ھمارے ملک میں ھر شعبہ زندگی میں نوے فیصد سے زائد بے ایمانی اور کرپشن ھے … ھم ہمیشہ معاشرے کے ایک ہی طبقہ کو ملامت کا نشانہ کیوں بناتے ھیں؟ ھماری توپوں کا رخ ھمیشہ محراب و منبر پر متمکن طبقہ ہی کیوں؟ مجھے معلوم ھے کہ محراب و منبر پر متمکن لوگوں میں بھی 90 فیصد یہی صورتحال ہے لیکن سوال یہ پیدا ھوتا ھے کیا سوسائٹی اور معاشرہ میں علماء کا کوئی کلیدی کردار اسوقت موجود ھے؟؟؟

آپ پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ (سپریم کورٹ) کے ججز کے بارے میں کیا رائے رکھتے ھیں؟ ہائی کورٹ میں متعین معززین ججز کے بارے میں آپکے کیا ریمارکس ھیں؟ کیا یہ ججز بروقت عدل و انصاف کے تقاضے پورے کرتے نظر آتے ھیں؟ یقیناً نوے فیصد سے زائد ججز بدترین ترین سطح پر کرپشن میں ملوث ھیں، آپ لوئر عدلیہ کے بارے میں کیا تاثرات رکھتے ھیں کیا چھوٹی عدالتیں عدل و انصاف کے تقاضوں کو بروقت پورا کرتی نظر آرہی ھیں؟؟؟ بار اور بنچ لازم و ملزوم ھیں کیا بار ایسوسی ایشن تنظیمیں انصاف کی بالادستی کے لئے عدلیہ کے کچھ کام آسکیں؟ کیا کالے لباس زیب تن کئے ایمان فروش وکلاء کے کردار و افعال آپ سے ڈھکے چھپے ھیں؟ میں اس شخص کو کیسے بھول سکتا ھوں جسے کراچی یونیورسٹی میں ایک لیکچرار کے قتل کے مقدمہ میں شامل تفتیش کیا گیا اور عمرقید کی سزا سنائی گئی وہی نوجوان اپنی متاعِ زیست کے دس سال جیل میں بے قصور رہا پھر اسے رہا کردیا جاتا ھے، میں آج بھی ناصر نامی قیدی کو نہیں بھول پاتا جو دو سال سے لانڈھی جیل میں ناکردہ سزا کو کاٹ رہا ھے، نہ اسکا مقدمہ چل رہا ھے نہ کیس کی سماعت ھوتی ھے بس جج کے روبرو پیش کیا جاتا ھے اور جج اگلی تاریخ دے دیتا ھے جبکہ وہ جج بھی جانتا ھے کہ کیس کمزور ھے لیکن پورا نظام اسقدر مفلوج ھوچکا کہ نہ ناصر کو سزا دی جاتی ھے نہ رہا کیا جاتا ھے، ملکی ڈاکٹرز کے بارے میں آپکے کیا خیالات ھیں؟ کیا نجی ہسپتال ایمان فروشی میں ملوث نہیں؟ کیا بلاضرورت حاملہ عورتوں کے سیزر آپریشن عام نہیں؟ کیا ملک میں جعلی ادویات کا کالا دھن زور و شور سے جاری نہیں؟ کیا دیہی علاقوں میں قائم ڈسپنسریوں میں تعینات کی اکثریت عطائی ڈاکٹرز نہیں؟ کیا ڈینٹل کلینک میں کام کرنے والے اکثر معمولی لوگ نہیں؟ کتنے ڈاکٹروں سے ملتے ھو جو دس فیصد مریضوں کا مفت علاج کرتے ھیں؟ سرکاری اسکول کے اساتذہ کی بابت آپکے کیا تحفظات ھیں؟ کیا صرف ایک صوبہ سندھ میں تعینات اساتذہ کی مجموعی کیفیت کا آپکو اندازہ ھے؟ میں ایسے اساتذہ کو بھی جانتا ھوں جنہیں سلیس اردو پڑھنا نہیں آتی جو ھفتہ ھفتہ بھر اسکول نہیں جاتے تھے لیکن اب شاہانہ کروفر کے ساتھ میعاد پوری کرکے پینشن وصول کررہے ھیں؟ نجی اسکول اور خاصکر غریب علاقہ جات میں قائم اسکولز کی حالت کا اندازہ لگانا دشوار نہیں، پندرہ سو دو ھزار روپیہ لے کر پڑھانے والی خواتین جس طرح بچوں کا مستقبل تاریک کررہی ھیں وہ کسی بھی معمولی سمجھ بوجھ رکھنے والے شخص سے پوشیدہ نہیں.. دو دو ھزار طلبہ پر مشتمل نجی اسکولز کو آپریٹ کرنے کے لئے یا آبزرو کرنے کے لئے کوئی حکومتی مشنری فعال نہیں … پارلیمنٹ میں براجمان معززان اراکین پارلیمنٹ کے بارے میں آپکی آراء کیا ھیں؟ یہ اراکین پارلیمنٹ مدارس اسلامیہ کے فاضلین نہیں نہ ہی کسی مدرسہ کے فارغ التحصیل مولوی، یہ سب مہنگے ترین اسکولوں، اعلیٰ کالجز اور عالیشان یونیورسٹیوں سے فارغ الدماغ لوگ ھیں، اگر ان میں کوئی جاھل بھی ھو تو غریب نہیں بلکہ اپنے اپنے حلقوں کی رئیس شخصیات ھیں، یہ ملک و قوم کے مسائل حل کیوں نہ کرسکیں؟ یہ تو دنیا بھر میں گھومتے پھرتے رہے، انکی اولادیں بیلجیئم، لندن، امریکا کی درس گاہوں سے تحصیل علم کے بعد ملک و قوم پر حکمرانی کررہی ھیں،،، یہ اس قوم کی تقدیر کیوں نہ بدل سکیں ؟؟؟ پولیس کے محکمہ کے بارے میں تمہارے کیا خیالات ھیں؟ سربراہ پولیس سے لے کر عام سپاہی تک کیا نوے فیصد پولیس کرپشن سے آلودہ نہیں؟؟؟ اس ملک کے سیکولر ازم کے دعویدار لوگوں کے بارے میں کیا خیال ھے؟ کالجز، یونیورسٹی میں تو اکثریت لبرل یا سیکولر ھے انہوں نے ایسے کون سے کارنامے سرانجام دئے جس سے ملک و ملت کا نام بین الاقوامی سطح پر بلند ھوا؟ انہوں نے وہ کون سی افعال و اقوال پر مبنی تحریک برپا کی جس سے قوم کا شعور و خرد بیدار ھوئی؟ سوائے مایوسی کے سیکولر قوتوں نے ھماری عوام کو کیا دیا؟ انسانیت کے لئے ایک غریب آدمی کے لیے سیکولر لابیز کیا سوچ و بچار کررہی ھیں؟ صنعتی زون کی طرف ذرا توجہ کریں، کراچی میں تقریباً نوے فیصد سے زائد گارمنٹس کے کارخانے اور کپاس سے کپڑا تیار کرنے والی کمپنیاں ھیں، گل احمد ٹیکسٹائل ، وائی ٹی ایم جیسی کمپنیوں کے کروڑ پتی مل مالکان کراچی ہی کے باسی ھیں، ان کے ماتحت عملہ کل بھی غربت سے آلودہ تھے اور آج بھی غریب ھیں، ان نجی کمپنیوں کے مالکان نے کبھی خیرات میں بھی اپنی لیبر کو زکوٰۃ، صدقات، عطیات میں سے حصہ نہ دیا، یہ خود عالیشان کوٹھیوں کے مالک ھیں لیکن انکی لیبر ماہانہ تنخواہ سے گھر چلانے کی سکت نہیں رکھتے … ھر طبقہ نوے فیصد کرپٹ افراد پر مشتمل ھے، وسائل کی غیرمنصفانہ تقسیم اور رزق کے سرچشموں پر قابض اشرافیہ علماء دین نہیں. مدارس اسلامیہ کی فارغ التحصیل نہیں… خدارا! کسی ایک طبقہ کی عداوت میں عدل و انصاف کے تقاضوں کو فراموش نہ کریں . علماء دین میں غلطیاں ھیں، یہ بھی مقاصد و اغراض سے ناآشنا ھیں لیکن کسی دوسرے ظالم طبقے کی غلطی اس طبقہ پر نہ لادیں …

ابوالحقائق احمد

کراچی پاکستان