أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ضُرِبَتۡ عَلَيۡهِمُ الذِّلَّةُ اَيۡنَ مَا ثُقِفُوۡۤا اِلَّا بِحَبۡلٍ مِّنَ اللّٰهِ وَحَبۡلٍ مِّنَ النَّاسِ وَبَآءُوۡ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَضُرِبَتۡ عَلَيۡهِمُ الۡمَسۡكَنَةُ  ؕ ذٰ لِكَ بِاَنَّهُمۡ كَانُوۡا يَكۡفُرُوۡنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ وَيَقۡتُلُوۡنَ الۡاَنۡۢبِيَآءَ بِغَيۡرِ حَقٍّ‌ؕ ذٰ لِكَ بِمَا عَصَوۡا وَّكَانُوۡا يَعۡتَدُوۡنَ

ترجمہ:

وہ جہاں کہیں بھی پائے جائیں ان پر ذلت لازم کردی گئی ہے بجز اس کے کہ وہ (کبھی) اللہ کی رسی اور (کبھی) لوگوں کی رسی (سے سہارالیں) وہ اللہ کے غضب کے مستحق ہوئے اور ان پر محتاجی لازم کردی گئی یہ اس وجہ سے کہ وہ اللہ کی آیتوں کا کفر کرتے تھے اور نبیوں کو ناحق قتل کرتے تھے، اور اس کا سبب یہ تھا کہ انہوں نے نافرمانی کی اور وہ حد سے تجاوز کرتے تھے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وہ جہاں کہیں بھی پائے جائیں ان پر ذلت لازم کردی گئی ہے بجز اس کے کہ وہ (کبھی) اللہ کی رسی اور (کبھی) لوگوں کی رسی (سے سہارا لیں) وہ اللہ کے غضب کے مستحق ہوئے اور ان پر محتاجی لازم کردی گئی۔ (آل عمران : ١١٢)

مسلمانوں یا غیر مسلموں کے سہارے کے بغیر یہودی ریاست قائم نہیں کرسکتے :

یہودیوں پر اس طرح ذلت لازم کردی گئی ہے کہ وہ کرہ ارض پر ہر خطہ میں ذلیل و خوار ہیں ‘ اور اپنے زور بازو سے انہیں کہیں پر بھی غلبہ حاصل نہیں ہے۔ ماسوا اس کے کہ کہیں مسلمانوں نے ان کو امان دے دی اور کہیں غیر مسلموں نے ان کی گرتی ہوئی دیوار کو سہارا دیا ‘ اس زمانہ میں انگلینڈ ‘ امریکہ اور روس نے باہمی اشتراک سے فلسطین میں اسرائیل کے نام سے ایک یہودی ریاست قائم کردی ہے اور آج کل امریکہ ان کا پشت پناہ ہے ‘ یہ صرف اپنی انفرادی قوت سے کہیں حکومت قائم نہیں کرسکے ‘ ان کا ایٹمی قوت بننا بھی امریکی مدد کی وجہ سے ہے۔

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ یہ ذلت ‘ غضب الہی اور مسکینی مسلط کیے جانے کے مستحق اس لیے ہوئے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی آیتوں کا انکار کرتے تھے اور انبیاء (علیہم السلام) کو ناحق قتل کرتے رہے تھے ‘ اور اللہ کی آیتوں کا انکار اور انبیاء (علیہم السلام) کا قتل یہ اس لیے کرتے تھے کہ یہ ہمیشہ سے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور اللہ تعالیٰ کی حدود سے تجاوز کرتے رہے ہیں ‘ اس آیت سے مسلمانوں کو یہ اطمینان دلایا گیا ہے کہ جن لوگوں پر ہر جگہ خدا کی مار اور لعنت پڑ رہی ہے وہ تمہارا کیا بگاڑ سکیں گے اور جو لوگ غیروں کے سہارے کے بغیر اپنی حکومت قائم نہیں کرسکتے وہ تمہاری حکومت کو کیا نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

مسلمانوں کے لیے یہ اطمینان اور تسلی اور یہودیوں پر غلبہ کی بشارت صرف اس وقت تک ہے جب تک وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اطاعت گزار رہیں اور جب مسلمان اجتماعی طور پر دینی اقدار سے منحرف ہوجائیں اسلامی اقدار پر عمل کرنا ان کے لیے باعث ننگ اور عار ہو (سو آج کے ماڈرن معاشرہ میں کسی مسلمان نوجوان کا ڈاڑھی رکھ لینا ‘ ٹخنوں سے اوپر شلوار پہننا اور سر پر عمامہ باندھنا اسی طرح اس طبقہ میں باعث ملامت ہے اور عورتوں کا برقعہ پہننا ‘ نامحرموں سے پردہ کرنا اور گھر کی چار دیواری میں رہنا اس ترقی یافتہ مہذب معاشرہ میں گنوار پن کی علامت سمجھا جاتا ہے) اور غیر اسلامی تہذیب و ثقافت کو اپنانا ان کے لیے فخر کا باعث ہو ‘ نماز ‘ روزہ ‘ زکوۃ ‘ حج اور دیگر اسلامی احکام ان کو بوجھ معلوم ہونے لگیں تو پھر ان مسلمانوں کا ان لعنتی اور مغضوب یہودیوں کے ہاتھوں مسلسل شکست کھانا کوئی حیرت اور تعجب کی بات نہیں ہے۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 112