کہلاتے ہیں اور یہ سسرال والے۔

یہاں بھی اگر عورت تھوڑی سی عقلمندی کا ثبوت دے اور سسر کو اپنے پاب کی جگہ ،ساس کو اپنی ماں کی جگہ رکھے، دیورکو اپنا بھائی،نندکو اپنی بہن اور شوہر کو شوہر ہی سمجھے تو بہت ساری الجھنوں سے بچا جا سکتا ہے۔

اسی طرح سسرال والے بھی ایک عورت کو اگر وہی محبت اور ہمدردی دیں جو اسے اپنے میکے میں میسرتھی تو پھر کوئی پریشانی کی بات ہی نہیں ہوگی اورزندگی گذارنا بڑا آسان ہوجائے گا۔ ایک بات اور جو عام طور پر عورتوںمیں دیکھی جاتی ہے کہ وہ سسرال کی ہر چیز اورہرمعاملے کو اپنے میکے سے موازنہ کرتی ہیں جو نہایت غلط ہے۔یہ بہت سی برائیوں کو جنم دیتی ہے ۔اگر وہ کچھ بھی نہ کرے محض اپنے شوہر کی خوشی کا ہی خیال رکھے تو سسرال میں وہ ایک اچھی اور مثالی زندگی بسر کرسکتی ہے۔

علاوہ ازیں وہ ان برگزیدہ عورتوں کی ازدواجی زندگی کے نور سے اپنی ازدواجی زندگی کوروشن کرے جن کی پہچان ایک مکمل بیوی کے روپ میں ہوتی ہے۔جنھوں نے شوہر کی محبت کو اپنا ایمان اور ان کی دلجوئی کو عبادت سمجھ کر اداکیا ہے۔کہیں اور جانے کی ضرورت نہیں ہے ،پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ازدواجی زندگی سامنے ہے۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہاکا شمارمکہ کے گنے چنے دولتمندوںمیں ہوتا تھا،لیکن شوہر سے محبت وہمدردی اور دلجوئی کا جو سلوک انھوں نے کیا اس کی مثال کہیں نہیں مل سکتی ۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہانے شوہر کی جو خدمت کی ہے اور تنگ دستی میں جو صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا ہے وہ بھی مثالی ہے۔

کیا کوئی اس کا بدل پیش کرسکتا ہے؟اس لیے عورتوں کو چاہئے کہ اپنی عائلی ،خانگی اور معاشرتی زندگی کوبہترسے بہتر بنانے کے لیے ،عظیم اسلامی عورتوںکی زندگی کو اپنا نمونہ بنائیں اور دنیاوآخرت میں کامیابی کے لیے ان کے اخلاق وکردار کی ضیاؤں سے اپنے بے رنگ زندگی میں چارچاند لگائیں،تبھی جاکر علامہ اقبال کا یہ کہنا درست ہوگا کہ:

وجود زن سے ہے تصویرکائنات میں رنگ