حدیث نمبر :236

روایت ہے حضرت ابوالدرداء سے فرماتے ہیں کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ سرکار نے آسمان کی طرف نگاہ اٹھائی پھر فرمایا کہ یہ وہ وقت ہے جب علم لوگوں سے اٹھالیا جائے گا حتی کہ کسی چیز پر قادر نہ ہوں گے ۱؎(ترمذی)

شرح

۱؎ علم سے علم دین مراد ہے اور یہ واقعہ قیامت کے قریب ہوگا جب مال بڑھ جائے گا،علم دین گھٹ جائے گا بلکہ فنا ہوجائے گا کہ علماء وفات پاجائیں گے اور پیدا نہ ہوں گے۔اس حدیث سےمعلوم ہوا کہ حضور کی نگاہ صدہا سال بعد آنے والے واقعات کو بھی ملاحظہ فرما لیتی ہے،ان کے لئے معدوم موجود کھلی چھپی سب چیزیں یکساں ہیں۔کہ فرما رہے ہیں ھٰذَا اَوَانٌ جیسے ہم خیال اور خواب میں اگلے پچھلی چیزیں شکلوں میں دیکھ لیتے ہیں۔بادشاہ مصر نے آنے والے قحط کے سال گائے اور بالیوں کی شکل میں خواب دیکھے،انبیاء ان کے طفیل سے بعض اولیاء کی نگاہیں ہمارے خواب و خیال سے زیادہ تیز ہوتی ہیں۔مولانا فرماتے ہیں شعر

اب بلکہ قبل از زادنِ توسالہا مرا ترا بیندبچندیں حالہا

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج میں دوزخیوں کے وہ عذاب ملاحظہ فرمالیئے جو بعد قیامت ہوں گے۔