*علامہ توصیف اور ابوظہبی حکومت*

عالم اسلام میں ایسی ہزارہا شخصیات ہیں جن کی استقامت وعزیمت جرآت و حق گوئی تاریخ کےصفحات پرجلی حرفوں میں مرتسم اور منقش ہیں

انہوں نے ظلم واستبداد اور کفروباطل کے اندھیروں میں ایمان ویقین کی شمع فروزاں کیا ہے- جب منکرین زکوةنے ادائیگی زکوة کا انکار کرکے دین میں ارتداد کا راستہ نکالا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت ابوبکر صدیق کا انتخاب فرمایا

جب قیصر وکسریٰ کے مغرور حکمرانوں نے اسلام کو چیلنج کیا تو رب قدیر نے حضرت عمرفاروق اعظم کا انتخاب کیا

جب خوارج نے آیات قرآنی کے مفاہیم کو بدلنے کی شرمناک کوشش کی اور طاغوتیت کو پھیلایا تو خلاق کائنات مالک شش جہات نے باب العلم علی مرتضی کا انتخاب کیا-

جب یزیدنے سرکشی کا سراٹھایا انسانیت کو رسواکیا چہروں کا وقار لوٹا تو مسبب الاسباب نے امام حسین جیسے مرد آہن کا انتخاب کیا

اور جب خلق قرآن کا فتنہ اٹھا تو اللہ نے امام احمد ابن حنبل کا انتخاب کیا

اور جب اعتزال کے فتنوں کا پانی سرسے اونچاہوا دین اکبری وجود میں آیا تو اس باطل دین کو مٹانے کے لئے اللہ نے مجددالف ثانی کا انتخاب کیا

جب وہابیت قادیانیت نجدیت نے اپنی فتہ سامانیوں کا مظاہرہ کیا تواللہ نے اس کی سرکوبی کے لئے امام احمد رضا کا انتخاب کیا

جب ایمرجنسی کے دور میں ظالم وجابر حکمراں نے اپنی چیرہ دستیوں کی انتہا کردی تو اللہ نے دین مصطفیٰ کو بچانے کے لئے مصطفیٰ رضا کا انتخاب کیا

اور جب مسائل میں اباحت پسندی آنے لگی نظریات میں جدت طرازی کا رنگ ایسا نمایاں نظر آنے لگا جس سے سلف صالحین کا دامن چھوٹنے لگا، نگاہوں کی حیا فروخت کی جانے لگی، ضمیروں کا سودا ہونے لگا تو اللہ نے تاج الشریعہ کا انتخاب کیا-

بریلی شریف جواہلسنت وجماعت کا مرکز ومحور ہے آج سے تقریبا دوسوسال پہلے ہی سے عالم اسلام کے مسلمانوں کواسلامی تعلمیات سے روشناس کراہاہے

جس نے گلستان سنیت کو خون جگر سینچ کر لالہ زار کیا ہے قوم وملت کا سچاوفادار دین ودیانت کا امین و علم بردار رہاہے ظلم واستبداد کفرو باطل کے سامنے جبال شامخہ بن گیا

اسی تقدس مآب عرش نشان شہر کے بطل عظیم حضرت علامہ توصیف رضاخان بریلوی ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے علمی نسبی حسبی گھرانہ میں جلوہ گرکیا آپ کا سلسلہ نسب صحابئ رسول قیس ملک عبدالرشید تک پہنچتاہے آپ اعلیٰ حضرت کی چوتھی اور صحابئ رسول حضرت قیس ملک عبدالرشید کی انیسویں نسل ہیں

نسب نامہ یہ ہے 👇

خطیب اعظم علامہ توصیف رضاخان بن سیاست صادقہ کے گوہر نایاب حضرت علامہ ریحان رضاخان بن مفسراعظم علامہ ابراہیم رضا خان بن حجة الاسلام مفتی حامد رضا خان بن اعلیٰ حضرت امام احمدرضا خان بن مفتی نقی علی خان بن مفتی رضا علی خان بن مولانا کاظم علی خان بن مولانااعظم خان بن مولانا محمد سعادت یار خاں بن شجاعت جنگ محمد سعیداللہ خان بہادر قندھاری بن عبدالرحمٰن خان قندھاری بن یوسف خان بن دولت خان بن بادل خان بن داؤد خان بن بڑہیج خان بن شرف الدین خان بن ابراہیم خاں بن سیدنا قیس ملک عبدالرشید صحابئ رسول رحھم اللہ اجمین-

تاج السنہ حضرت علامہ توصیف رضا خان اسی عظیم خانوادے کے چشم وچراغ ہیں جہاں اعلیٰ حضرت امام احمدرضا سے نسبت پدری اور نسبت مادری رکھتے ہیں وہیں ایک باکمال خطیب اور باجمال پیر بھی ہیں معزز عالم دین اور روحانی پیشواہیں

