أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

لَنۡ يَّضُرُّوۡكُمۡ اِلَّاۤ اَذًى‌ؕ وَاِنۡ يُّقَاتِلُوۡكُمۡ يُوَلُّوۡكُمُ الۡاَدۡبَارَ ثُمَّ لَا يُنۡصَرُوۡنَ

ترجمہ:

وہ تمہیں زبانی اذیت دینے کے سوا اور کوئی ضرر نہیں پہنچا سکیں گے اگر وہ تم سے جنگ کریں تو تمہارے سامنے سے پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے پھر ان کی مدد نہیں کی جائے گی

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وہ تمہیں زبانی اذیت دینے کے سوا اور کوئی ضرر نہیں پہنچا سکیں گے ‘ اگر وہ تم سے جنگ کریں تو تمہارے سامنے سے پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے، پھر ان کی مدد نہیں کیجائیگی۔ (آل عمران : ١١١)

مدینہ کے یہودیوں کی ذلت اور خواری کا بیان : 

” اذی “ کا معنی دکھ اور تکلیف ہیں ‘ اس آیت میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ کے یہودیوں کا ذکر ہے ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابتداء ان کے مختلف قبائل سے جو معاہدے کیے تھے وہ ان کی عہد شکنیوں اور شرارتوں کی وجہ سے ختم کردیئے گئے اور بعد میں یہ اپنی ریشہ دوانیوں اور جرائم کی سزا میں قتل کردیئے گئے یا جلاوطن کردیئے گئے ‘ اور دوسرے قبائل سے جو انہوں نے معاہدے کر رکھے تھے وہ قبائل بھی آہستہ آہستہ اسلام کے زیر اثر آگئے ‘ اور دوسرے قبائل سے جو انہوں نے معاہدے کر رکھے تھے وہ قبائل بھی آہستہ آہستہ اسلام کے زیر اثر آگئے ‘ سو وہ معاہدے بھی عملا بےاثر ہو کر رہ گئے اور جس درخت کی تمام جڑیں کٹ چکی ہوں وہ محض تنے کے سہارے کب تک کھڑے رہ سکتا ہے، اس آیت میں مدینہ کے یہودیوں کی اسی حالت کا نقشہ کھینچا گیا ہے کہ اب ان کی جڑ کٹ چکی ہے اور ان کے اندر اتنی قوت نہیں رہی کہ وہ تمہیں کوئی بڑا نقصان پہنچا سکیں۔ وہ زیادہ سے زیادہ یہ کرسکتے ہیں کہ اپنے دل کی بھڑاس نکالنے کے لیے تم کو اپنی زبانوں سے کچھ دکھ اور تکلیف پہنچائیں۔ مسلمانوں کو طعن وتشنیع کریں ان کے خلاف افتراپردازی اور تہمت تراشی کریں یا کلمات کفریہ کہیں مثلا یہ کہ عزیر ابن اللہ ہیں ‘ یاتورات کی عبارات میں تحریف کریں ‘ یا کمزور مسلمانوں کے دلوں میں اسلام کے خلاف شکوک اور شبہات ڈالیں ‘ اس سے زیادہ مسلمانوں کو کوئی جانی یا مالی نقصان پہنچانے کی سکت اب ان میں نہیں رہی ‘ اور بالفرض یہ اگر کسی مقابلہ میں مسلمانوں سے لڑنے کے لیے نکلے تو پیٹھ دکھائیں گے اور ایسے ذلیل و خوار ہوں گے کہ کسی طرف سے بھی ان کی مدد نہیں کی جائے گی۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 111