بچوں کی تربیت

بچوں کی تربیت

شاکرعالم

انسانی زندگی کو بنیادی طور پر تین حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ بچپن، جوانی اور بڑھاپا۔ بچپن حقیقت میں بہت ہی شاہانہ اور حسین ہوتا ہے۔اس کی وجہ شاید لاابالی پن، بے نیازی اور بے فکری ہوتی ہے، لیکن شیر خواری جو کہ دو سے ڈھائی سال کا زمانہ ہوتا ہے۔اس مدت میں جسم بڑی تیزی سے نشو و نماپاتا ہے اورطبیعت کے ساتھ اندرونی وبیرونی اعضاو جوارح اور خدو خال میں کافی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔ ایسے حالات میں بچوں کی صحت و تندرستی بہت ہی اہمیت رکھتی ہے۔ چنانچہ والدین کو ان سبھی باتوں پر توجہ دینا نہایت ضروری ہے جو بچے کی صحیح تربیت وپرورش میں معاون ثابت ہوسکتی ہیں۔

بچوں کا کھان پان

چونکہ بچوں کی پرورش و پرداخت ایک اہم فریضہ ہے۔اس لیے وہ والدین سے ضبط نفس، خواہشات کی قربانی اور جان و مال کا ایثار چاہتا ہے۔ خود غرض، نفس پرست لوگ جو اپنی انفرادیت اور جسمانی و ذہنی سہولت کے مکمل طورسے عادی ہوچکے ہیںوہ اس فریضے کی انجام دہی کے لیے کسی طرح راضی نہیں ہو تے، مگر جو ماں باپ اپنے بچوں کی بھلائی اور سچی خوشی چاہتے ہیں ۔اپنے بچوں کو خوش رکھنا اور انھیں کامیاب و کامران بنانے ہی میں فخر وعزت محسوس کرتے ہیں۔وہ اپنے بچوں کے لیے قیمتی سے قیمتی چیز قربان کر دیتے ہیں اور اپنے بچوں کا مستقبل سنوارنے میں سرگرداں رہتے ہیں ،تبھی یہ بچے اپنے ماں باپ کے لیے بڑھاپے کا سہارا، دنیامیں صدقۂ جاریہ اورآخرت میں مغفرت وبخشش کا سامان بنتے ہیں۔

لیکن جو والدین خاص طور سے مائیں اپنے بچوں کی صحیح تربیت نہیں کرتیں۔ اپنا دودھ جو کہ ہر بچے کا پیدائشی حق ہے، نہ دے کر بچوں کو ڈبے کا دودھ پلاتی ہیں۔ بچے کو قدرتی غذائیں دینے کے بجائے بازاری اور ریڈی میڈ بے بی فوڈس وغیرہ کھلاتی ہیں وہ ان بچوں کے حقوق مارنے کے ساتھ ؛ان کی صحت سے بھی کھلواڑکرتی ہیں،کیونکہ جتنی اچھی صحت ماں کے دودھ پینے سے بچوںکو حاصل ہوتی ہے وہ کسی بھی اچھے سے اچھے بازارو کھانے اوردودھ سے حاصل نہیں ہوسکتی ہے۔ اس کے برخلاف بازارو کھانے اور ڈبے کا دودھ پینے سے بچوں کو ذہنی، فکری اور جسمانی طور پر کمزوری لاحق ہوجاتی ہے۔ ماہرڈاکٹروں کا کہنا ہے :

بچے کی صحت و تندرستی سب سے زیادہ اہم ہے۔ اس لیے بچوں کو دی جانے والی خوراک اور غذاؤں پر خاطر خواہ توجہ دینا ضروری ہے۔ ایک نو زائیدہ بچے کے لیے اس کی ماں کا دودھ کائنات میں مناسب اور مقوی غذا ہے۔ماں کا دودھ بچوں کی جسمانی و ذہنی نشو و نما کے لیے بے حد مفیدا ور سود مند ہے۔اس بات پرسبھی ڈاکٹروں کا اتفاق ہے کہ ایک بچے کے لیے ماں کے دودھ سے بڑھ کرکوئی ٹانک نہیں ہے۔ البتہ جب بچہ کچھ بڑا ہو جائے اور چند مہینے کا ہو جائے تو اسے گھر کی بنائی ہوئی چیزوں میں سے تھوڑاتھوڑاکھلانا شروع کردینا چاہیے۔

