أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَكَيۡفَ تَكۡفُرُوۡنَ وَاَنۡـتُمۡ تُتۡلٰى عَلَيۡكُمۡ اٰيٰتُ اللّٰهِ وَفِيۡكُمۡ رَسُوۡلُهٗ ‌ؕ وَمَنۡ يَّعۡتَصِمۡ بِاللّٰهِ فَقَدۡ هُدِىَ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ

ترجمہ:

اور تم کیوں کر کفر کرو گے حالانکہ تم پر اللہ کی آیات کی تلاوت کی جاتی ہے اور تم میں اس کو رسول موجود ہے اور جو شخص اللہ (کے دین) کو مضبوطی سے پکڑے گا تو بیشک اسے سیدھے راستہ کی ہدایت دی جائے گی

تفسیر:

پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اور تم کیونکر کفر کرو گے حالانکہ تم پر اللہ کی آیات کی تلاوت کی جاتی ہے اور تم میں اس کا رسول موجود ہے۔ (آل عمران : ١٠١)

اس آیت میں یہ بتایا ہے کہ مسلمانوں کا کفر کی طرف لوٹنا دو وجہ سے بہت بعید ہے ‘ ایک تو یہ کہ ان کے سامنے دن رات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر قرآن مجید نازل کیا جاتا ہے اور اس کی تلاوت کی جاتی ہے ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسلمانوں میں قرآن کریم کی تبلیغ فرماتے ہیں ‘ اور قرآن مجید کا معجز ہونا ان پر بالکل روشن تھا کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بار بار چیلنج کیا کہ اس قرآن کی چھوٹی سی سورت کی مثال بنا کرلے آؤ لیکن انسانوں اور جنوں میں سے کوئی بھی اس چیلنج کا مقابلہ نہیں کرسکا ‘ اور دوسری وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے درمیان رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) موجود تھے اور آپ پر دن رات انواع و اقسام کے معجزات ظاہر ہوتے رہتے تھے اور ان معجزات کو دیکھتے ہوئے کوئی صاحب عقل اور صاحب انصاف رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لائے ہوئے دین سے رو گردانی نہیں کرسکتا تھا۔

اس کے بعد فرمایا جو شخص اللہ (کے دین) کو مضبوطی سے پکڑے گا تو بیشک اسے سیدھے راستے کی ہدایت دی جائے گی۔ (آل عمران : ١٠١)

اس آیت میں صحابہ کرام (رض) کی عظیم فضیلت ہے کیونکہ ان کے لیے دین پر استقامت اور گمراہی سے حفاظت کی دو زبرست چیزیں موجود تھیں، قرآن مجید کا سننا جو ہر قسم کے شک اور شبہ کے ازالہ کے لیے کافی اور وافی تھا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سیرت کے انوار کا مشاہدہ جو ان کے صفاء باطن ‘ پاکیزگی اور کردار کی بلندی کا ہادی اور مرشد تھا اور جب انہوں نے قرآن اور سنت کو مضبوطی سے پکڑ لیاتو وہ صراط مستقیم کے سالک بن گئے۔

اگر یہ سوال کیا جائے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو رفیق اعلی سے جا ملے اور اللہ کی رحمت سے واصل ہوگئے اب بعد کے لوگوں کے لیے دین پر استقامت اور صراط مستقیم کے حصول کا کیا ذریعہ ہے تو میں کہوں گا کہ ان کے ایمان پر استقامت اور گمراہی سے حفاظت کے لیے قرآن مجید موجود ہے ‘ قرآن کریم جس طرح چودہ سو سال پہلے تمام دنیا کے فصحاء اور بلغاء کے لیے چیلنج تھا آج بھی چیلنج ہے ‘ نہ اس وقت اس کی کسی سورت کی کوئی نظیر لاسکا تھا نہ آج لاسکا ہے اور ان کے صفاء باطن ‘ پاکیزگی اور کردار کی بلندی کے لیے قرآن مجید کی تعلیمات موجود ہیں اور اور ان کی توضیح اور تشریح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت میں موجود ہے۔ آپ کی تمام سنتوں کو صحابہ کرام (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اقوال ‘ آپ کے افعال اور آپ کے احوال مذکور ہیں اور جس شخص نے قرآن اور حدیث کو مضبوطی سے پکڑ لیا اس نے اللہ کے دین کو مضبوطی سے پکڑلیا اور جس نے اللہ کے دین کو مضبوطی سے پکڑ لیا تو اس کو بیشک صراط مستقیم کی ہدایت دے دی گئی۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 101