ہمارے ہاں جتنی قوت لوگوں کو یہ باوَر کرانے پہ صَرف کی جاتی ہے کہ:

” عالمی طاقتیں مسلمان حکمرانوں کو استعمال کرتی ہیں ۔ “

اگر اتنی کوشش حکمرانوں کو سمجھانے پر کی جائے تو اُنھیں اسلام کے حق میں اور عالمی طاقتوں کے خلاف ، کام کرنے پر بہ خوبی تیار کیا جاسکتاہے ۔

جو علماےکرام لوگوں کو اللہ و رسول کی خاطر گھر بار ، مال ، جان ، اولاد ، کاروبار تک قربان کرنے کے لیے تیار کرسکتے ہیں ، کیاحکمرانوں کو دین اسلام کے لیے تیار نہیں کرسکتے !!

بالکل کرسکتے ہیں ، سوفی صد کرسکتے ہیں ؛ مگر اس طرف دھیان نہیں دیتے ۔

ہم کسی عہدے دار سے جاکر ملاقت کرنا توہین سمجھتے ہیں ، لیکن کوئی عہدے دار ملنے آجائے تو اُس سے دین کا وسیع کام لینے کے بجائے ، ذاتی یاصرف اپنے مدرسے اور خانقاہ کا کام لینا ہی غنیمت سمجھتے ہیں ۔

مجھے سپیکر پنجاب کے ایک قریبی نے بتایا کہ ہم ایک مشہور پیرصاحب کے پاس دعا کروانے گئے ، تو انھوں نے بیٹھتے ہی کہا:

” میں نے UK اور USA کے لیے اَپلائی کیا تھا لیکن ویزہ نہیں ملا ، آپ کوشش کریں کہ مجھے ویزہ مل جائے ۔ “

جب ہم باہر نکلے تو آپس میں کہنے لگے:

یہ پیرصاحب تو خود ہمارے تعاون کے محتاج ہیں ، ہمارا مسئلہ خاک حل کریں گے ۔

ہمارے سمجھ دار علما اگر دین متین کے وسیع ترمفاد کےلیے حکومتی عہدے داروں سے رابطے بڑھائیں ، اور ان لوگوں سے بھی رابطے میں رہیں جن کے آئندہ برسراقتدار ہونے کی امید ہو ، تو یہ بہت سارے دینی کاموں میں معاون ثابت ہوگا ۔

اگر یہ بات درست بھی ہو کہ:

” ہماری ہر حکومت وہی کرتی ہےجو بیرونی طاقتیں کہتی ہیں ۔ “

تو پھر بھی اس کاحل نکالاجاسکتاہے ، اور حکومت سے اپنی مرضی کا کام بہت اچھے طریقے سے لیا جاسکتاہے ۔

کیایہ بہت بڑا المیہ نہیں کہ لاکھوں جانیں دے کر ، اسلام کے نام پر بننے والا ملک ، ہنوز اسلامی نظام سے محروم ہے !!

اس وقت ہمیں ” تھنک ٹینک “ کی سخت ضرورت ہے ، جو ہمارا شعور بیدار کرے اور ہمارے لیے ترجیحات کا تعین کرے ۔

لقمان شاہد

12/12/18 ء