مثال کے طور پردال کا پانی، کھیر، دلیہ اور روٹی کی اوپری باریک پرت کو پانی یا دال کے پانی میں بھگو کر بچے کے منہ میں دیں اور آہستہ آہستہ سادہ بسکٹ وغیرہ کھلانے کی عادت ڈالیں،بلکہ جیسے جیسے بچے کی عمرمیںاضافہ ہوتا جائے ویسے ویسے اس کی خوراک میں چاول، گیہوں اورجوکے بنے ہوئے کھانے بھی شامل کر سکتے ہیں تاکہ بڑا ہونے کے ساتھ ساتھ بچوں کو اناج اور گھریلو کھانا کھانے کی عادت ہوجائے۔ اسی طرح بکری اور گائے کا نیم گرم دودھ پلانے کی عادت ڈالیں اور اگر بچے کی صحت کچھ زیادہ ہی کمزور اور لاغر ہے تو ماہر تجربہ کار ڈاکٹروں کی رائے لے کر کچھ ویٹامن والی خوراک اور ٹانک والی چیزیں وقت وقت سے ضرور دیں۔

ویسے ماں کے دودھ میں ہر طرح کے ویٹامن خاطر خواہ مقدار میں موجود ہوتاہے ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ماں کے دودھ میں ہر ضروری نیٹوریشن(Nutrition)اور بنیادی مناسب غذائیں قدرتی طور پر عطا فرماتا ہے جو ہر بچے کے لیے بہت مفیداورصحت بخش ہیں۔

بچے کی صحت کے ساتھ اس کی بنیادی ضروریات میں اچھی زبان، عمدہ اخلاق اور اعلی تعلیم کو شمارکرایاگیاہے۔یہ بات ذہن میں رہے کہ ہر بچے کے لیے ماں کی شفقت بھری گود سب سے پہلا اسکول ہے جہاں پہلے پہل اس کی تربیت ہوتی ہے اوریہ حقیقت ہے کہ جس ماحول میں بچہ پھلتا پھولتا اور نشو و نما پاتا ہے اس کا اثراس کے ذہن و دماغ اور جسم پرضرور پڑتا ہے۔ اس لیے بچے کے آس پاس کا ماحول بھی بہتر ہونا ضروری ہے۔ بچے کے والدین اور پرورش کرنے والوں کے علاوہ اس کے خویش و اقارب بھی بچوں کے ذمے دار ہیں۔

چنانچہ بچوں کی تربیت سے لے کر ان کی تعلیم تک بڑا دھیان دیناہوتا ہے،کیونکہ اس دوران بچے ہر اس عمل کا اثر قبول کرلیتے ہیں جسے وہ اپنے اردگرددیکھتے اور سنتے ہیں۔ اگربچہ بد زبانی ،بد اخلاقی اور بد چلنی کامظاہرہ کررہا ہے تو اس کامطلب ہے کہ یہ سب وہ اپنے احباب واقارب سے سیکھ کر کررہا ہے۔ چونکہ بچے جو سنتے ہیں وہی دہراتے اور بولنے کی کوشش کرتے ہیں، اسی طرح جو دیکھتے ہیں وہی کرنا چاہتے ہیں ۔ بچوں کی قوت باصرہ اور سامعہ (دیکھنے اورسننے کی قوت)بچپنے میں تیز ی سے کام کرنے لگتے ہیں اور اسی قدربچوں پر اثرات بھی مرتب ہوتے ہیں۔ اس لیے بچوں کے سلسلے میں جو بھی طریقے اپنائے جائیں اس کے ہرمثبت و منفی پہلو پر نگاہ رکھنا اشدضروری ہے

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.