میں نے پوچھا

باباجی یہ جو مذہب بتاتے رہتے ہیں کہ فلاں گناہ کرنے سے رزق کم ہوجاتا ہے عملی زندگی میں تو اس کے بالکل الٹ ہے اکثر بڑی برائیاں کرنے والے زیادہ دولتمند اور صاحب حیثیت پائے جاتے ہیں

بابا جی مسکرا پڑے

کہنے لگے یعنی تم دولت کو رزق سمجھتے ہو ؟

میں نے کہا اور نہیں تو کیا ؟

بابا جی کہنے لگے بیٹے رزق صرف دولت نہیں ہے رزق عزت بھی ہے رزق شہرت بھی ہے رزق دوسروں کے دل میں بے لوث احترام بھی ہے

ایک امیر کبیر سیٹھ اور ایک طمطراق والے آفیسر سے زیادہ عزت تو ہمارے دل میں ہمارے استاد کی ہوتی ہے ۔ تم نے کبھی غور کیا کہ ہمارے دل میں کسی کی عزت کون ڈال دیتا ہے ؟

میں نے کہا لیکن باباجی پھر بھی امیر کبیر شخص کے دل میں کوئی حسرت نہیں ہوتی وہ جو چاہے گناہ کرتا رہا لیکن اس کی ہر خواہش پوری ہوتی رہتی ہے پھر مذہب کا یہ کہنا کہ اس کا رزق کم ہوجاتا ہے اس کی سمجھ نہیں آئی

بابا جی کہنے لگے

بیٹا تصویر کا ایک رخ دیکھ کر فیصلہ نہیں کرتے کبھی غور سے جائزہ لینا برائیاں کرنے والے یا گناہ کرنے والے دولتمندوں میں سے اکثر کی حالت یہ ہوتی ہے کہ ان کے سامنے ہر قسم کے مرغن کھانے پڑے ہوتے ہیں لیکن انہیں کولیسٹرول اور ہائی بلڈ پریشر جیسی امراض نے قابو کر لیا ہوتا ہے وہ اپنی آنکھوں کے سامنے پڑے پکوانوں کو چھونے میں بھی خوفزدہ ہوتے ہیں رنگ برنگے کھانوں کی موجودگی میں بھی وہ سبزی اور دال ڈھونڈ رہے ہوتے ہیں

بڑے خوشبودار اور خوشذائقہ کیک اور مٹھائیاں ان کے سامنے پڑی ہوتی ہیں لیکن ڈاکٹر نے انہیں میٹھا کھانے سے منع کر دیا ہوتا ہے اور رزق کم ہونا کسے کہتے ہیں

۔ ان کے پاس مہنگی گاڑیاں ہوتی ہیں لیکن ڈاکٹر انہیں پیدل چلنے کا مشورہ دے دیتا ہے

اور رزق بند ہونا کسے کہتے ہیں

ان کے اعلی ترین قیمتی گھر ہوتے ہیں اور وہ ان کے چوکیدار وں نے سنبھالے ہوتے ہیں وہ اپنا بنک بیلنس شو نہیں کر سکتے کہ محکمہ ٹیکس والے ان کے پیچھے نہ پڑ جائیں ان کے قریبی رشتہ دار ان کے زندگی سے زیادہ ان کی موت کے منتظر ہوتے ہیں تاکہ جلد ان کے اثاثوں پر قابض ہو سکیں

کہنے لگے بتاؤ اور رزق کم ہونا کسے کہتے ہو ؟

بابا جی کہنے لگے ہمیشہ رزق کی کثرت کی نہیں بلکہ رزق میں برکت کی دعا کرو

محمود اصغر چودھری

جمعہ مبارک