اعلیٰ حضرت کی تحریر، حجة الاسلام کی تقریر، مفسراعظم کی تفسیر

مفتئ اعظم کی تنویراورریحان ملت کے خوابوں کی تعبیر کا نام تاج السنہ ہے

تاج السنہ فردواحد کا نام نہیں بلکہ مقتدائے زمانہ کا نام ہے

فیاض ازل کی دی ہوئی نعمت غیر مترقبہ کا نام ہے

آپ نے اپنے زور خطابت سے جہاں زمین محبت کو لالہ زارکیا وہیں مرشد برحق کی حیثیت سے مسند عشق و وفا کو باوقاررکھا- اعلاء کلمة الحق کی راہ میں کبھی بھی کسی مادّی مصلحت کو آڑے نہیں آنے دیاظالم حکمراں کے سامنے احقاق ابطال باطل کے فریضہ کو بحسن وخوبی انجام دیاہےحکومت کے کارندوں کے جبروتشد سے بے خوف ہوکرحق گوئی اور بے باکی کا مظاہرہ کیا مصائب وآلام کی پروانہ کرکے یہ ثابت کردیا-

*آیئنہ جواں مرداں حق گوئی وبے باکی*

*اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی*

۲۰/ اکتوبر ۲۰۱۸ کو ابوظہبی حکومت نے جب آپ کو چند استعمال کرنے والی داوئیوں کو بنیاد پر بناکر گرفتار کیااور عالم اسلام کی نابغئہ روزگار عدیم المثال عبقری ہستی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا کے پوتا ہونے کی وجہ سے خوب ستایااور بےجا سوالات کئے آپ نے جوابات دینے میں مسلک اسلاف سے سرمو تجاوز نہ فرمایا جب کہ عقل کا تقاضا تو یہ تھا کہ گرفتاری دائی رکھنے کی بنیادپرہوئی تھی تودوائی کے متعلق ہی انکواری ہوتی مگرسوالات جو ہوئے ہیں وہ سب عقائد اھل سنت اور معمولات اہل سنت کے متعلق تھے علامہ موصوف نے بے باکانہ اندازمیں جوابات دے کرعزیمت واستقامت کی تاریخ رقم کردی ہے-

چند سوالات وجوابات سپرد قرطاس ہیں –

👈 کیاحضرت محمد ﷺ غیب جانتے ہیں؟

ہاں اللہ کی عطا سے جانتے ہیں

*عالم الغیب فلایظہر علیٰ غیبہ احد الا من ارتضیٰ من رسولہ*

اور بخاری شریف میں ہے

*قام فینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مقاما فاخبرنا عن بدء الخلق حتیٰ داخل اھل الجنة منازل ھم واھل النار منازلھم حفظہ ذالک من حفظہ و نسیہ من نسیہ*

اس حدیث سے روز اول سے لیکر تاقیام قیامت ہر چیز کا بیان ہے

👈انبیاء اور اولیا تصرف واختیا والے ہیں ؟

بالکل اللہ نے ان کو صاحب اختیار بنایا ہے

👈آپ حضرت محمد ﷺ کو حاضرو ناظر مانتے ہیں؟

جی ہاں مانتاہوں *انا ارسلنٰک شاھدا مبشراو نذیرا*

شاھدا کا معنیٰ حاظر وناظراور گواہ کے ہیں اوردعائے جنازہ میں بھی شاھد کا معنی حاضرکے ہیں اور حدیث میں ہےاناجلیس من ذکرنی نیزحضورﷺ نے یہ بھی فرمایا- اقیموصفوکم فانی ارکم من ورائی اپنی صفیں سیدھی رکھو کیونکہ ہم تم کو اپنے پیچھے بھی دیکھتے ہیں اور شفاء شریف میں ہے

*ان لم یکن فی البیت فقل السلام علیک ایہاالنبی ورحمة اللہ وبرکاتہ شرح شفا میں ہے لان روح النبی علیہ السلام حاضر فی بیوت اھل الاسلام*

👈آپ کیاحضرت محمد ﷺ کی تعظیم کرتے ہیں؟

جی ہاں میں تعظیم نبی ﷺ کو عبادت سے مقدم مانتاہوں جیساکہ قرآن میں ہے

*لتومنوا باللہ ورسولہ وتعزروہ وتوقرروہ وتسبحوہ بکرة واصیلا*

بغیر تعظیم نبی کے وہ عبدالشیطان تو ہوسکتا ہے عبد اللہ نہیں ہوسکتا عبداللہ وہی ہے جو عبد مصطفیٰ ہے

