کرم کرتے ہی رہنا

از: مولانامحمد شاکر علی نوری ( امیر سنی دعوت اسلامی)

کرم کرتے ہی رہتے ہو کرم کرتے ہی رہنا تم

مدینے میں بلاتے ہو یوں ہی بلاتے رہنا تم

میں نازاں ہو کہ منگتا ہوںتمہاراہی میرے آقا

ہمیشہ جولی بھرتے ہو سدا بھرتے ہی رہنا تم

کرم سے آپ کے جاگا پسر کا بخت خفتہ یوں

دکھایا اس کو طیبہ بھی دکھاتے یوں ہی رہنا تم

تصور میں تخیل میںمدینے آتے جاتے تھے

بلایا اب مدینے میں بلاتے یوں ہی رہنا تم

حضور ی کی تڑپ جن کو ستاتی ہے میرے داتا

انہیں طیبہ بلالیجئے بلاتے سب کو رہنا تم

گراہوں بار عصیاں سے اغثنی یارسول اللہا

گرے کو تم اٹھاتے ہو اٹھاتے یوں ہی رہنا تم

غم عشق محمد میں رہیں آنکھیں ہمیشہ نم

پلاتے جام الفت ہو پلاتے یوں ہی رہنا تم

نظر کے سامنے حاضر ہے آقا آپ کا مجرم

مٹائو اس کے جرموں کو مٹاتے یوں ہی رہنا تم

ملی افطار کی عزت مجھے ماہِ رمضان میں

کھلایا مجھ کو قدموں میں کھلاتے یوں ہی رہنا تم

ملے شب قدر کی نعمت سیدحمزہ کے صدقے میں

لٹاتے ان کا صدقہ ہو لٹاتے یوں ہی رہنا تم

تمہارے جود کاعالم زمانے سے نرالاہے

بلا کر بھیک دیتے ہو ہمیشہ دیتے رہنا تم

چلاہوں پھر مدینے سے لئے ارمان یہ دل میں

بلانا جلد طیبہ میں بلاتے یوں ہی رہنا تم

یہ مانا مجرم وعاصی ہے تمہارا شاکرنوریؔ

نبھاتے اس کو رہتے ہو نبھاتے یوں ہی رہنا تم