أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَا تَكُوۡنُوۡا كَالَّذِيۡنَ تَفَرَّقُوۡا وَاخۡتَلَفُوۡا مِنۡۢ بَعۡدِ مَا جَآءَهُمُ الۡبَيِّنٰتُ‌ؕ وَاُولٰٓٮِٕكَ لَهُمۡ عَذَابٌ عَظِيۡمٌۙ

ترجمہ:

اور تم ان لوگوں کی طرح نہ ہوجاؤ جو متفرق ہوگئے اور انھوں نے واضح دلائل آنے کے باوجود اختلاف کیا اور وہی لوگ ہیں جن کے لیے بڑا عذاب ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور تم ان لوگوں کی طرح نہ ہوجاؤ جو متفرق ہوگئے اور انہوں نے واضح دلائل آنے کے باوجود اختلاف کیا اور وہی لوگ ہیں جن کے لیے بڑا عذاب ہے۔ جس دن بعض چہرے سفید ہوں گے اور بعض چہرے سیاہ ہوں گے ‘ سو جن لوگوں کے چہرے سیاہ ہوں گے (ان سے کہا جائے گا) کیا تم نے ایمان لانے کے بعد کفر کیا ؟ سو اب تم عذاب (کامزہ) چکھو اس سبب سے کہ تم کفر کرتے تھے۔ اور جن لوگوں کے چہرے سفید ہوں گے وہ اللہ کی رحمت میں ہوں گے وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ یہ اللہ کی آیتیں ہیں جن کو ہم آپ پر حق کے ساتھ تلاوت فرماتے ہیں اور اللہ جہان والوں پر ظلم کا ارادہ نہیں کرتا۔۔ (آل عمران : ١٠٨۔ ١٠٥)

بنی اسرائیل کے اختلاف کی مذمت کا سبب : 

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اے مسلمانو ! تم ان اہل کتاب کی طرح نہ ہوجانا جو پہلے ایک متحد جماعت تھے اور بعد میں بہت سے فرقوں میں بٹ گئے ‘ حالانکہ ان کے پاس واضح دلائل آچکے تھے جو ان کو صراط مستقیم کی ہدایت دیتے اگر وہ ان کی اتباع کرلیتے ‘ اور اس تفرقہ کا سبب یہ تھا کہ انہوں نے نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا چھوڑ دیا تھا ‘ اس وجہ سے وہ دنیا اور آخرت میں عذاب عظیم کے مستحق ہوگئے ‘ دنیا میں عذاب یہ تھا کہ وہ ایک دوسرے کے خوف میں مبتلا تھے اور مختلف جنگوں میں ان کی ذلت اور رسوائی کا سامنا ہوتا تھا ‘ اور آخرت کا عذاب یہ ہے کہ وہ جہنم میں ہمیشہ رہیں گے ‘ اس آیت کی نظیریہ آیت ہے :

(آیت) ” لعن الذین کفروا من بنی اسرآئیل علی لسان داؤد و عیسیٰ ابن مریم ذالک بما عصوا و کانوا یعتدون۔ کانوا لا یتناھون عن منکر فعلوہ لبئس ما کانوا یفعلون “۔۔ (المائدہ : ٧٩۔ ٧٨)

ترجمہ : بنواسرائیل میں سے جنہوں نے کفر کیا ان پر داؤد اور عیسیٰ ابن مریم کی زبان سے لعنت کی گئی ‘ کیونکہ انہوں نے نافرمانی کی تھی اور وہ حد سے تجاوز کرتے تھے ‘ وہ ایک دوسرے کو اس برائی سے نہیں روکتے تھے جو انہوں نے کی تھی جو انہوں نے کی تھی ‘ یقینا وہ بہت برا کام کرتے تھے۔

کفار پر یہ وعید اس لیے کی گئی ہے کہ وہ دین کے اصول اور عقائد میں اختلاف کرتے تھے ‘ اور اپنی نفسانی خواہشوں کے مطابق عقائد کو ڈھال لیتے تھے ‘ لیکن فروعی اور اجتہادی مسائل میں اختلاف پر یہ وعید نہیں ہے جیسے ائمہ اربعہ کے فروعی مسائل میں مختلف مذاہب ہیں ‘ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن مجید میں بعض آیات کے متعدد معانی ہوتے ہیں جیسے قرء کے معنی حیض اور طہر ہے ‘ اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عبادت کے مختلف طریقے مروی ہوتے ہیں جیسے آپ نے تکبیر تحریمہ کے علاوہ نماز میں رفع یدین کیا اور اس کو ترک بھی کیا ‘ اسی طرح قرات خلف الامام اور آمین بالجہر وغیرہ ‘ اور احادیث کے ثبوت میں بھی اختلاف ہوتا ہے ‘ راویوں کے ضعف اور قوت کے لحاظ سے بھی اختلاف ہوتا ہے اس لیے ایک حدیث ایک امام کے نزدیک مقبول ہوتی ہے اور دوسرے امام کے نزدیک مقبول نہیں ہوتی ‘ مثلا ابو عبیدہ بن عبداللہ بن مسعود (رض) کا فقہاء احناف کے نزدیک اپنے والد حضرت ابن مسعود (رض) سے سماع ثابت ہے اور فقہاء شافعیہ کے نزدیک یہ سماع ثابت نہیں ہے لہذا ابوعبیدہ کی اپنے والد سے روایت احناف کے نزدیک متصل اور مقبول ہوگی اور شافعیہ کے نزدیک مقبول نہیں ہوگی ‘ سو اس طرح آیات کے معانی ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے افعال اور ثبوت روایات میں اختلاف کی وجہ سے مجتہدین کا فروعی مسائل میں اختلاف ہے اور یہ اختلاف جائز اور رحمت کا سبب ہے ‘ اور اس میں ان کے لیے وسعت اور آسانی ہے اور بنو اسرائیل کا اختلاف اس نوعیت کا نہیں تھا وہ دین کے اصول اور عقائد میں اپنی نفسانیت کی وجہ سے ایک دوسرے سے اختلاف کرتے تھے۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 105