آپ عید میلاد النبی مناتے ہیں ؟

الحمد للہ بہت ہی تزک اہتمام کے ساتھ مناتاہوں-

اس کا ثبوت کہا ں سے ہے؟

قرآن سے *قد جاءکم من اللہ نور وکتاب مبین*

آپ معراج النبی کے قائل ہیں؟

جی ہاں قائل ہوں

👈آپ انبیاء اور اولیاء کا وسیلہ لیتے ہیں ؟

اللہ کے محبوب بندوں سے توسل کو جائز سمجھتاہوں اور لیتابھی ہوں

👈آپ قبروں کی پوجا کرتے ہیں ؟

نہیں ہر گز نہیں ہم اللہ کے سوا کسی عبادت نہیں کرتے

👈قبروں کے سجدہ کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں ؟

اگر بہ نیت عبادت ہے تو شرک ہے اور اگر بہ نیت تعظیم ہے تو حرام ہے ہمارے دادا امام اھل سنت نے تو گنبد خضریٰ کے بارے میں تو یہ لکھاہے

*پیش نظر وہ نو بہار سجدکو دل ہے بے قرار*

*روکئے سرکو روکئے ہاں یہی امتحان ہے*

👈آپ قبروں کا طواف کرتے ہیں؟

نہیں ہر گز نہیں

👈آپ جادو کرتے ہیں ؟

نہیں ہم جادو کو حرام جانتے ہیں

👈کیاآپ تقلید کرتے ہیں ؟

ہاں بالکل ہم اعمال میں امام اعظم ابو حنیفہ کے ملقد ہیں

کیا قرآن وحدیث سے اس کا ثبوت ہے؟

*اطیعواللہ واطیعوالرسول واولی الامر منکم-*

اطاعت کرواللہ کی، اوراطاعت کرو رسول کی، اور حکم والوں کی جو تم میں سے ہوں

اس آیت میں اولی الامر سے مراد علمائے مجتہدین ہیں اور اگر بادشاہ اسلام مردالیتے ہو جب بھی تقلید ثابت ہوگئی

اس پر احادیث کثیرہ موجود ہیں

👈بریلوی ایک نیا مذہب ہے؟

نہیں ہر گز نہیں

👈آپ بریلوی مذ ہب کے مبلغ ہیں ؟

بریلوی کوئی مذہب نہیں ہم سواداعظم اہل سنت کے مبلغ ہیں

👈آپ تعویذ کیوں پہنتے ہیں کیا یہ شرک نہیں ہے؟

نہیں ہرگز نہیں بس اس میں شرک، کفر، جادو کے الفاظ نہ ہوں جیساکہ بخاری شریف کتاب الطب میں ہے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا مجھے رسول اللہ صلیٰ تعالیٰ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ نظر کی وجہ سے جھاڑ پھونک کیا جائے – قرآن شریف، حدیث شریف، دوسرے جائز کلمات کو کاغذ یاچمڑے پر لکھ کر شفاکے لئے پہننا بھی جائز ہے

*حدثناعلی بن حجر حدثنااسمٰعیل بن عیاش عن محمد عن محمدبن اسحٰق عن عمروبن عبداللہ بن شعیب عن ابیہ عن جدہ ان رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم قال اذافرغ احدکم فی النوم فلیقل* *اعوذ بکلمات اللہ التامات من غضبہ وعقابہ وشرعبادہ ومن ھمزات الشیطان وان یحضرون* *فانھالن تضرہ قال وکان عبداللہ بن عمرو یعلمھامن بلغ من ولدہ ومن لم یبلغ منھم منھم کتبھا فی صک ثم علقھا فی عنقہ ( الترمذی کتاب الدعوات رقم الحدیث ۳۵۲۸*

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نیند میں ڈر جاتاہو تو وہ یہ *کہے:اعوذ بکلمات اللہ التامات من غضبہ وعقابہ وشرعبادہ ومن ھمزات الشیطان وان یحضرون.* حضرت عبداللہ بن عمر اپنے سمجھ داربچوں کویہ کلمات سکھاتےتھے اورناسمجھ بچوں کے گلے میں یہ کلمات لٹکادیتے تھے – اس حدیث کو بہت سارے محدثین نے مختلف سند اورمختلف متن کے ساتھ نقل کیا ہے کیاان تمام فقہا اور محدثین کو شریعت کا علم نہیں تھا-

ایام اسیری کی روداد بہت اذیت ناک ہے یہاں تک کہ اگرآپ قرآن شریف کی تلاوت کرتے اور دعائے حصار پڑھتے تو وہ لوگ کہتے یہ جادو ہے کبھی قرآن شریف چھین کر رکھ دیتے مگر آپ اسلاف کرام کی سنت کو اپناتے ہوئے برملااظہارحق کرتے رہے یہ شیرانہ وصف آپ کو ورثے میں ملی ہے اللہ کا کرم ہوا اور ۲۸/ اکتوبر ۲۰۱۸ کو رہائی مل گئی

مجھے حضرت کی گرفتاری کا بےحد افسوس ہے *ابوظہبی حکومت سے ہمارا مطالبہ ہے وہ جلد از جلد حضرت کی بےجا گرفتاری پر معافی نامہ شائع کرے* –

✍ *عبدالقادرنوری*

*بانی مدرسہ حضرت سلطان الشھداء بہرائچ شریف*

*خطیب وامام سنی رحمانیہ جامع مسجد ممبئی*

*۲۸/ربیع النور ۱۴۴۰*